0

سب اکٹھے ہو کرکہتے ہیں ہمیں این آر او دے دو ورنہ حکومت نہیں چلنے دیں گے، عمران خان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جب سے ہم آئے ہیں سارے اکٹھے ہو کرکہتے ہیں کہ ہمارے لئے علیحدہ قانون بنا دو، ہمیں این آر او دے دو، ایک ہی بلیک میل کررہے ہیں کہ نہیں تو ہم آپ کی حکومت نہیں چلنے دیں گے اور یہی جنرل مشرف نے اس ملک پر سب سے بڑا ظلم کیا، ایک تو آئین توڑا اور لیکن جو سب سے بڑا ظلم کیا این آر اودے دیا طاقتور کو، پیسہ تو جنرل مشرف کا نہیں تھا، پیسہ تو قوم کا چوری ہوا تھا، اس کے پاس تو حق ہی نہیں تھا کہ کہے میں نے آپ کو معاف کیا۔ جو رول آف لاء، قانون اور انصاف کی جو جدوجہد ہے وہ ایک جاری جدوجہد ہے، معاشرہ مسلسل اس کی جدوجہد کرتا ہے اور جو معاشرہ قانون کی بالادستی قائم کرلیتا ہے وہی معاشرہ خوشحال ہوتا ہے۔ جب ملک میں انصاف ہوتا ہے تو سرمایا کاری اور خوشحالی آتی ہے۔ان خیالات کااظہار وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطا ب کرتے ہوئے کیا۔ ڈسٹرکٹ کورٹس کی عمارت 93کورٹس پر مشتمل ہو گی۔ تقریب سے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے بھی خطاب کیا۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں نے جب25سال پہلے اپنی پارٹی کا آغاز کیا تو اس کا نا م انصاف کی تحریک رکھا وہ کیوں رکھا کیونکہ میں سیاست کا بھی طالب علم تھا اور تاریخ کا بھی طالب علم تھا اور بہت پہلے میں اس نتیجہ پر آگیا کیونکہ میں پیشہ وارانہ کرکٹ باہر کھیلتا تھا اور دنیا میں نے دیکھی ہوئی تھی۔ سیاست میں تو میں آیا ہی ایک وجہ سے تھا کہ ہمارا ملک کیوں پیچھے رہ گیا ہے، ہم دیکھتے تھے کہ دنیا آگے جارہی ہے اور پاکستان ایک وقت میں آگے جاتے ہوئے نیچے آنا شروع ہو گیا۔ 60کی دہائی میں پاکستان اس سارے خطہ اور ایشیاء میں چوتھے نمبر پر تھا، جس کو دنیا دیکھتی تھی، ترقی کررہا تھا ترقی کا ماڈل تھا، ہماری کوالٹی کی یونیورسٹیاں تھیں، سرکاری ہسپتالوں میں اچھا علاج تھا میں اور میری فیملی سرکاری ہسپتال میں پیدا ہوئے تھے۔پھر ہم نے دیکھا کہ ہمارا ملک آہستہ، آہستہ اوپر سے نیچے جانا شروع ہو گیا اور وہ ملک جنہوں نے پاکستان سے متاثر ہو کر اپنا ترقی کا ماڈل لے کرآئے تھے وہ اوپرجاناشروع ہو گئے۔ ہمارے سامنے سنگا پور جس کی حیثیت کوئی نہیں تھی، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستان اور سنگاپور کا کوئی مقابلہ ہو گا، انڈونیشیا کا وہ سب آگے نکل گئے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں تو وہ خوش قسمت انسان تھا جس کو اللہ تعالیٰ نے سب کچھ دے دیا تھا اور مجھے تو سیاست میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی لیکن اس لئے آیا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اگر ہماری طرح کے لوگ جن کو سیاست میں آنے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ جدوجہد نہیں کریں گے تو ملک جس طرف جارہا تھا اور1985کے بعد گزشتہ30سال میں ملک بڑی تیزی سے نیچے گیا ہے، ہر چیز میں دنیا آے نکل گئی،بنگلادیش جب بنا تھا تو مجھے ابھی بھی یاد ہے کہ لوگ ڈرائنگ روم میں کہتے تھے کہ بنگلادیش کا مغربی پاکستان پر بڑا بوجھ پڑا ہوا ہے، علیحدہ ہو گیا تو ہم تیزی سے آگے بڑھیں گے، بنگلادیش بھی آگے نکل گیا۔ بھارت جس کو 80کی دہائی میں ہندو ریٹ آف گروتھ کہتے تھے وہ آگے نکل گیا، میں جب بھارت سے کرکٹ کھیل کر پاکستان آتا تھا تو لگتا تھا کہ میں غریب ترین ملک سے امیر ترین ملک میں آگیا ہوں، میں نے کبھی اتنی غربت نہیں دیکھی تھی جو میں نے بھارت میں دیکھی، یہ سارے ملک ہمارے سے آگے نکل گئے۔ باقی سارے سمپٹمز ہیں ایک چیز کے نہ ہونے کی وجہ سے رول آف لاء، جو بھی قوم آگے بڑھتی ہے ادھر قانون کی حکمرانی ہوتی ہے، جو بھی بنانا ریپلکس ہوتی ہیں وہ وسائل کی کمی سے نہیں بنتیں، بنانا ریپبلکس کے اندر قانون نہیں ہوتا اور طاقت کی حکمرانی ہوتی ہے ہمارے نبی ﷺ نے اس لیے میں لوگو ں کو سمجھاتا ہوں کہ سٹڈی کریں کہ کیا مظہر تھا، مدینہ کی ریاست کا مظہر تھا،یہ تاریخی واقعہ ہے، باقی سارے اللہ کے پیغمبر ان کا تاریخ میں ذکر نہیں، یہ تاریخ کے اندر ہے کہ کس دن ہجرت کی، کس دن فتح مکہ ہوا اور کس دن جنگ بدر ہوئی یہ سب کچھ تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ایک مظہر ہے کہ عربوں کی وہ قوم جس کی کوئی حیثیت ہی نہیں تھی انہوں نے اتنی تیزی کے ساتھ دنیا کی امامت کی یہ تاریخ کا حصہ ہے، اس کی بنیادی چیز رول آف لاء تھا، چار میں دو خلیفہ وقت عدالت کے اندر پیش ہوئے، قانون کے نیچے تھے۔ ہمارے نبیﷺ کی احادیث جن کو سکولوں میں پڑھانا چاہیئے، انہوں نے کہا کہ تمہارے سے پہلے بڑی قومیں تباہ ہوئیں جدھر طاقتور کے لئے ایک قانون اور کمزور کے لئے دوسرا یعنی جدھر طاقت کی حکمرانی ہو، اور پھر انہوں نے کہا کہ میری بیٹی بھی جرم کرے گی تو اس کو سزا ملے گی، کوئی قانون سے اوپر نہیں ہے، یہ ہے پاکستان کا المیہ، ہمارے ملک میں یہ دو پاکستان شروع ہو گئے، ایک پاکستان کے لئے علیحدہ سیٹ اپ اور رولز اور دوسروں کے لئے علیحدہ۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ملک کی قیادت کو کوئی فکر نہیں تھی کہ لوگوں کو انصاف ملے یا نہ ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اپنے آپ کو جرائم کی بین الاقوامی عدالت کے نیچے نہیں ڈالنا چاہتا، وہ قانون سے اوپر رہنا چاہتا ہے، طاقتور ہمیشہ قانون سے اوپر رہنا چاہتا ہے وہ قانون کے نیچے نہیں آنا چاہتا، لیکن جو مہذب معاشرہ ہے وہ ان کو قانون کے نیچے لے کرآتا ہے، جب سے ہم آئے ہیں جو ہماری جدوجہد ہوئی ہے وہ کیا جدوجہد ہے، سارے اکٹھے ہو کرکہتے ہیں کہ ہمارے لئے علیحدہ قانون بنا دو، ہمیں این آر او دے دو، ایک ہی بلیک میل کررہے ہیں کہ نہیں تو ہم آپ کی حکومت نہیں چلنے دیں گے اور یہی جنرل مشرف نے اس ملک پر سب سے بڑا ظلم کیا، ایک تو آئین توڑا اور لیکن جو سب سے بڑا ظلم کیا این آر اودے دیا طاقتور کو، پیسہ تو جنرل مشرف کا نہیں تھا، پیسہ تو قوم کا چوری ہوا تھا، اس کے پاس تو حق ہی نہیں تھا کہ کہے میں نے آپ کو معاف کیا۔ چیف جسٹس صاحب میں 2007میں اس تحریک میں اس لئے شامل تھا کہ یہ ہمارا نظریہ تھا، میں 25سال پہلے کہہ رہا تھا کہ ملک تو تب آگے بڑھے گا جب ملک میں آزاد عدالتیں آئیں، مجھے بڑا فخر ہے کہ ہم نے اس جدوجہد میں شرکت کی او روکلاء نے قربانیاں دیں اور جس طرح وہ سامنے آئے وہ بڑی زبردست جدوجہد تھی وہ ایک جمہوری جدوجہد تھی وہ درحقیقت قانون کی حکمرانی کی جدوجہد تھی، ایک ملٹری ڈکٹیٹر کو کہہ رہے تھے کہ آپ یہ نہیں کرسکتے، آپ چیف جسٹس کو اس طرح ہٹا نہیں سکتے تھے لیکن مجھے بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اس جدوجہد کے نتیجہ میں نتائج آنے چاہیں تھے مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے وہ نہیں آئے وہ ایک اور کہانی ہے کہ جدھر اس کو جانا چاہیئے تھا وہ ادھر نہیں گئی، لیکن جو رول آف لاء، قانون اور انصاف کی جو جدوجہد ہے وہ ایک جاری جدوجہد ہے، معاشرہ مسلسل اس کی جدوجہد کرتا ہے اور جو معاشرہ قانون کی بالادستی قائم کرلیتا ہے وہی معاشرہ خوشحال ہوتا ہے۔ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ ہمارے بچے آٹھویں، نویں اور دسویں کلاس کے اندر پوری سیرت النبیﷺ پڑھیں گے، ہم یہ ان کو اس لئے پڑھانا چاہتے ہیں کہ جو تاریخ میں یہ جو مظہر تھا اس کو اسٹڈی کیا جائے، بچوں کو تاریخ کاپتہ ہو، یہ کوئی گریک پتھالوجی نہیں ہے بلکہ یہ تاریخ کا حصہ ہے کہ کیسے ایک قوم ٹرانسفارم ہوتی ہے۔ وہ کیا کردارتھا کہ انہوں نے انسانوں کے کردار بدل دیئے اور پھر کن اصولوں کے اوپر وہ قوم کھڑی ہوئی تھی اور آپ ان اصولوں کو پڑھ لیں تو جو بھی آج دنیا میں جو بھی خوشحال معاشرہ ہے وہ ان اصولوں پر کھڑا ہے، خوشحالی آہی نہیں سکتی جب تک آپ میں قانون کی حکمرانی نہ ہو۔ پاکستان کا سب سے بڑا اثاثہ آج بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں، ہم اس کا احساس نہیں کرتے، میں 25سال سے کہہ رہا ہوں کہ یہ بہت بڑا اثاثہ ہیں، جو90لاکھ پاکستانی باہر بیٹھے ہوئے ہیں ان کی جی ڈی پی پاکستان کی 22کروڑ آبادی کی جی ڈی پی کے برابر ہے، ان کے جو ڈالرز ہیں ان کو پاکستان کی ضرورت ہے، یہ پوچھیں وہ دالرز پاکستان میں کیوں نہیں آتے، وہ بیچارے جا کر پیسہ کماتے ہیں اور ایک پلاٹ لیتے ہیں، ایک دوسال کے بعد واپس آتے ہیں اس کے اوپر قبضہ ہو جاتا ہے اور یہاں کیوں قبضہ گروپ ترقی کررہے ہیں، قبضہ گروپ اس لئے پھل پھول رہے ہیں کہ اگر زمین پر قبضہ کر لیں تو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں تو اس کے نتائج ملنا تقریباً ناممکن ہے۔ جب آپ کو انصاف نہیں ملتا تو تب طاقتور قبضہ گروپ معاشرے میں برقراررہتے ہیں۔ انگلینڈ میں کیوں قبضہ گروپ نہیں ہیں میں نے وہاں 18،19سال گزارے ہیں، کیوں یورپ میں قبضہ گرو پ نہیں ہیں، کیونکہ وہاں قانون ہے۔ چیف جسٹس صاحب میں آپ کو داد دیتا ہوں کہ آپ نے بڑے زبردست فیصلے دیئے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے کے لئے ضروری ہیں۔ ہماری حکومت عدلیہ کو سہولیات فراہم کرنے میں پوری مدد کرے گی۔ یہ جو ہم نے93ضلعی عدالتیں بنائی ہیں یہ بہت پہلے بن جانی چاہیں تھیں اور یہ اس بات پر زور ہے کہ انصاف ہمارے لئے ترجیح ہے اور انصاف کمزور کو چاہیئے ہوتا ہے، طاقتور انصاف نہیں چاہتا وہ قانون سے اوپر رہتا ہے، کمزور کو طاقتور سے بچاؤ درکارہوتا ہے۔ عام آدمی کی ترقی کے لئے اسے انصاف دینا بھی ضروری ہے اور جب انصاف جب ملتا ہے جب ایک معاشرہ آزاد ہو جاتاہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست مدینہ میں خوشحالی پہلے نہیں آئی تھی، پہلے انصاف آیا تھا پھر خوشحالی آئی تھی۔ جو ملک میں ترقی اور سرمایاکاری آتی ہے وہ تب آتی ہے جب آپ کانظام انصاف تحفظ فراہم کرتا ہے اور کنٹریکٹ پر عملدرآمد ہوتا ہے۔ میں سی ڈی اے چیئرمین عامر احمد علی اور ایف ڈبیو او کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتا ہوں کہ وہ عدالتوں کی تعمیر کے اخراجات ساڑھے چھ ارب روپے سے ڈیڑھ ارب روپے پر لے آئے ہیں، عموماً تو یہ ہوتا ہے ایک ارب سے شروع ہو کر چھ ارب روپے تک پہنچتا ہے، آپ نے چھ ماہ کا ٹائم فریم دیا ہے اور آپ نے چھ ماہ میں اس کو مکمل کرنا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں