0

صوابی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بدعنوانی پر ان کے خلاف تحقیقات کا حکم

صوابی (نمائندہ مانند)وزیراعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان نے صوابی یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر سید مکرم شاہ کی جانب سے صوابی یونیورسٹی اور ویمن یونیورسٹی صوابی میں مبینہ غیر قانونی بھرتیوں اور مالی بدعنوانی پر ان کے خلاف تحقیقات کا حکم دے دیا ہے جس پر پراوینشل انسپکشن ٹیم نے کاروائی کا آغاز کردیا۔ سید مکرم شاہ کو جولائی 2020 میں صوابی یونیورسٹی کا پرو وائس چانسلر بنایا گیا جب ان سے دو سینیئر ڈین اور پروفیسرز موجود تھے اور انھیں جونیئر ترین ہونے کے باوجود یونیورسٹی آف صوابی کے وائس چانسلر کا قائم مقام چارج دے دیا گیا جو یونیورسٹی ایکٹ کی کھلی خلاف ورزی تھی کیونکہ ڈاکٹر مکرم شاہ نے 2015 میں ڈاکٹریٹ کیا اور ان کی پروفیسرشپ پر بھی کافی سوالات ہیں، سپریم کورٹ کے واضح احکامات ہیں کہ مستقل وی سی کی عدم موجودگی کی صورت میں سینیئر ترین پروفیسر کو ہی قائم مقام وی سی بنایا جائے مگع مکرم شاہ کو جونئیر پروفیسر ہونے کے باوجود اتنی بڑی یونیورسٹی کا چارج دے دیا گیا۔ انھوں نے قائم مقام وی سی ہونے کے باوجود مستقل وی سی کے تمام اختیارات استعمال کئے جو یونیورسٹی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی تھی، اپنے رشتہ داروں سمیت سینکڑوں افراد کو بھرتی کیا، سنڈیکیٹ کے اجلاس کیے۔حال ہی میں ان کو ویمن یونیورسٹی صوابی کا بھی چارج دے دیا گیا حالانکہ وہ اپنی یونیورسٹی میں بھی ایکٹنگ وی سی تھے مگر اب وہ ویمن یونیورسٹی صوابی میں بھی کھل کر اپنے اختیارات استعمال کر رہے ہیں جو یونیورسٹی ایکٹ کی سنگین خلاف ورزی ہیں، یونیورسٹی فنڈز سے اپنی ذاتی تشہیر کے لئے اشتہارات دے رہے ہیں اور اپنے صوابی یونیورسٹی کی ٹیم سے ویمن یونیورسٹی کو چلا رہے ہیں۔ انھوں نے ایک 20 گریڈ کے سینیئر ترین پروفیسر کو ہٹا کر ایک جونیئر ترین ڈپٹی رجسٹرار کو یونیورسٹی کا رجسٹرار بنادیا ہے جو ان کے تمام غیر قانونی کاموں بشمول غیر قانونی بھرتیوں میں ان کا ساتھ دے رہی ہیں۔ مزکورہ خاتون نبیلہ تبسم کا تعلق سائنس سے ہے اور انھیں یونیورسٹی انتظامیہ کا کوئی تجربہ نہیں مگر اس کے باوجود مکرم شاہ نے نبیلہ تبسم کو نہ صرف رجسٹرار بنادیا بلکہ کچھ دن بعد اسی خاتون کو کنٹرولر امتحانات بھی تعینات کردیا ہے جو میرٹ کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ ایک 18 گریڈ کی نا تجربہ کار خاتون کو یونیورسٹی رجسٹرار اور کنٹرولر امتحانات کے عہدے پر تعینات کردینا نہ صرف ایک سنگین غیر قانونی فعل ہے مگر اس سے جامعہ میں غیر قانونی بھرتیوں، مالی بدعنوانی اور غیر قانونی ڈگریوں کی فراہمی کی راہ ہموار کی جارہی ہے جس کو روکنا لازم ہوگیا ہے۔مکرم شاہ کی جانب سے پرانے دور کے اساتذہ کی تنخواہیں بھی روک دی گئی تھیں جو اب دو ماہ بعد جاری ہوئی ہیں۔ان کی جانب سے پرانے دور میں تعینات ملازمین کو ہراساں کرنے کا بھی سلسلہ جاری ہے اور وہ چند ملازمین کو غیر قانونی طورپرکوئی وجہ بتاتے بغیر برطرف بھی کرچکے ہیں۔ ان تمام سنگین غیر قانونی اقدامات پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے سید مکرم شاہ کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی ہے۔صوبائی انسپکشن ٹیم نے وزیراعلیٰ کے حکم پر یونیورسٹی آف صوابی اور ویمن یونیورسٹی کی رجسٹرار سے تمام تفصیلات طلب کرلیں۔مراسلے کے مطابق تمام بھرتیوں کی تفصیلات کے ساتھ یونیورسٹی کے افسر کو پیش ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں