0

حکومت نے صحافیوں کو بولنے پر سخت سزائیں دینے کے لیے کالے قانون کا آرڈننس تیار کرلیا

اسلام آباد( بیور رپورٹ)اتھارٹی میڈیا سے متعلقه کسی بھی شخص کو کسی بھی وقت طلب کر کے باقاعدہ یا بالواسطہ ملوث کسی فرد ، لائسنس یافتہ یا کسی بھی خبر کے متعلقہ دستاویز ی ثبوت طلب کر سکتی ہے ، مقرره دنوں میں ثبوت فراہم نہ کرنے پر رپورٹر، سب ایڈیٹر ، این ایل ای ،ایڈیٹر ، ڈائریکٹر نیوز، اخباریا چینل کے مالک کو جرمانے یادیگر صورت میں سزا ہوگی۔

اتھارٹی کی ذیلی کونسوں کو بھی سول عدالتوں کےاختیارات

 • کونسل کو کچھ معاملات میں سول عدالت کے اختیارات حاصل ہوں گے:

 • کونسل کو مندرجہ ذیل معاملات کے سلسلے میں مجموعہ ضابطہ دیوانی مجریہ 1908 کے تحت مقدمہ چلانے کے دوران سول عدالت کے تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔

 • کسی بھی شخص کو طلب کرنا اورحاضر کرنا اور کسی بھی معلومات کی فراہمی اور کس بھی دستاویز کی دستیابی ذاتی سماعت کے لیے قابل استعمال ہو۔

 • ذیلی شق 7 کے مطابق اتھارٹی کی قائم کرده کونسل شکایات کی وصولی کے 20 دن کے اندر اتھارٹی سے کسی بھی میڈیا سروس پرووائیڈریا لائسنس یافتہ کے خلاف آرڈیننس کی دفعات یا پروگرام اور اشتہار کے لیے منظور شدہ دفعات کی خلاف ورزی پر سزا اور جرمانہ عائد کرنے کی سفارش کرسکتی ہے۔

بغیر وجه بتائے شوکاز نوٹس کرنے یا کام سے روکنے کا اختیار•  اتھارٹی تحریری طور پر حکم جاری کر کےبغیر وجہ بتائے کسی بھی شخص ، پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا یا ڈیجیٹل میڈیا سروس آپریٹر یا لائسنس یا پلیٹ فارم کو شوکاز نوٹس جاری کرے گی، سماعت کے مواقع برداشت کرتے ہوئے ، ایک مدت کے لیے کام سے روک دے گی

 •  اتھارٹی یا چیئرمین کمیٹی کی سفارش پر تحریری طور پر حکم دے سکتے ہیں  ( i )پچیس ملین (ڈھائی کروڑ) روپے

تک جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے ۔

عوامی مفاد کے نام پر اداره بند کرنے اورمال ضبط کرنے کا اختیار

 • شق 34 کی ذیلی شق (5) کے سیکشن 29 کی ذیلی دفعہ (5) یا اس آرڈیننس کی کسی بھی دوسری شق کے باوجود ، جہاں اتھارٹی عوامی مفاد میں ضرورت کی بنا پر نوٹس کے بغیر ذیلی دفعہ (3) کے تحت کارروائی کرتی ہے ، اتھارٹی یا چیئرمین ، جیسا کہ معاملہ ہو ، براہ راست تحریری طور پر میڈیا اسٹیشن کا سامان ضبط کرنے یا لائسنس یافتگان کے احاطے کو سر بمہرکرنے کا حکم دے سکتا ہے اور اتھارٹی یا چیئرمین کسی بھی نشریاتی یاڈسٹری بیوشن کے نیٹ ورک کو بند کرنے کی ہدایت کرسکتا ہے۔

 •  ٹریبونل 45 (پینتالیس) دن کی مدت میں اپیل کا فیصلہ کرے گا۔ (اس کا مطلب یہ ہے کہ اپیل ہائی کورٹ میں نہیں کی جا سکتی)

نچلی عدالتوں کے دائرہ اختیار ختم:۔

 • شق 37 کے مطابق اس آرڈیننس کی خلاف دفعات کے تحفظ میں ، صرف سپریم کورٹ آف پاکستان کو کسی بھی کام یا فیصلے یا آرڈیننس کے تحت کی جانے والی کسی کارروائی کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کا اختیار ہوگا اور کسی عدالت کی جرات نہیں ہوگی۔

حشیانہ سزائیں اورجرمانے: –

 • شق 40 کے مطابق کوئی بھی لائسنس یافتہ یا اندراج شدہ ادارہ ،ڈیکلریشن اور این او سی ہولڈر یا کوئی بھی شخص جو اس آرڈیننس کی کسی شق کی خلاف ورزی کرتا ہے یااس کی اعانت کرتا ہے وہ جرم ثابت ہونے پر تین سال کی سزا ، پچیس ملین (ڈھائی کروڑ) روپے جرمانہ یا دونوں سزائوں کا مستحق ہوسکتاہے۔

  • جہاں اس آرڈیننس کی کسی بھی شق کی خلاف ورزی کی خلاف ورزی ، یا اس کی اعانت کسی ایسے شخص کے ذریعہ کی گئی ہو جو لائسنس یا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ، ڈیکلریشن یا این او سی نہیں رکھتا ہو ، اس طرح کی خلاف ورزی پر پانچ سال قید کی سزایا اڑھائی کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں پاسکتا ہے ۔

قواعد بنانے کا لامتناہی اختیار:۔

شق 48 کے مطابق اتھارٹی سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن کے ذریعے اس آرڈیننس کے مقاصد کو انجام دینے اور “کسی بھی وقت کسی کی بھی گردن مروڑنے کیلئے جیسے چاہے “قوانین بناسکتی ہے۔

مروجہ قواعد کی منسوخی : –

 • شق 49 میں پریس کونسل آرڈیننس ، 2002 ،پریس ، اخبار ، نیوز ایجنسیوں اور کتب کی رجسٹریشن کاآرڈیننس ، 2002 ،

اخباری ملازم (خدمت کی شرائط/ کنڈیشنز آف سروس) ایکٹ 1973 ،پاکستان الیکٹرانک میڈیا آرڈیننس 2002 جس میں پیمرا ترمیمی ایکٹ 2007 کے تحت ترمیم کی گئی اور موشن پکچرز آرڈیننس 1979 منسوخ کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں