0

ڈی جی فیڈرل سیڈز سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ نے چترال میں پیاز کا بیج تیار کرنے والے ایم کے ایس کا دورہ

چترال (گل حماد فاروقی) ڈایریکٹر جنرل  فیڈرل  سیڈز سرٹیفیکییشن اینڈ  رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ  وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اسلام آباد نے چترال میں پیاز کی بہترین بیج فراہم کرنے والے ادارے کا دورہ کیا۔ ایم کے ایس کے سجاد علی  اور منیجر آفتاب احمد نے ان کو محتلف شعبے دکھائے  جہاں محتلف مراحل سے گزر کر پیاز کا ایسا بیج تیار کی جاتی ہے جو نہ صرف  پورے ملک میں فراہم کیا جاتا ہے  بلکہ بیرون ممالک کو بھی برآمد کیا جاتا ہے۔یہاں پیاز کے کئی اقسام  و انواع کی بیج پر کام ہورہا ہے  اور ان کو پیک کرکے پورے پاکستان اور بیرون ممالک کو بھی بھیجا جاتا ہے۔ڈایریکٹر جنرل آفاق احمد نے اس ادارے کا دورہ کرکے نہایت خوشی کا اظہار کیا کہ اتنے پسماندہ علاقہ میں ایک ایسا ادارہ بھی موجود ہے جو پوری دنیا میں اس کی پیاز کی بیج کا اعتراف کیا جاتا ہے۔سجاد علی نے بتایا کہ پیاز کی بیج تیار کرنے والا ادارہ یہاں اسلئے بنایا گیا کہ چترال کو قدرت نے نہایت بہترین موسیماتی ماحول دیا ہے جہاں ہوا میں نمی کا شرح دوسرے علاقوں کے نسبت نہایت کم ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں  کا  موسمیاتی ماحول بیج تیار کرنے کیلئے نہایت موزوں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا ادارہ کبھی بھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتا اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ایسا بیج تیار کرے جو زیادہ سے زیادہ پیدوار دے سکے۔آفتاب احمد نے بتایا کہ وہ خود بھی اور ان کا سٹاف باقاعدہ کھیتوں میں جاکر زمیندار وں سے ملتا ہے اور محتلف علاقوں میں پیاز بو کر پھر اس کے پھول اکھٹے کرکے اس سے بیج تیار کروایا جاتا ہے جس سے نہ صرف پاکستان کے بلکہ بیرون ممالک کے کاشت کاروں کو بھی بہترین بیج مل جاتا  ہے جس پر موسمیاتی تبدیلی اور بیماریاں بھی زیادہ اثر انداز نہیں ہوتی۔اس  ادارے میں بالائی چترال  اور لوئیر چترال سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی کام کرتی ہے۔صالحہ احمد نے باٹنی یعنی نباتات میں ماسٹرکیا ہے جس کا تعلق بریپ سے ہے ان کا کہنا ہے کہ میں  نے باٹنی میں ماسٹر کرنے کے بعد بے روزگار تھی مگر یہاں مجھے جاب ملا اور بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا ہمیں بیج کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھی۔اب اس سے ہم نے بہت کچھ سیکھا اور گھروں میں بھی کچن گارڈن بناکر اپنے اخراجات کم کرسکتی ہیں۔سلمی ٰ بی بی مقامی خاتون ہے اور وہ بھی اس ادارے میں کام کرتی ہے جو زیادہ تر بیج کو پیک کرتی ہے ان کا کہنا ہے کہ ہمیں یہاں با عزت طریقے سے روزگار ملا ہے اور گھر کے قریب اپنے اہل حانہ کیلئے رزق حلال کماتی ہیں ان خواتین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ اس ادارے کو مزید وسعت دیکر اسے چترال کے طول و عرض تک بڑھایاجائے تاکہ ان پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو بھی روزگار کے مواقع مل سکے جو زیادہ تر بے روزگار پھرتے ہیں۔سجاد علی کے درخواست پر ڈایریکٹر جنرل نے یقین دہائی کرائی کہ وہ اس کے ادارے میں کام کرنے والے عملہ کو ٹیکنیکل تربیت بھی دیں گے تاکہ ان کی کام میں مزید نکھار آسکے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں