0

اسٹبلشمینٹ نے میڈیا اتھارٹی سے لاتعلقی ظاہر کردی؛کالے قانون کو روکا جائے گا، پریس کلبز، صحافی

کراچی (نیوز ڈیسک) اسٹبلشمینٹ نے میڈیا اتھارٹی سے لاتعلقی ظاہر کردی، ملک بھر کے صحافی تنظیموں اور پریس کلبوں نے میں کالے قانون کو روکنے کی دھمکی دے دی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے مان لیا ہے کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کسی جنرل کا نہیں میرا آئیڈیا ہے ، میڈیا اتھارٹی کو آرڈیننس نہیں بل کے ذریعے لائیں گے ، بل کا سارا فریم ورک دیدیا ہے ، بل صحافیوں سے شیئر کیا جائے گا۔

صرف 12؍ افراد میڈیا اتھارٹی کی مخالفت کررہے ہیں تما م صحافتی تنظیمیں اور پریس کلبز اس کے حامی ہیں۔

قبل ازیں یوم دفاع کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے اشارہ دیا تھا کہ متنازع پی ایم ڈی اے پر انہیں پنڈی کی جانب سے حمایت حاصل ہے ۔

تاہم راولپنڈی میں ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں۔

دوسری جانب کراچی پریس کلب کے صدر نے کہا کہ فواد چوہدری ایک بار پھر غلط بیانی کررہے ہیں ، میڈیا اتھارٹی کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ایک انٹرویو میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اعتراف کیا کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی میرا آئیڈیا ہے کسی جنرل کا نہیں، میں اس کا ذمہ دار ہوں اور اسے کرنے کیلئے کسی جنرل نے نہیں کہا۔

اس سوال کے جوا ب میں انہوں نے میڈیا اتھارٹی کی تجویز کو اسٹیبلشمنٹ کی جانب توثیق کے تاثر کو رد کیا جبکہ ایک اور سوال میں انہوں نے پی ایم ڈی اے کو ان کی وزارت کی جانب سے تیار کرنے کا اعتراف کیا اور کہا کہ آپ وزارت کے کردار کو بھی کم کر سکتے ہیں اسے میں نے تیار کیا ہے ۔

دلچسپ طور پر ایک روز قبل اپنے ٹوئٹ میں فواد چودری نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ انہیں پنڈی کی حمایت حاصل ہے انہوں نے یوم دفاع پر تقریر کا حوالے دیتے ہوئے کہا تھا کہ فیک نیوز کے خطرے سے نمٹنے کیلئے پی ایم ڈی اے لیکر آرہے ہیں۔ واضح رہے کہ پاکستان میں جائز میڈیا ایسوسی ایشنز پی ایم ڈی اے کو مسترد کرچکی ہیں جن میں پی ایف یو جے، پی بی اے ، اے پی این ایس ، سی پی این ای ، ایمنڈ ، سمیت پاکستان بار اور ہیومن رائٹس واچ شامل ہیں ۔

راولپنڈی میں ایک ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ہمارا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں، اس میں ہمیں شامل کرنے والے آزاد ادارے کو سیاسی طور پر استعمال کرنے کی کوشش کررہے ہیں جس سے گریز کیا جانا چاہئے۔

ایک اور انٹرویو میں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی آرڈیننس کے ذریعے نہیں بل کے ذریعے لارہے ہیں،بل کا سارا فریم ورک دے دیا ہے، بل کو صحافیوں سے بھی شیئر کیا جائے گا۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ سارے ملا کر بارہ لوگ ہیں یہ بارہ لوگوں کے انٹرسٹ ہیں جن کے لیے آپ لڑ رہے ہیں۔ دوسری جانب صدر کراچی پریس کلب فاضل جمیلی نے کہا کہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ایک بار پھر غلط بیانی کی ہے۔

کراچی پریس کلب نے PMDA کے حوالے سے حکومت کی حمایت نہیں کی۔ وزیر مملکت فرخ حبیب کے ساتھ ایک میٹنگ ہوئی جس میں ہم نے میڈیا اتھارٹی کے حوالے سے اپنے تحفظات اور خدشات کا اظہار کیا۔

دوسری میٹنگ 28 اگست کو فواد چوہدری کے ساتھ کراچی میں ہوئی جس میں ان سے اتھارٹی کا حتمی مسودہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا فواد چوہدری نے مسودہ ایک ہفتے کے اندر فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

مسودہ آج تک فراہم نہیں کیا گیا، میڈیا اتھارٹی کی حمایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں