0

ادویات کے قیمتوں میں حد درجہ اورمسلسل اضافے کی وجہ سے مریضوں کے لئے ادویات خریدنا ناممکن ہوچکاہے۔

سوات(مانند نیوز ڈیسک )موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ادویات کے قیمتوں میں حددرجہ اور مسلسل اضافے کی وجہ سے مریضوں کے لئے ادویات خرید نا ناممکن ہوچکاہے۔اپنے مریضوں کے لئے ادویات کے خریدنے کے لئے خیرات مانگنے پر مجبور ہیں اور تیماداروں کے لئے اپنے مریض خود ایک خطرناک مرض بن گئے ہیں۔سروے کے مطابق بریکوٹ ہسپتال کے اندر اور باہر لوگ اپنے مریضوں کے ادویات کے لئے خیرات مانگتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔گذشتہ روز بریکوٹ ہستپال میں ڈاکٹر کے معائنے کے بعد ایک بچی جس کے ساتھ ماں اور دادی تھی نام بتانے سے انکارکرتے ہوئے کہاکہ ہم بھکاری نہیں ہیں اور بھیک مانگنا ذلت کے مترداف ہے ہمارے گھر کے مرد بے روزگا ر ہیں اور اب ہماری اتنی سکت نہیں ہے کہ ہم اپنی بچی کے لئے انجکشن اور دیگر ادویات خرید سکیں۔انہوں نے روتے ہوئے کہاکہ اب مریض ہمارے لئے بوجھ بن گیا ہے اور دوسری طرف اپنے لختی جگر کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے اس لئے بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔ایک دوسرے مریض نے کہاکہ حکومت نے ہمیں صحت کارڈ پر دھوکہ دیا ہے کیونکہ صحت کارڈ میں مخصوص بیماریوں کا علاج ہے زیادہ تر علاج کے لئے لوگ ادویات مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہیں یا تو صحت کارڈ مکمل ختم کیا جائے اور یہی فنڈ سے عوام کے لئے ادویات میں سبسڈی دی جائے تاکہ ہر کسی کو صحت کے سہولیات برابر مل سکے۔بریکوٹ میں میڈیکل سٹور کے مالک عزیز احمد نے کہاکہ ادویات کے قیمتوں میں مسلسل اضافے سے اب حالات بہت خراب ہوچکے ہیں۔ہمارے کاروبار بھی تباہی کی طرف جارہے ہیں کیونکہ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی عوام کی قوت خرید ختم ہوچکی ہے اور ادویات کے مسلسل اضافے کی وجہ سے لوگ ادھار لیتے ہیں اور زیادہ تر لوگ پھر قرضہ واپس کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔بحثیت انسان کے ساتھ مریض کو دیکھتے ہوئے ادویات نہ دینا بھی ظلم ہے اسی وجہ سے ہمارے مارکیٹ میں لاکھوں روپے بند ہیں اگر یہی صورت حال رہی تو ہمارے کاروبار بند ہوجائیں گے۔سماجی شخصیات ظاہر خان نے کہاکہ حکومت عوام پر ترس کھائیں اور فوری طور پر ادویات کے قیمتوں میں کمی کریں کیونکہ ادویات کے بغیر زندگی گذار ناممکن ہے اور ایک شہری کے طور پر صحت کے سہولیات فراہم کرنا ریاست کی اولین ترجیحات میں شمار ہوتی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں