0

پی ایم ڈی اے قانون آزادی صحافت پر حملہ ہے، بلاول بھٹو

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ  پی ایم ڈی اے قانون آزادی صحافت پر حملہ ہے،جب بھی کوئی آمر یا  سلیکٹڈ آتا ہے تو وہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے اور عوام کی آواز دبانے کے لئے کالا قانون لے کر آتا ہے۔ان خیالات کااظہار بلاول بھٹو زرداری نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جاری پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کے دھرنے میں شرکت کے موقع پرا ظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ماضی میں بھی صحافی کمیونٹی کا مشکل وقت میں ساتھ دیا ہے اور آج بھی ساتھ ہیں۔ پی ایم ڈی اے کا کالاقانون ہے مگر یہ پہلا کالا قانون نہیں  جب بھی کوئی آمر آتا ہے اور سلیکٹڈ آتا ہے تو وہ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لئے اور عوام کی آواز دبانے کے لئے کالا قانون لے کر آتے ہیں، آج بھی ان کی یہی کوشش ہے مگر ماضی کی طرح جیسے ہم نے مل کر ایوب خان کے کالے قانون کو ختم کیا تھا، جیسے ہم نے مل کر ضیاء الحق کے دور میں جو پابندیاں لگائی گئی تھیں ان کو بینظیر بھٹو نے وزیر اعظم بنتے ہوئے ختم کیا تھا، جب آصف علی زرداری صدر بنے تو انہو ں نے پرویز مشرف کی ساری پابندیوں کو کالے قوانین کو ایک، ایک کرکے18ویں آئینی ترمیم کی صور میں  اپنے قانون اور آئین سے صاف کیا تھا۔  انہوں نے کہا کہ آج بھی اس ملک میں پیکا کا قانون ہے جس کو پاکستان پیپلز پارٹی نہیں مانتی ہے، جو پی ایم ٖ ڈی اے کا قانون بننے والا ہے یہ آزادی صحافت پر تو حملہ ہے ہی مگر یہ جمہوریت پر بھی ڈاکہ ہے اور ساتھ ساتھ آزاد عدلیہ پر بھی حملہ ہے، صحافیوں سے اپیل کا حق چھینا جارہا ہے، یہ ایک معاشی ڈاکہ اور حملہ ہے جو صحافیوں سے اپنے روزگار چھیننے کی کوشش ہے۔ نہ صرف پی پی پی یہاں صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی دکھا رہی ہے بلکہ پارلیمان میں بھی جاکرصحافیوں کے لئے آواز اٹھائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ صحافتی تنظیمیں ملک بھر میں جہاں احتجاج کی کال دیں گی بینظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے جیالے ان کے شانہ بشانہ ہوں گے، ہمارے ساتھ جوقانون کا ڈرفٹ ہمارے سامنے آیا ہے وہ قوم کی پیٹھ پیچھے رات کے اندھیرے میں نکالا گیا وہی ڈرافٹ ہے جبکہ نہ ہمارے ساتھ کوئی بات چیت گئی اور نہ میڈیا کے ساتھ بات چیت گئی ہے کہ ہمارے اعتراضات کو دور کیا جاسکے۔ ایسے لگ رہا ہے کہ حکومت بلڈوز کرنا چاہتی ہے اور زبردستی یہ قانون پاس کروانا چاہتی ہے۔ اگر یہ کالا قانون بنتا بھی ہے تو پی پی پی رہنما سردار لطیف کھوسہ صحافیوں کے ساتھ مل کر فوراً عدالت کا رخ کریں گے اور اس کو چیلنج کریں گے۔ ہمارا شک ہے کہ ہماری اکثریت کو ختم کرنے کے لئے حکومت پی ایم ڈی اے کا قانون پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے پاس کرانا چاہ رہی ہے، یہ ہمارا شک ہے تاہم کوئی اس حوالے سے ابھی تک ثبوت ہمارے سامنے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی جب بھی اقتدار میں آتی ہے وہ لوگوں کو روزگار دلواتی ہے، زیادہ تر جن کو پاکستان میں روزگار ملا ہے وپی پی پی نے دیا ہے لیکن یہ اس کا مطلب نہیں ہے یہ ملازمین میرے کارکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ان ملازمین کو 90کی دہائی میں نکا لا گیا اور اس وقت ان کی عمر 30سال تھی اور پھر ان کو بحال کیا گیا اور اب پھر ان کو نکالا گیا اور ان کی عمر اب 50سال ہو چکی ہے، مہنگائی انتہا ئی پر ہے اور بیروزگاری اور غربت تاریخی سطح پر ہے اس قسم کا ظلم کرنے کا تک کیا بنتاہے۔ اگر ہم سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کو بحال کرسکتے تھے تواسی پارلیمان نے ان20ہزار ملازمین کو بحال کیا ہے، ان کے اور صحافیو ں کے حق روزگار پر ہم حکومت کو ڈاکہ مارنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ ہمیں سب کو مل کر ملک میں صحافیوں کے ساتھ جو ظلم اور زیادتی ہوتی ہے اس کو روکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میڈیا کی بات تمام سیاسی جماعتوں کا ایک ہی مؤقف ہے اور جو دیگر عوام کے مفاد کے مسائل ہیں ان پر بھی ایک ہی موقف رکھنا چاہئے، ہمارے قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف ہیں اور وہ وقتاً فوقتاً ہمیں ان ایشور پرآن بورڈ لیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے ساری اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ بڑے زبردست تعلقات ہیں، مولانا فضل الرحما ن کی میں بہت عزت کرتا ہوں وہ ہمارے بڑو ں کے ساتھ بھی مسلسل تھے اور آنے والی نسلوں کے ساتھ بڑھیں گے، سیاست میں مختلف نقطہ نظر ہوتا ہے لیکن میرا ان کے ساتھ کوئی ذاتی ایشو نہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں