0

شانگلہ کروڑہ ہائیڈروپاور سٹیشن سے متاثرین کی معاہدے کے تحت مطالبات حکومت حل کریں

الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شانگلہ کروڑہ ہائیڈروپاور سٹیشن سے متاثرین کی معاہدے کے تحت مطالبات حکومت 5اکتوبر تک حل کریں ورنہ نہ ختم ہونے والے احتجاج شروع کرینگے،شانگلہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شاہ سعود ایڈوکیٹ،سابق چیئرمین محمد نعیم خان اور متاثرین کا شانگلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس۔کروڑہ ہائیڈروپاؤر سے متاثرہ لوگوں نے شانگلہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شاہ سعود ایڈوکیٹ کی سربراہی میں گزشتہ روز شانگلہ پریس کلب میں پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت کا ان سے کیے گئے معاہدے میں ناکام ہوچکی ہے یہ معاہدہ 2013میں ڈپٹی کمشنر شانگلہ،پراچیکٹ ڈائیریکٹر اور متاثرہ لوگوں کے درمیان ہوا تھا۔معاہدے میں کل بارہ نکات تھے جن میں حکومت نے ابھی تک صرف 90فیصد لوگوں کوزمینوں کا معاوضہ ادا کیا ہے باقی 11نکات میں حکومت اب تک ناکام ہوچکا ہیں۔ان11نکات میں دو نکات بہت اہم تھے جن میں ایک متاثرہ لوگوں کو نیفرا کے ریٹ پر بجلی کی فراہمی اور دوسرا ٹنل سے متاثر ہونے والے صاف پانی کے چشموں کے پانی کے بدلے متاثرہ لوگوں کو پانی کی فراہمی شامل تھی لیکن اب ٹنل بھی تیاری کی آخری مراحل میں ہیں او رپرجیکٹ بھی پورا ہونے والا ہے لیکن حکومت اپنے معاہدے میں ناکام نظرآرہی ہیں۔شانگلہ ایکشن کمیٹی کے چیئرمین شاہ سعود خان ایڈوکیٹ نے کہا کہ اگر5اکتوبرتک حکومت وقت نے متاثرین کے ساتھ کئے گئے معاہدے کے تحت مطالبات پر عمل درآمد شروع نہیں کیا تو شانگلہ ایکشن کمیٹی،متاثرین اور شانگلہ کے لوگ احتجاج شروع کرینگے جسمیں پراجیکٹ پر کام کی بندش سمیت روڈوں کو بندکرنا اور صوبائی اسمبلی کے سامنے دھرنے پر بیٹھنے کیساتھ اور بھی احتجاججی تحریکیں شامل ہیں۔ان پانچ سالوں میں ہم نے حکومت وقت کی ہر دروازے کو کھٹکھٹایا ہے صوابائی وزراء سے لیکروفاقی وزیر پانی و بجلی تک ہم پہنچ چکے ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں