0

شانگلہ کے مختلف کان کن اور مزدور تنظیموں کا لیلونئی میں کرومائٹ مائن کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ

   الپوری (مانند نیوز ڈیسک) شا نگلہ کے مختلف کان کن اور مزدور تنظیموں کا لیلونئی میں کرومائٹ مائن کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرومائٹ کان بند ہونے سے سینکڑوں مزدور کان کن بے روزگار ہو چکے ہیں کرومائٹ کان اٹھ سال چلنے کے بعد انہیں پروٹیکٹیڈفارسٹ میں شامل کرنا کان کنوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ان پہاڑوں میں زیادہ مقدار میں معدنیات پائے جاتے ہے اسے فوری طور پر کرومائٹ کان مائن قوانین کے مطابق دوبارہ رفعال کرکے مزدوروں استحصال کرنا چھوڑ دیں۔ان خیالات کا اظہار مختلف کان کن اور مزدور تنظیموں نے اپنے بیانات میں کہی ان کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ کرومائٹ کان سمیت شانگلہ میں دیگر کونوں پر فوری کام شروع کیا جائے تاکہ غریب مزدوروں کو روزگار میس اسکیں شانگلہ میں نہ ہی کوئی اڈسٹری یا فیکٹری ہے روزگار نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کے 65 فیصد آبادی کان کنی سے وابسطہ ہے لہذا ان کانوں کو دوبارہ فعال کرکے مزدوروں کو ان ہی کے دہلیز پر باعزت روزگار فراہم کیا جائے۔ا دھر مائننگ لیبر فیڈریشن کے صوبائی ارگنائزر علی باش خان نے اپنے ایک علیحدہ بیان میں کہا ہے کہ شانگلہ لیلونئی میں کرومائٹ کا واحد کان ہے جو عرصہ دراز سے بند پڑا ہے اور مبینہ طور پر اس کان کی بندش سے مزدوروں کے گھر کے چولہے ٹھندا پڑ گئی ہے۔اور وہ بے روزگار بھیٹے ہیں۔انھوں نے حکومت سے مظالبہ کیا کہ کرومائٹ مائن کو ملک کی قوانین کے تحت دوبارہ فعال کیا جائے۔اور مائن مالکان اور مزدوروں کو جدید ٹیکنالوجی سے اراستہ کیا جائے۔اور مزدوروں کی صحت اور حفاظت کا خاص خیال رکھا جائے اور حادثے کی صورت میں معاوضہ ادا کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ ہمارے شانگلہ کے مزدوروں کو اپنے دہلیز پر روزگار میسر ہو۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں