0

وزیراعظم عمران خان دو روزہ دورے پر تاجکستان جائینگے

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان تاجک صدر امام علی رحمن کی دعوت پرآج (جمعرات کو) دو روزہ سرکاری دورے پر تاجکستان جائیں گے۔دورے میں اعلیٰ سطح کا وزارتی وفد وزیراعظم کے ہمراہ ہو گا۔وزیراعظم عمران خان کا وسط ایشیاکا یہ تیسرا دورہ ہے جو پاکستان کے وسط ایشیاکے خطے کے ساتھ بڑھتے ہوئے روابط کا مظہر ہے۔وزیراعظم شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او)کے سراہان مملکت کی کونسل (سی ایچ ایس)کے دوشنبے میں منعقدہ بیسویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس سے قبل وہ 13 اور 14 جون 2019 کو بشکک، کرغستان میں ایس سی او کے سراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں شریک ہوئے تھے جبکہ 10نومبر2020کو روس کی میزبانی میں ایس سی او کے سراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے شرکت کرچکے ہیں۔ایس سی او خطے اور باہر کے ممالک کے 18 ارکان پر مشتمل بین الحکومتی مستقل تنظیم ہے جو 15جون 2001کو وجود میں آئی تھی۔ 2005میں پاکستان کو ایس سی او کے مبصر کا درجہ ملا تھا جبکہ آستانہ میں ایس سی او سربراہان مملکت کی کونسل کے اجلاس میں مکمل رکنیت ملی تھی۔ ایس سی او کے دیگر ارکان میں چین، بھارت، ازبکستان، قزاخستان، کرغستان، تاجکستان اور دیگر ایس سی او ارکان شامل ہیں۔ ایس سی او کے چار مبصرممالک (ایران، منگولیا، بیلاروس اور افغانستان)اور 6 ڈائیلاگ شراکت دار (آذربائیجان، آرمینیا، کمبوڈیا، نیپال، ترکی اور سری لنکا)بھی ہیں۔وزیراعظم عمران خان سربراہی اجلاس میں شرکت کے موقع پر دیگر شریک قائدین سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہان مملکت کی کونسل میں شرکت کے بعد وزیراعظم دورے کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق مصروفیات میں شریک ہوں گے۔ وہ تاجکستان کے صدر سے دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں خاص طورپر تجارتی، معاشی و سرمایہ کاری تعلقات بڑھانے اور خطے کو جوڑنے سے متعلق امورپر خصوصی توجہ مرکوز کرتے ہوئے بات چیت کریں گے۔دونوں ممالک باضابطہ سٹرٹیجک شراکت داری استوار کرنے کے مضبوط عزم کا پہلے ہی اظہار کرچکے ہیں۔وزیراعظم عمران خان پاکستان تاجکستان بزنس فورم کے اولین اجلاس کا افتتاح بھی کریں گے جس میں شرکت کے لئے پاکستان سے کاروباری شخصیات دوشنبے کا دورہ کریں گی۔ مشترکہ بزنس فورم دونوں ممالک میں بڑھتے ہوئے تجارتی و سرمایہ کاری اور دونوں اطراف کی تجارتی برادری کے درمیان بزنس ٹو بزنس تعلقات کے مزید فروغ کا ذریعہ بنے گا۔وزیراعظم کے دورے کے دوران پاکستان تاجکستان مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس بھی منعقد ہوگا۔پاکستان اور تاجکستان میں مشترک عقیدے، تاریخ اور ثقافت کی بنیاد پر قریبی برادرانہ تعلقات استوار ہیں۔ دونوں ممالک خطے میں معاشی ترقی، امن، سلامتی اور استحکام کے فروغ کی مشترکہ خواہش اور سوچ رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان کا دورہ وژن سینٹرل ایشیاء پالیسی کے ذریعے وسط ایشیاکے ساتھ روابط کو گہرا کرنے کی پاکستان کی کاوش کا حصہ ہے جس میں پانچ کلیدی نکات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ ان نکات میں سیاسی تعلقات، تجارت وسرمایہ کاری، توانائی اور خطے کو جوڑنا، سلامتی ودفاع اور عوامی روابط کا فروغ شامل ہے  \          

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں