0

نبی پاکﷺکی زندگی ہمارے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے

سوات (مانند نیوز ڈیسک) نبی پاکﷺکی زندگی ہمارے لئے ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ رسول اکرم ﷺکی زندگی ہمارے لئے ایک مکمل نمونہ ہے۔رسول اکرمﷺ ہمارے لئے استاد، شاگرد، باپ، بیٹا، دوست، تاجر، سپہ سالار، جج، ہمسایہ حتیٰ کہ ہر حیثیت سے ایک راہنما بناکر بھیجے گئے ہیں۔ان کی تعلیمات دنیا و آخرت دونوں کیلئے کامیابی کا منبع ہیں۔جب تک مسلمان ان کی تعلیمات پر عمل پیرا رہا وہ دنیا کی حکمرانی کرتارہا لیکن جب مسلمان نے اپنے آقاﷺکی تعلیمات کو بھلا بیٹھا تو زوال اس کا مقدر بنی۔ ان کی حیات پاک نے ہمارے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ان کی تعلیمات دنیا پر حکمرانی کیلئے ایک مکمل منصوبہ عمل ہمارے پاس موجود ہے لیکن آج کے مسلمان نے اس عظیم خزانہ کو چھوڑ کر طاغوت کی گود میں پناہ لے رکھی ہے۔ آج مسلمان اللہ اور اس کے رسولﷺکے احکام و تعلیمات کو چھوڑ کر کامیابی کی ناکام کوشش میں مصروف ہے۔ مقررین کا خطاب۔ تفصیلات کے مطابق عشرہ رحمت اللعالمین ﷺکے سلسلے میں ٹیپو شہید سکول اینڈ کالج میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیاگیا۔تقریب میں پرائیویٹ سکولز ریگولیٹری اتھارٹی خیبر پختونخوا کے مینیجنگ ڈائریکٹر احمد زیب، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آپریشنز محمد شکیل،ٹیپو شہید سکول اینڈ کالج کے ڈائریکٹر سید عبداللہ شاہ، سکولز وکالجز کے پرنسپل صاحبان امیر جان، حیدرعلی شاہ، امجد خان، محب اللہ، نوید خان، سکندر خان، آفتاب احمد اور دیگر مہمانو ں نے شرکت کی۔تقریب سے مینیجنگ ڈائریکٹر احمد زیب، ڈائریکٹر سید عبداللہ شاہ اور ہوپ سوات کے صدر امیرجان نے خطاب کیا۔ تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے رسول اکرم ﷺکی حیات مبارکہ پر روشنی ڈالی اور دور حاضر میں اسکی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ رسول اکرم (ص) صرف مسلمانوں کیلئے نہیں بلکہ تمام عالمین کیلئے رحمت بناکر بھیجے گئے ہیں۔عرب کے فتنہ گر، انسانیت سوز اور جاہلیت کے طوفان بلاخیز معاشرے میں تن تنہا ایک شجر سایہ دار کی صورت میں تمام انسانوں بلکہ تمام مخلوقات کیلئے رحمت بن کر آئے۔ انہوں نے لوگوں کی گالیاں برداشت کیں، ان کے پتھر برداشت کئے، ان کے ہاتھوں زخم کھائے، جلاوطن ہوئے، شعب ابی طالب میں تین سال ناقابل برداشت تکالیف برداشت کیں لیکن ایک بار بھی زباں سے بددعانہیں نکلی۔ کھبی ان کے بارے میں عذاب کی تمنا نہیں کی۔بلکہ طائف میں سارا جسم لہولہان ہونے کے باوجود حضرت جبریل ؑ کو جواب دیا کہ ان کی آنے والی نسلوں میں اسلام کے شیدائی پیدا ہونگے۔آج اگر ہم حالات کو دیکھیں تو وہ ہرگز ان حالات کی طرح سخت نہیں ہیں، ہر گز ان حالات کی طرح تکلیف دہ نہیں ہیں جن حالات میں نبی پاک ﷺنے اسلام کا پرچار شروع کیاتھا۔ آج دنیا اسلام کو وہ کچھ سمجھتی ہے جو مسلمان کا عمل ہے۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمان کے عمل سے اسلام کا ایک بھی پہلو ظاہر نہیں ہوتا۔ آج مسلمان مکمل طور پر اسلام کے احکام کی خلاف ورزی پر اتر آیا ہے۔ آج اگر مسلمان پوری دنیا میں ذلیل و خوار ہے تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس نے رسول اکرمﷺ کے احکام بھلادئے ہیں۔وہ اپنے نبی ﷺ کی سیرت سے بے بہرہ ہے۔آسٹریلیا میں ایک غیر مسلم جب اسلام قبول کرتاہے تو وہ رو رو کر مسلمانوں سے کہتاہے کہ اگر میرے والدین اس دنیا سے کفر کی حالت میں رخصت ہوئے ہیں تو اس کی وجہ آپ مسلمان ہیں کیونکہ ہم تو اسلام اس کو سمجھتے ہیں جو آپ لوگوں کا عمل ہے۔ہمیں کیا پتہ تھا کہ اسلام تو ایک پرامن، اطمینان سے بھرا، خلق خدا پر ترس کھانے والا، دیانت دار، امانت دار اور اخلاق سے بھرپور دین ہے۔ آج ہم نے اپنے قول و فعل سے پوری دنیا کو یہ دکھانا ہے کہ نبی پاک ﷺکی پاکیزہ تعلیمات کیاہیں۔ اگر ہم اپنی زندگی میں آقائے نامدارﷺ کی سنت پیدا کریں گے تو غیر مسلم ہمیں دیکھ کر متاثر ہونگے۔ آج اگرہم نبی پاکﷺکی سنت پر عمل پیرا ہوگئے تو دنیا کی حکمرانی کی باگ ڈور آج بھی مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہوں گی۔رسول اکرم ﷺنے مسلمان کی اوصاف بیان کی ہیں تو فرمایاہے کہ مسلمان امانت دار ہوگا، مسلمان دیانت دار ہوگا، وہ ملاوٹ نہیں کرے گا، وہ جھوٹ نہیں بولے گا، وہ دوسروں کو نقصان نہیں پہنچائے گا، وہ بے حیائی کے کاموں سے دور رہے گا، وہ کسی پر ظلم نہیں کرے گا، وہ مظلوموں کا ساتھی اور مددگار ہوگا، وہ غریبوں مسکینوں، یتیموں اور فقیروں کا مددگار ہوگا، وہ کسی کا حق نہیں کھائے گا۔ لیکن آج مسلمان میں ان میں سے کوئی بھی وصف موجود نہیں ہے۔جس کو دیکھ کر اگر کسی غیر مسلم کے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہوبھی جاتی ہے تو وہ متنفر ہوجاتاہے۔مقررین نے نوجوانوں اور طالب علموں کو اپنے پیغام میں کہاکہ معاشرے میں رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات کو آپ ہی اجاگر کرسکتے ہیں۔ آج اگر ہمارا نوجوان رسول اکرمﷺ کی تعلیمات اور سنت پر عمل پیرا ہوگیا تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائیگادنیا کی زمام کار ایک بار پھر مسلمان کے ہاتھ میں ہوگی۔ تقریب میں ٹیپو شہید سکول اینڈ کالج کے طلبہ نے حمد و نعت اور تقاریر بھی پیش کیں جن کو سامعین اور مہمانوں نے بہت سراہا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں