0

وزیراعظم کی وزرا ء کو کالعد م تحریک لبیک سے مذاکرات کی ہدایت

 اسلام آباد،لاہور (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزرا کو کالعدم تحریک لبیک سے مذاکرات کی ہدایت کردی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے پیر نورالحق قادری سے ٹیلفونک رابطہ کرکے موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اور کالعدم تحریک لبیک کے احتجاج کے حوالے سے بات کی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری اور وزیرداخلہ شیخ رشید کو لاہور پہنچنے کی ہدایت کردی۔ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ڈاکٹر پیر نور الحق قادری کراچی سے لاہور پہنچ گئے ہیں اور  وزیراعظم کی ہدایت پر حکومتی ٹیم لاہور میں ٹی ایل پی سے مذاکرات کرے گی، حکومتی ٹیم میں پیر نورالحق قادری، شیخ رشید احمد اور راجہ بشارت شامل ہوں گے۔دوسری جانب وفاقی پیر نورالحق قادری نے موجودہ صورتحال کے حوالے سے علمائے کرام سے ٹیلفونک رابطے کئے ہیں، وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ حکومت مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے پر یقین رکھتی ہے، عوام کی مال و جان کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔دوسری طرف وزارت داخلہ نے کالعدم ٹی ایل پی کے احتجاج سے نمٹنے کے لئے پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر سے پولیس فورس مانگ لی ہے۔  وزارت داخلہ نے پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریوں کو اسلام آباد کی سیکورٹی کے لئے اینٹی رائٹ فورس دستے بھجوانے کے لئے مراسلے بھیج دیئے ہیں، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر 10،10 ہزار نفری پر مشتمل پولیس دستے اسلام آباد بھیجیں،ادھرلاہور میں کالعدم تنظیم تحریک لبیک اور پولیس کے درمیان جھڑپیں جاری ہیں جس کے نتیجے میں دونوں اطراف کے متعدد افراد زخمی ہیں۔راولپنڈی میں دوسرے روز بھی کرفیو جیسی صورتحال سے معمولات زندگی متاثر ہونے لگے، مری روڈ سمیت رابطہ سڑکیں بند ہیں، میٹرو بس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بھی بند ہے۔ٹی ایل پی کے دھرنے کو روکنے کے لیے راولپنڈی میں دوسرے روز بھی مری روڈ سمیت اہم شاہراہیں مکمل سیل ہیں۔ میٹروبس سروس اور پبلک ٹرانسپورٹ بند ہے۔مری روڈ پر قائم نجی و سرکاری تعلیمی ادارے اور تمام کاروباری مراکز بھی بند ہیں، میٹرو ٹریک کا کنٹرول رینجرز نے سنبھال رکھا ہے۔ مری روڈ پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔ مری روڈ مریڑھ چوک سے فیض آباد انٹرچینج تک بند ہے، جہاں جگہ جگہ کنٹینر کھڑے کر دیئے گئے ہیں۔ اہم شاہراہیں سیل ہونے سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا ہے،رکاوٹوں کی وجہ سے مریضوں کی اسپتالوں تک رسائی بھی مشکل ہو گئی ہے۔لاہور میں کالعدم ٹی ایل پی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے ہیں۔ بتی چوک پر سیکیورٹی اہلکار ٹی ایل پی کے کارکنوں کو منتشر کرنے کیلیے شیلنگ کررہے ہیں جبکہ دوسری طرف سے پولیس پر پتھرا وکا سلسلہ جاری ہے جس کے نتیجے میں میڈیا رپورٹس کے مطابق  اب تک 2 پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کے 2 کارکن جاں بحق ہوچکے ہیں۔ درجنوں پولیس اہلکار اور ٹی ایل پی کے مظاہرین بھی زخمی ہیں۔کالعدم ٹی ایل پی کی ریلی میں رکاوٹیں ہٹانے اور رستے کھلوانے کے لیے کرین بھی موجود ہے۔ راوی روڈ، شفیق آباد، شاہدرہ اور شاہدرہ ٹان سمیت کئی علاقوں میں موبائل فون سروس اور انٹرنیٹ بند ہے،علاوہ ازیں اسلام آباد پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کالعدم جماعت کے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کے باعث راولپنڈی اسلام آباد میٹرو بس آئی جے پی روڈ تا پاک سیکریٹریٹ چلتی رہے گی۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق راولپنڈی میں میٹرو بس سروس بند رہے گی۔اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ میٹرو بس صدر راولپنڈی سے آئی جے پی روڈ تک معطل رہے گی،اسلام آباد میں کالعدم جماعت کے لانگ مارچ پر پولیس نے شہر کا ٹریفک پلان جاری کردیا۔ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق شہری ریڈ زون میں داخلے اور باہر نکلنے کے لیے نادرا چوک اور ایوب چوک استعمال کرسکتے ہیں۔ترجمان نے بتایا کہ مری روڈ فیض آباد سے پہلے اور راول ڈیم چوک سے فیض آباد تک ٹریفک کے لیے بند ہے، پارک روڈ، ترامڑی چوک اورلہترار روڈکو اسلام آباد ہائی وے تک پہنچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ترجمان کے مطابق سری نگر ہائی وے، نائنتھ ایونیو اور آئی جے پی روڈ راولپنڈی پہنچنے کے لیے استعمال کی جاسکتی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں