0

چھ ارب ڈالر کے قرضے کے پروگرام کو بحال کرنے کے لیےعالمی مالیاتی فنڈ سے مذاکرات جاری

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک)  پاکستان کے عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے قرضے کے پروگرام کو بحال کرنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔ وزارت خزانہ نے مذاکرات ناکام ہونے کی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔ بیل آٹ پیکیج کے چھٹے جائزے کی تکمیل کی بنیاد بنانے کے لیے پاکستان کی اقتصادی ٹیم کے اعلی اراکین  اس ماہ کے آغاز سے آئی ایم ایف سے بات چیت کر رہے ہیں۔ریویو کامیابی سے ختم ہونے پر پاکستان کو بیل آٹ فنڈ سے ایک ارب ڈالر مزید مل سکتے ہیں۔ غیر ملکی اخبار کے مطابق دونوں فریقین نے فی الحال ان مذاکرات کے نتائج کا اعلان نہیں کیا ہے مگر کچھ مقامی میڈیا اداروں نے مذاکرات کے ناکام ہونیکی رپورٹس چلائی ہیں۔ وزیر خزانہ شوکت ترین کے ترجمان مزمل اسلم نے   غیر ملکی اخبار کو بتایا  کہ  مذاکرات کے دوران ان کی ناکامی کے بارے میں میڈیا رپورٹس درست نہیں ہیں۔ جیسے ہی بات چیت ختم ہوگی، عوام کے لیے اعلامیہ جاری کر دیا جائے گا۔پاکستان میں آئی ایم ایف کی سربراہ ٹریسا دابان سینچیز نے بھی جمعے کو کہا تھا کہ پاکستان سے مذاکرات ابھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا تھا  ہم پاکستانی حکام کے ساتھ ایسی پالیسیوں اور اصلاحات پر بات کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ای ایف ایف (ایکسٹینڈڈ فنڈ فسلیٹی) کے تحت چھٹے جائزے کی تکمیل کی بنیاد بن سکتی ہے۔ان مذاکرات کے حوالے سے غیر مستحکم صورت حال نے پاکستان کی کرنسی پر گہرا اثر ڈالا ہے، جس کی قدر جمعے کو ڈالر کے مقابلے میں کم ترین سطح پر گر گئی، جب ایک ڈالر 174 روپے کا ہوگیا۔اسی وجہ سے ملک کے سٹاک ایکسچینج کو بھی نقصان ہوا ہے، اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ آئی ایم ایف سے مذاکرات میں ناکامی کی صورت میں ملک میں فارن کرنسی کے آنے میں کمی ہوسکتی ہے۔عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈائریکٹر ری سرچ طاہر عباس نے بتایا: ان مذاکرات کے مثبت نتائج سے سٹاک اور ملک کی کرنسی پر دبا کم ہوگا اور مارکیٹ کو بھی۔آئی ایم ایف چاہتا ہے کہ پاکستان اندرونی آمدنی کو متحرک کرے، توانائی کے سیکٹر کے بقایاجات میں کمی لائے، بجلی سبسڈی اصلاحات لائے اور مرکزی بینک کو زیادہ آپریشنل خودمختاری فراہم کرے۔حکومت پہلے ہی گذشتہ ہفتے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر چکی ہے، جس پر تجزیہ کاروں نے دعوی کیا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کی شراط پر پورا اترنے کی کوشش کر رہی ہے۔تجزیہ کاروں کے ماطابق آئی ایم ایف کا اصرار ہے کہ پاکستان وفاقی بجٹ میں طے کیے گئے آمدنی کے ہدف کو بڑھائے۔ پاکستان نے اس مالی سال میں 5.83 کھرب روپے (39.2 ارب ڈالر) ریونیو جمع کرنے کا ہدف رکھا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں