0

کالعدم تنظیم اورحکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے، شیخ رشید

 اسلام آباد، لاہور (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی حکومت فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کا معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کرے گی جبکہ کالعدم تنظیم کے زیر حراست افراد کو  رہا کر دیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ کالعدم تنظیم اور حکومت کے مابین مذاکرات کامیاب ہوگئے ہیں جبکہ احتجاجی شرکا اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ مذاکرات کافی حد تک طے پا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی کے زیر حراست افراد کو چھوڑ دیا جائے گا اور ماضی میں کیے گئے معاہدے کے تحت فرانسیسی سفارتکار کو بے دخل کرنے کے معاملہ قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ ٹی ایل پی کے لوگ منگل دوپہر 12 بجے تک ادھر ہی قیام کریں گے جہاں وہ اس وقت موجود ہیں جبکہ دونوں طرف ٹریفک کھول دی جائے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ آئندہ روز یعنی پیر کو ٹی ایل پی کا ایک وفد بھی ہماری طرف آئے گا اور ان کے مسائل سے متعلق بات چیت شروع ہوگی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آئندہ دو تین روز میں ان کے مسائل پر بات ہوگی تاہم احتجاج مظاہرین اسلام آباد کی طرف مارچ نہیں کریں گے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومتی مذاکراتی کمیٹی  کے رکن  اور وزیر مذہبی امورنور الحق قادری کا کہنا ہے کہ مظاہرین منگل تک اپنا احتجاج ریکارڈ کراویں گے۔ تمام بند راستوں کو کھول دیا جائے گا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان کسی قسم کا کوئی ٹکراو نہیں ہوگا۔ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین جدھر ہیں وہاں پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔ حکومت نے مظاہرین کے تمام مطالبات کو سنا ہے۔حکومت مطالبات پر سنجیدگی سے غور اور مشاورت کریگی۔ مطالبات کی منظوری کے بعد مظاہرین پرامن طور پر احتجاج ختم کر دیں گے۔مظاہرین کوتمام مطالبات قانون کے مطابق ماننے کی  یقین دہانی کر وائی  ہے۔ پرامن رہنے پر مظاہرین کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ معاملات کو باہمی افہام و تفہیم کے ساتھ حل کیا جائے گا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز ٹی ایل پی کا مارچ لاہور سے اسلام آباد کی طرف رواں ہوچکا تھا جبکہ لاہور میں تمام سڑکیں کھول دی گئی تھیں۔لاہور کے ڈپٹی کمشنر عمر شیر چٹھہ کا کہنا تھا کہ شہر کی تمام سڑکیں ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں اور میٹرو بس سروس گجو مٹہ سے میو کالج تک جزوی طور پر بحال کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ شہر کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا تھا۔علاوہ ازیں اسلام آباد ٹریفک پولیس نے ایک الرٹ جاری کیا تھا جس میں شہریوں کو آگاہ کیا گیا تھا کہ ایکسپریس چوک ٹریفک کے لیے بند ہے۔خیال رہے کہ لاہور میں کالعدم تنظیم کے دھرنوں کا تازہ دور منگل سے شروع ہوا تھا تاکہ پنجاب حکومت پر اس کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کی رہائی کے لیے دبا ڈالا جائے جو ٹی ایل پی کے مرحوم بانی خادم حسین رضوی کے بیٹے ہیں۔سعد رضوی کو پنجاب حکومت نے رواں برس 12 اپریل کو پبلک آرڈر کی بحالی (ایم پی او) کے تحت حراست میں لیا تھا۔تاہم ٹی ایل پی کے رہنما پیر اجمل قادری نے جمعرات کو اپنے زیر حراست قائد کی رہائی سے الگ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا احترام ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں