0

کاروان سفیران امن و محبت کا کمراٹ اور چترال کا 4 روزہ دورہ

چترال (گل حماد فاروقی) کاروان  سفیران امن و محبت جو لائن کلب کے اراکین پر مشتمل ہے انہوں نے وادی کمراٹ اور چترال کا چار روزہ دورہ کیا۔ دورہ کے دوران یہ کاروان  وادی کیلاش بھی گئے جہاں ایک پاکستان آسٹریلیا دوستی تنظیم  کی جانب سے کیلاش خواتین میں  تحائف تقسیم کئے گئے تاکہ وہ  دسمبر میں آنے والے مذہبی تہوار  چھتر مس کیلئے نئے کپڑے بنا سکے۔ یہ تحائف آسٹریلیا میں مقیم پاکستانی ذیشان رضا کی جانب سے  پاکستان میں ان کا کو آرڈینیٹر صبتین رضا لودھی نے 70 لوگوں میں یہ تحائف تقسیم کئے جن میں کیلاش مرد و خواتین قاضی بھی شامل تھے۔کیلاش لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے صبتین رضا لودھی نے کہا کہ آئندہ چترال ٹریول بیورو کے چیف ایگزیکٹیو سید حریر شاہ ان کی تمام مسائل ہم تک پہنچائیں گے جسے آسٹریلیا میں مقیم ذیشان رضا کو بھیج دیئے جائیں گے تاکہ ان لوگوں کے مسائل میں ہم کسی حد تک کمی لاسکے۔اس کاروان میں لائن کلب کے 22 اراکین بھی موجود تھے جو ڈاکٹرز، پروفیسر، انجنیرز، اور اعلےٰ پیشوں سے وابستہ اراکین پر مشمل تھا۔صبتین رضا نے یقین دہانی کرائی کہ کیلاش عمائدین کی مشاورت سے وہ کیلاش طلبا و طالبات کیلئے پشاور یا اسلام آباد میں ہاسٹل کا بھی انتظام کروائے گا تاکہ یہ طلبا آسانی سے اعلےٰ تعلیم حاصل کرسکے۔کیلاش لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے سماجی کارکن لوک رحمت کیلاش نے کہا کہ کیلاش طلباء کیلئے ہاسٹل کا قیام بہت ضروری ہے اسی طرح کیلاش ثقافت کو محفوظ کرنے اور نئے نسل تک  منتقل کرنے کیلئے بھی ضروری اقدامات کی ضروری ہے کیونکہ کیلاش مذہب کے رہنماء جنہیں قاضی کیلاتے ہیں وہ سینہ بہ سینیہ نئے نسل کو کیلاش مذہب اور ثقافت پہنچاتے ہیں مگر ان کی مرنے کی صورت میں یہ سلسلہ متاثر ہوتا ہے۔یہ محصوص ثقافت زندہ رکھنے کیلئے ضروری ہے کہ اس کیلئے ضروری اقدامات اٹھائیجائے۔پاکستان ّآسٹریلیاسٹریٹیجک گروپ کے کو آرڈینیٹر برائے چترال سید حریر شاہ نے کہا کہ یہ ابھی شروعات ہیں اور مستقبل میں یہ تنظیم کیلاش قبیلے کیلئے بہت کچھ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس موقع پر کیلاش خواتین  میر کاہی اور لالی گل نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اس تقریب میں کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے کثیر خواتین و حضرات نے شرکت کی جنہوں نے کیلاش روایات کے مطابق آنے والے مہمانوں کے گلے میں   ہار کے طور پر چیہاری جسے شیمانی بھی کہتے ہیں وہ پہنائے تاکہ مہمانوں کی عزت افزائی ہو۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں