0

اہم اوراحساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی پرحکومتی طرزعمل انتہائی افسوناک ہے،امیرحیدر خان ہوتی

نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر  سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ امیر حیدر خان ہوتی نے کہا ہے کہ اہم اور احساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی پر حکومتی طرز عمل انتہائی افسوناک ہے کیوں ایک ایسے احساس ادارے کے سربراہ کی تعیناتی کو متنازعہ بنایا گیا اس سے قبل آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے طریقہ کار کو بھی غلطیوں سے کام لیا گیا موجودہ سلیکٹیڈ وزیر اعظم نے عدلیہ الیکشن کمیشن اور دیگر اہم قومی اداروں میں مداخلت کرکے متنازعہ بنانے کی بھر پور کوشش کی ہے جو کہ ملک کے مفاد میں نہیں ہے، پاکستان میں بہت کچھ ہوا ہے سلیکٹیڈ وزیر اعظم نے قوم کے ساتھ جو کرنا تھا وہ کر لیا لیکن اب سلیکٹیڈ ان کے ساتھ بھی گیم کھیل رہا جو اس کو لیکر آئے تھے آخر وہ بھی اس کاکچھ نہ کچھ علاج کرنے کا سوچ رہے ہوں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے نوشہرہ امان گڑھ میں عوامی نیشنل پارٹی تحصیل نوشہرہ کے صدر زاہد خان کی رہائشگاہ پر کارکنوں کے بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ضلعی صدر جمال خان خٹک، جنرل سیکرٹری انجینئر حامد علی خان،تحصیل نوشہرہ کے صدر زاہد خان نے بھی خطاب کیا جبکہ تقریب میں نور عالم خان ا یڈوکیٹ ،عرفان خٹک، حاجی طفیل محمد، پی کے 63کے سابق امیدوار میاں وجاہت کاکاخیل بھی موجود تھے امیر حید ر خان ہوتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کا مطالبہ عوامی نیشنل پارٹی کا تھا بلدیاتی انتخابات ہونے چاہیے عوامی نیشنل پارٹی کو بلدیاتی انتخابات کے انعقاد پر کوئی اعتراض نہیں لیکن الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگیکیلئے جو وقت دیا ہے وہ انتہائی قلیل ہے وقت دینا چاہیے اور دوسری بات کہ اگرالیکشن کمیشن تحصیل کونسل کی سطح پر سیاسی بنیادوں پر انتخابات کا اعلان کیا ہے توپھر ویلج کونسل سطح پرغیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کے انعقاد میں کیا منطق ہے،  انہوں نے مزید کہا کہ اگر مہنگائی سابق حکومتوں کی ناقص طرز حکمرانی کی وجہ سے آئی ہے تو کیا اتنی زیادہ مہنگائی نواز شریف کی دور میں تھی یا پیپلز پارٹی کے دور میں تھی مہنگائی تو اب آئی کیوں کہ موجودہ دور میں جتنی مہنگائی آئی ہے اس کی پاکستان کی  75سالہ تاریخ میں مثال نہیں ملتیانہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سلیکٹیڈ حکمران اپنی ہر ناکامی، ہر غفلت، ہر کوتاہی اور غلطی کو سابقہ حکمرانوں کے سر تھوپتا ہے اگر مہنگائی سبقہ حکمرانوں کی وجہ سے تھی تو اس وقت ڈالر کی قیمت 175روپے کا کیوں نہیں تھا اور دال، آٹا، گھی چینی مہنگی کیوں نہیں تھی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں