0

جمرود، قبائیلی علاقوں میں مشران کا بلدیاتی انتخابات کے خلاف عدالت میں کیس دائر کرنے کا اعلان

جمرود (مانند نیوز ڈیسک) اس سلسلے میں جمرود ملک بسم اللہ خان کوکی خیل کے رہائش گاہ پر فاٹا قومی جرگہ کا ایک اہم جرگہ منعقد ہوا جس میں باجوڑ سے وزیرستان تک چیدہ چیدہ قبائلی مشران و نوجوانان نے شرکت کی۔جرگہ کے بعد جمرود پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فاٹا قومی جرگہ کے مشران ملک بسم اللہ خان افریدی،ملک شکیل اورکزئی۔ملک نجیب طورخیل،نائب خان افریدی۔ملک نقاب شاہ افریدی،ملک زیارت گل مومند،ملک ضراب خان۔ملک تماش شلمانی،ملک رقیب گل وزیر،ملک بوستان مومند،جعفر آدم خیل،ملک منور خان اورکزئی،ملک محمدی شاہ باجوڑ۔ملک یار محمد ایف ار پشاور و دیگر نے کہا کہ قبائیلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے لیے حالات موزوں نہیں ہے جبکہ حالات بھی سازگار نہیں ہے  کیونکہ یہاں پر ہزاروں خاندان اب بھی اپنے علاقوں سے آئی ڈی پی ہیں اور اب بھی اپنے علاقوں سے باہر زندگی بسر کررہے ہیں اور ان کے گھر بار تباہ ہوچکے ہیں اپنے علاقوں کو واپس نہیں جاسکتے اس لیے موجودہ وقت میں بلدیاتی انتخابات کرانا موزوں نہیں ہے۔فاٹا قومی جرگہ مشران نے کہاکہ ہم نے ملکر مشترکہ فیصلہ کیا ہے کہ قبائلی علاقوں میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کا فیصلہ واپس لیا جائے کیوں کہ قبائلی علاقوں میں امن پوری طرح قائم نہیں ہوا ہے اور اب بھی ایسے علاقے موجود ہیں کہ جہاں پر قبائلی عوام کو جانے کی اجازت نہیں ہیں جبکہ غلط مردم شماری کے باعث قبائلی اضلاع کے کئی علاقوں کو اکثریت کی جگہ پر اقلیت میں تبدیل کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ  قبائیلی علاقوں میں متاثرین اپنے گھروں سے باہر ہے اس وقت بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ فاٹا انضمام کو ہر گز نہیں مانتے کیونکہ فاٹا انضمام بالجبر کیا گیا ہے۔ فاٹا انضمام کے خلاف سپریم کورٹ میں کیس جاری ہے اور ایسے وقت میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد توہین عدالت ہیں۔انہوں نے کہا کہ قبائیلی علاقوں میں درست مردم شماری نہیں ہوئی درست مردم شماری تک بلدیاتی انتخابات کی ہر گز اجازت نہیں دے سکتے۔انہوں نے حکومت و ریاست سے مطالبہ کیا کہ 25 ویں آئینی ترمیم و فاٹا انضمام کا خاتمہ کرکے قبائیلی رسم و رواج کو بحال کیا جائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں