0

ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک کا روپے کی قدر کے اتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے روپے کی قدر کے اتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف کرلیا،اجلاس میں بڑھتی مہنگائی کے حوالے سے کمیٹی ارکان پھٹ پڑے، گورنر سٹیٹ بینک کے بیان پر وضاحت طلب کر لی۔ بد ھ کو سینیٹر طلحہ محمود کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، جس میں ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے روپے کی قدر میں کمی اور مہنگائی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ایکسچینج ریٹ کی حرکت کا مہنگائی پر اثر پڑتا ہے، ایکسچینج ریٹ کا اثر اس وقت مہنگائی پر نظر آتا ہے، اس وقت خوراک اور توانائی کی مہنگائی پوری دنیا میں ہے۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ لاہور میں ایک شخص سے 65 لاکھ ڈالر پکڑے گئے ہیں، ڈالر افغانستان سمگل ہورہا ہے جس کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک نے چیئرمین کمیٹی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں طلب و رسد ایکسچینج ریٹ کا تعین کرتا ہے۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ ڈالر کی اڑان سے فائدہ ہونے کی باتیں درست نہیں ہیں، گورنر سٹیٹ بینک کا بیان حقائق کے برعکس ہے، آج روپیہ ٹکے سے بھی آدھا ہوگیا، ڈالر کے حوالے سے عالمی ادارے کہہ رہے ہیں کہ 200 تک جائے گا، ایک دم ڈالر کے اوپر جانے پر سٹیٹ بینک نے کوئی جواب نہیں دیا، ہمیں تو حکومت کی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آتی۔چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ جو بیان گورنر سٹیٹ بینک نے دیا اس کی کیا مقصد تھا، حکومت کے غیر ذمہ دار بیانات کا عوام پر اثر پڑتا ہے، گورنر سٹیٹ بینک کوئی سیاسی عہدہ نہیں، ان کو سیاسی بیان نہیں دینے چاہئے۔ ق لیگ کے سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ گورنر سٹیٹ کا بیان غلط ہے اور بیرون ملک پاکستانیوں کو اس سے نقصان ہورہا ہے، روپے کی قدر کو مستحکم کرنا حکومت کی اور سٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے۔ بی اے پی کے سینیٹر انوارالحق کاکڑ نے کہا کہ مجھے افسوس ہورہا ہے گورنر سٹیٹ بینک نے ایسا بے تکا بیان دیا ہے، ایسے بیان کا سٹیٹ بینک کے لوگ دفاع کررہے ہیں، روپے کے اتار چڑھاؤ پر قابو پانا سٹیٹ بینک کی ذمہ داری ہے، جب سے گورنر سٹیٹ بینک آئے ہیں روپے کی قدر میں بہت بڑی کمی آئی۔ن لیگ کی سینیٹر سعدیہ عباسی نے کہا کہ مہنگائی پاکستان میں با لکل بے قابو ہوچکی ہے، یوٹیلیٹی پرائسز اور آئل پرائسز میں اضافہ ہورہا ہے، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بتایا جائے کہ مذاکرات چل رہے ہیں۔ لیگی سینیٹر مصدق ملک نے کہاکہ کیا سٹیٹ بینک نے پچھلے 3 سال میں ڈالر کی قیمت کے حوالے کوئی مداخلت نہیں کی، تین سال میں 50 فیصد روپے کی قدر میں کمی ہوئی اور برآمدات 3 فیصد بڑھیں، درآمدات ذرا کم ہوئیں تو شادیانے بجائے گئے، روپے کی قدر میں کمی سے جی ڈی پی تباہ ہوئی،اب پالیسی ریٹ بڑھانے کی بات ہورہی ہے تو پھر معیشت ڈوبنے کا خطرہ ہے، ڈالر ایک روپیہ مہنگا ہوتو کیپسٹی پیمنٹ میں 3 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔۔حکومتی سینیٹر ولید اقبال نے بھی گورنر سٹیٹ بینک کے بیان کو حقائق کے منافی قرار دے دیا۔اجلاس میں ڈپٹی گورنر سٹیٹ نے روپے کی قدر کے اتار چڑھاؤ میں مداخلت کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ پوری دنیا میں مرکزی بینکس مداخلت کرتے ہیں۔ جس پر سینیٹر کامل علی آغا نے ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک سے سوال کیا کہ سٹیٹ بینک کیسے مداخلت کرتی ہے ہمیں بتایا جائے، ڈالر 153 سے 175 پر چلا گیا سٹیٹ بینک نے مداخلت کیوں نہیں کی۔ ایم کیو ایم پاکستان کے سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ جب میکنزم ہے تو پھر بتایا جائے کہ کس وقت مداخلت کی جاتی ہے۔سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں مہنگائی کی بات کی جاتی ہے تو پھر ڈالر کی قیمت کیوں بڑھ رہی ہے، اشیا ئے ضروریہ کی قیمتوں میں ایک دفعہ اضافہ ہوجائے تو پھر کمی نہیں ہوتی، اسحاق ڈار کو اسحاق ڈالر کہتے تھے کہ وہ گیمبلنگ کرتے تھے، آج تو 24 دفعہ گیمبلنگ ہوئی ہے اور کوئی پوچھتا نہیں ہے۔اجلاس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے حوالے سے کمیٹی ارکان پھٹ پڑے، اور کمیٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک کے بیان پر وضاحت طلب کرلی، جب کہ کمیٹی نے ایکسچینج ریٹ میں مداخلت کا میکنزم بھی اسٹیٹ بینک سے طلب کرلیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں