0

سراج الحق کا پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے خلاف تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ سے رجوع

 اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے پنڈورا لیکس میں شامل افراد کے خلاف تحقیقات کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔جماعت اسلامی پاکستان نے پینڈوراپیپرز میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کے لئے سپریم کورٹ میں متفرق درخواست دائر کی ہے جس میں وفاق ودیگر کو فریق بناتے ہوئے استدعاکی گئی ہے کہ جن لوگوں کے نام پینڈورا پیپرز میں سامنے آئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے۔ جماعت اسلامی کی جانب سے دائر 32صفحات پر مشتمل متفرق درخواست میں پاناما پیپرز میں شامل لوگوں کے خلاف بھی کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی۔اشتیاق احمد راجہ ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ  پنڈورا پیپرز میں بڑے بڑے پاکستانی شہریوں کے نام سامنے آئے،پینڈورا پیپرز پاناما لیکس کا تسلسل ہے، پینڈورا پیپرز میں بھی پاناما کی طرح بڑے لوگوں کے نام سامنے آئے، پنڈورا پیپرز پر حکومت نے تحقیقات کا عمل شروع کیا لیکن ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی، پاناما لیکس کی درخواست پہلے سے سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے عدالت پانامہ کے ساتھ پینڈورا پیپرز کی بھی تحقیقات کرائے۔ درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ پاناما پیپرز کا معاملہ پہلے ہی عدالت کے پاس زیر سماعت ہے  لیکن پنڈوراپیپرز کے معاملے کے حوالے سے دائر یہ درخواست منظور کی جائے اور پینڈورا پیپرز میں آنے والے لوگوں کے نام بھی ریکارڈپر لائے جائیں تاکہ ان کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکے۔درخواست کے ساتھ قومی اخبارات میں شائع ہونے والی خبریں بھی منسلک کی گئی ہیں جن میں وفاقی وزراء سمیت دیگر کاسات سو سے زائد لوگوں کے نام بھی شامل ہیں۔ اس موقع پرامیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنڈورا پیپر سامنے آنے کے بعد وفاقی حکومت کو فوری سپریم کورٹ آنا چاہیے تھا لیکن 50 دن گزر گئے حکومت نے کچھ نہیں کیا، موجودہ حکومت ناکام ہوچکی ہے، وہ بے بس ہے۔ حکومت جے آئی ٹی بناتی لیکن حکومت نے پنڈورا پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا، حکومت نے پنڈورا پیپرز پر بنائے گئے سیل تمام سرکاری افسران کو شامل کردیا، 50 دن گزرنے کے بعد بھی حکومتی سیل حرکت میں نہیں آیا۔ اس معاملے پر حکومت اور اپوزیشن دونوں خاموش ہیں، کیونکہ اس میں بڑے لوگ شامل ہونے کی وجہ سے سب خاموش ہیں۔امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ آج ہر چوک میں پاکستانی کرپشن کے خلاف بات کرتے ہیں، کرپشن کے خلاف نظام نہ ہونے کی وجہ سے آج تک کرپشن ختم نہ ہوسکی، پاناما لیکس میں 436 افراد کے نام شامل تھے، سپریم کورٹ نے پاناما کیس میں شامل افراد کے خلاف فیصلہ دینے کی بجائے نواز شریف کے خلاف فیصلہ دیا، چار سال گزر گئے بار بار درخواستوں کے باوجود پاناما میں شامل دیگر لوگوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوئی، پنڈورا پیپر میں 700 سے زیادہ لوگ شامل ہیں، پاناما اور پنڈورا میں شامل تمام لوگوں کے خلاف کاروائی ہونی چاہیے، سپریم کورٹ کا فرض ہے حقیقی انصاف قائم ہو، ملک میں احتساب کے ادارے ناکام اور جانبدار ہو گئے۔سراج الحق نے کہا کہ پاکستان کی تباہی کے لئے آستین کے سانپ کافی ہیں، عمران خان کہتے تھے لیڈر ٹھیک ہو تو سب ٹھیک ہوجائے گا، وزیراعظم بننے سے پہلے عمران خان نیب کو آزاد کرنے کی باتیں کرتے تھے، آج عمران خان چاہتے ہیں نیب اور الیکشن کمیشن ان کے ہاتھ کی لاٹھی بن جائے، پی ٹی آئی کی حکومت نے نیب کے پر کاٹ کر اس کو کھلونا بنا دیا، آج نیب صرف غریب پر ہاتھ ڈال سکتا ہے۔ عمران خان کے چاروں طرف مافیاز بیٹھے ہیں، سوا تین سال کے دوران سامنے آنے والے تمام اسکینڈلز میں حکومت کے لوگ شامل ہیں، چینی بحران سے 184 ارب اور آٹا بحران سے 220 ارب کا نقصان پہنچایا گیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں