0

محمدذادہ قتل، الطاف شیخ کےخلاف کاروائی کا مطالبہ

سخاکوٹ (مانند نیوز ڈیسک) سخاکوٹ میں قتل ہونے والے انصاف سٹوڈنٹس فیدریشن کے سابق ضلعی صدر اور معروف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ نوجوان محمد زادہ آگرہ کے قتل کے خلاف ہزاروں مظاہرین نے لاش مین ملاکنڈ شاہراہ پر پانچ گھنٹے تک رکھ کر احتجاجأئ ملاکنڈ شاہراہ بند کردیا۔ انتظامیہ سے اصل ملزمان کے گرفتاری کا مطالبہ۔محمد زادہ آگرہ کو گذشتہ شام نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ابدی نیند سُلادیا تھا۔ واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت نے ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ اور اسسٹنٹ کمشنر درگئی کا تبادلہ کیا۔ تفصیلات کے مطابق:۔ گذشتہ شام نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن کے سابق ضلعی صدر اور معرو ف سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ محمد زادہ آگرہ ولد خانزادہ زرگر کو اپنے گھرواقع کالج کالونی سخاکوٹ کے قریب قتل کیا تھا جس کے خلاف مشتعل ہزاروں مظاہرین نے لاش سخاکوٹ مین چوک میں سڑک پررکھ کر احتجاجأئ ملاکنڈ روڈپانچ گھنٹے تک بندرکھا۔ہزاروں مظاہرین قاتلوں کے گرفتاری اور ضلعی و تحصیل انتظامیہ کے ناقص کارکردگی کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے رہیں۔ اس دورا ن ممبر صوبائی اسمبلی پیر مصور خان، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی فضل الٰہی سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین جن میں سابق ایم پی اے سید محمد علی شاہ باچہ، جماعت اسلامی کے ضلعی آمیر مولانا جمال الدین،قاضی رشید احمد، عوامی نشنل پارٹی کے ضلعی صدر اعجاز علی خان، سابق ضلعی صدر شفیع اللہ خان، نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے سابق ضلعی صدر معوذ خان شلمانی، آمن جرگہ خیبر پختونخواہ کے صدر سید کمال شاہ باچہ، پاکستان مسلم لیگ ن کے یار محمد خان، گل زمان خان، پی ٹی آئی کے ڈاکٹر فضل محمد،مولانا سید الابرار، متحدہ ٹریڈ یونین کے صدر حمید خان لالا، مولانا عابد اللہ عابد،عابد خان سمیت علاقائی مشران شامل تھے نے خطاب کیا۔مظاہرین نے کہا کہ محمد زادہ آگرہ کو حق گوئی اور معاشرے سے منشیات جیسے لعنت کے خاتمے کے لئے اواز اٹھانے پر قتل کیا گیا ہے جوکہ کھلم کھلا دہشت گردی کے مترادف ہے۔ اس دوران مقتول محمد زادہ کے قاتلوں کے گرفتاری اور ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ الطاف احمد شیخ اور اسسٹنٹ کمشنر درگئی فواد خان خٹک کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا گیا جس پر ممبر صوبائی اسمبلی پیر مصور خان اور دیگر قائدین نے یقین دہانی کرائی کہ اصل ملزمان کو جلد گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا۔ انتظامیہ اور علاقائی مشران منتخب ممبران اور مقتول کے ورثاء کے درمیان مذاکرات کے بعد مظاہرین نے لاش دفنانے کی اجازت دی

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں