0

چترال، گرم چشمہ سڑک کی مرمت کا کام چار ماہ بعد مکمل ہوا، عوام میں خوشی کی لہر دوڑ گئی

چترال (گل حماد فاروقی) کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ گرم چشمہ سڑک  پر سینگور اور بلچ گاؤں میں  مرمت اور  تارکول کا کام  آحر کار  مکمل ہوا۔  اس سڑک میں گہرے کھڈے  اور حراب ہونے کی وجہ سے مسافروں کو نہایت مشکلات کا سامنا تھا۔ عوام کی مشکلات کے پیش نظر  نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اس سڑک کا ٹھیکہ جولائی میں دیا تھا مگر ان ٹھیکداروں کے پاس مشینری نہ ہونے کی وجہ یہ کام کافی تاحیر کا شکار ہوا۔ آحر کار اس کام کو این ایچ اے نے  NKB نامی تعمیراتی کمپنی کو  سونپا جو اپنے معیار کے حوالے سے تعمیراتی کاموں  میں ایک نمایاں نام رکھتی ہے۔ اس کمپنی نے دو دنوں کے اندر اندار  اس کام کو نمٹادیا۔  گرم چشمہ سڑک پر پچاس ہزار سے زائد آبادی مقیم ہیں اور سڑک کی حرابی کی وجہ سے  مسافروں  کو نہایت مشکلات کا سامنا تھا۔ اب یہ سرک بن گیا جس کے باعث مسافروں کو سفر میں آسانی ہوگی اور حادثات بھی کم ہوں گے۔ اس سڑک کی تعمیر پر علاقے کے لوگ نہایت خوش ہیں۔ حاجی صاحب گار اسی سڑک کے کنارے سینگور میں ایک نجی سکول چلاتا ہے ان کا کہنا ہے کہ پہلے اس سڑک کی حالت بہت حراب تھی اور حاص کر بارش اور برف باری کے  وقت سکول کے بچوں اور بچیوں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ تھا۔حاص کر جب جولائی میں اس سڑک کی مرمت کے عرض سے اس پر مقامی ٹھیکدار نے روڑہ اور پتھر ڈالے تو اس کے بعد لوگوں کو اس سڑک پر آنے جانے میں بہت مشکلات کا سامنا تھا۔ اب یہ کام این کے بی کمپنی کے حوالہ ہوا جنہوں نے 2 دن کے اندر اسے مکمل ہوا اور ہم بہت خوش ہیں۔ انہوں نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ساتھ ساتھ این کے بی کمپنی کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے نہایت معیاری کام کرکے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل کیا۔علی نفیس بھی ڈاکٹر کالونی میں رہتا ہے ان کا کہنا ہے کہ اس سڑک پر چار ماہ قبل کام شروع ہوا تھا جو ایک مقامی ٹھیکدار کررہا تھا مگر اس کے پاس مشینری تو دور کی بات ایک بلچہ بھی شائد نہیں تھا  یہی وجہ ہے کہ یہ کام نہایت تاحیر کا شکار ہوا اس کے بعد این ایچ اے نے کسی اور ٹھیکدار کو دیا وہ بھی ناکام ہو ا پھر تیسرے کو دیا اور اب چھوتی بار NKB کمپنی کو دیا جن کے پاس اپنی مشینری ہیں اور کام بھی معیاری کاررہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم این ایچ اے اور دیگر مواصلاتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آئندہ کبھی بھی کسی ایسے ٹھیکدار کو ٹھیکہ نہ دے جس کے پاس اپنی مشینری نہ ہو کیونکہ وہ ٹھیکہ تو لیتا ہے مگر کام نہ ہونے کی وجہ سے عوام کو بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سینگور کا نیا پل  70 کروڑ روپے کی لاگت سے بن گیا مگر اس  کے ساتھ ہی ایک نجی کالج کے سامنے دو فٹ سے زیادہ پانی سڑک پر کھڑا ہوتا ہے جس سے راہگیروں کو نہایت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے میری درخواست ہے کہ اس سڑک کو بھی جلد سے جلد بنائے۔این کے بی کے پراجیکٹ منیجر امیر زادہ نے بتایا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے بہترین سڑکوں کا ہونا نہایت  ضروری ہے اور اچھی سڑک اس کی ترقی کا پہلا زینہ سمجھا جاتا ہے NKB بہترین سڑکیں بنانے میں ایک نام رکھتا ہے اور ہم کبھی مقدار اور معیار پر سمجھوتہ نہیں کرتے۔اس سڑک کی تعمیر سے  ایک طرف اگر مسافروں  کو سفر کرنے میں آسانی ہوگی تو دوسری طرف حادثات میں بھی کمی آئے گی

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں