0

سوات، تمام دفاتروں میں کام کرنے والے خواتین کو ہر اسمینٹ کرنے پر سخت سزائیں موجود ہے

سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات تمام دفاتروں میں کام کرنے والے خواتین کو ہراسمینٹ کرنے پر سخت سزائیں موجود ہے، متاثرہ خواتین صوبائی محتسب کو شکایت کرسکتی ہے ان کو انصاف دلایاجائیگا، رخشندہ ناز صوبائی محتسب، مینگورہ میں سوشل ویلفیئر، ضلع انتظامیہ اور صوبائی محتسب کے زیر انتظام سمینار سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی محتسب رخشندہ ناز نے کہاکہ 2010میں بنائے گئے قانون کے تحت تمام کارکن خواتین کو کام کے دوران ہراسمینٹ کرنے پر سخت سزائیں موجود ہے، انہوں نے کہا کہ کسی بھی خاتون کو تنگ کرنا، ان کو گالیاں دینا، ان کو نازیبا اشارے کرنا، فحش اور بے وقت مسیجز کرنا، حتی کہ ان کو کام سے روکنا اور ان کے کام میں جنس کے بنیاد پرخلل ڈالنا، یا ان کے لئے دفتری ماحول کو ناپسندید بنانا ہراسمینٹ کے زمرے میں آتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس کے لئے باقاعدہ قانون موجود ہے، متاثرہ خاتون وفاقی یا صوبائی محتسب کو ٹیلی فون کرکے، درخواست دے کر یا دفتر پہنچ کر اپنی شکایت کرسکتی ہے، ان کو انصاف دیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ تمام محتسب کو جج کی اختیارات حاصل ہے۔ اس موقع پر مختلف سرکاری اداروں میں کام کرنے والے خواتین، سماجی اداروں کے نمائندہ گان، وکلاء حضرات اور سرکاری اہلکار بھی موجود تھے، سمینار میں کہاگیا کہ صوبائی حکومت مختلف اداروں میں خواتین کو کام کی جگہ یا عام جگہوں پر ہراسمینٹ کرنے کے حوالے سے آگاہی مہم چلا رہے ہیں تاکہ اپنے گھروں کے لئے کمائی کرنے والے کارکن خواتین کو ان کے حقوق دلائے جائیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں