0

تبدیلی سرکار قبائلی اضلاع کے باسیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے، سینیٹر مشتاق احمد

باجوڑ (مانند نیوز ڈیسک) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ تبدیلی سرکار قبائلی اضلاع کے باسیوں کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کررہی ہے۔قبائلی عوام اس کا بدلہ 19 دسمبر کو ان کے امیدواروں کو شکست دے کر لیں گے۔ پارلیمنٹ میں گونگے بہرے لوگوں کو بھیجا گیا ہے جنہیں یہ تک پتہ نہیں کہ جس بل کے بارے میں وہ ہاں کہہ رہے ہیں اس کے نتایج کیا ہوں گے۔2018ء کے انتخابات میں ہمارے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا تھا لیکن اب ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ باجوڑ جماعت اسلامی کا گڑھ ہے۔ 19 دسمبر کو بلدیاتی انتخابات بھرپور کامیابی حاصل کریں گے۔ پشاور، سوات اور نوشہرہ میں وزیر اعلیٰ کے فلاپ جلسے ان کے خلاف عوامی ریفرنڈم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پی ٹی آئی سرکار کو اپنے انجام کا ادراک ہے اس لئے اب بلدیاتی انتخابات سے راہ فرار اختیار کرنے کیلئے انھوں نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت کو بلدیاتی انتخابات سے بھاگنے نہیں دیں گے۔ بلدیاتی انتخابات کے اعلان کے بعد وزیر اعلیٰ کے جلسے اور سرکاری مشینری کا استعمال الیکشن کمیشن کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔الیکشن کمیشن خاموش تماشائی نہ بنے بلکہ اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کا استعمال کرکے ان لوگوں کو قانون کی دھجیاں اڑانے سے روکے۔ بلدیاتی انتخابات کو ملتوی کرانے کی کوشش کی گئی تو پارلیمنٹ، میڈیا، چوکوں اور چوراہوں پر احتجاج کریں گے۔ عدلیہ کی آزادی کا دعویٰ اچھی بات ہے۔ ہم اس کی تحسین کرتے ہیں لیکن اگر عدلیہ آزاد ہے تو پانامہ اور پینڈورا پیپرز، آئی پی پیز، آٹا، پٹرول اور لینڈ مافیا کا محاسبہ کیوں نہیں ہورہا۔ ممتاز قبائلی ملکانان کے ساتھ ہمارا اتحاد خلوص اور محبت پر مبنی ہے ہم نے بلدیاتی انتخابات میں خدمت خلق کے جذبے سے سرشار امیدواروں کو میدان میں اتارا ہے اور انشاء اللہ جیت جماعت اسلامی ہی کی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے مرکز علوم اسلامیہ عنایت قلعہ میں گرینڈ ورکرز کنونشن اور بعد ازاں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی باجوڑ کے امیر سردار خان، اتحاد ملکانان باجوڑ کے سربراہ ملک ایاز خان اور جماعت اسلامی کے دیگر رہنما اور ملکانان بھی موجود تھے۔ سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ قبائلی علاقوں کو ابھی تک تین فیصد این ایف سی نہیں دیا گیا۔ قبائلی نوجوان بے روزگار ہیں اور انھیں بہتر تعلیم کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی جارہیں۔ ایچ ای سی کو اعلیٰ تعلیم کے لئے قبائلی نوجوانو ں کو سکالر شپس نہیں دے رہی۔ یہاں نہ ہسپتال ہیں، نہ سڑکیں ہیں، نہ صاف پانی ہے اور نہ ہی اچھے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ قبائلی عوام پتھر کے دور میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے عوامی مسائل سے آنکھیں چرائی ہیں، عوام کو مافیا کے سپرد کردیا ہے۔ ان کے ممبران اور وزراء نوکریاں اور ترقیاتی منصوبے بیچ رہے ہیں۔ یہ نمائندے اب عوام کے پاس جانے سے گھبرا رہے ہیں کیونکہ عوام کو ان کی اصلیت معلوم ہوچکی ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے غیر جماعتی بنیادوں پر انعقاد کی کوششیں بھی اسی کا نتیجہ ہیں۔ 19دسمبر کو عوام پی ٹی آئی سے اپنی محرومیوں کا انتقام لیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ ہمارے دروازے اس شرط پر تمام سیاسی جماعتوں کے لئے کھلے ہیں کہ وہ ہمارے نمائندوں کی حمایت کریں گے۔ جماعت اسلامی کے ایک درجن سے زائد کونسلر بلا مقابلہ کامیاب ہوچکے ہیں۔ آج (پیر،22نومبر) کو کامیاب امیدواران کی فہرست میڈیا کو فراہم کریں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں