0

پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ اس وقت نیب ہے، شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پاکستان کا سب سے کرپٹ ادارہ اس وقت نیب ہے۔لاہور میں عاصمہ جہانگیر کی یاد میں منعقد کانفرنس سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ قانون کسی بھی شہری کو 7 سال کا مالی کھاتہ برقرار رکھنے کا کہنا تھا جبکہ مجھ سے 35 سالہ ریکارڈ طلب کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آپ حقیقتا احتساب چاہتے ہیں تو میں اس کے لیے حاضر ہوں لیکن قومی احتساب بیورو (نیب) احتساب نہیں ہے، آپ جو بھی نیب کو نام دیں لیکن وہ احتساب کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔احتساب کے نام پر جو قانون بنتے رہے وہ ان لوگوں پر کبھی اپلائی نہیں ہوئے جنہوں نے قانون بنائے، یہ قوانین ججز جرنیلوں بیورو کریسی اور صنعت کاروں کے لیے نہیں بنائے گئے، نیب کا نشانہ صرف سیاستدان بنے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سیاستدانوں کے احتساب بہت آسان ہے جو ٹیکس قانونی کے ذریعے کیا جا سکتا ہے، اگر سیاستدان کروڑوں روپے مالیت کی گاڑی اور اراضی رکھتا ہے لیکن وہ ٹیکس ادا نہیں کرتا تو وہ کرپٹ ہے لیکن کوئی بھی اس سمت میں نہیں سوچ رہا۔ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے احتساب کے قوانین بنائے وہ ان پر لاگو نہیں ہوتے، لوگ اپنی وفا داریاں تبدیل کرتے ہیں اور احتساب سے بچ جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس کے دوران کوئی بیروکریٹک کام نہیں کررہا، نیب کا تفتیشی افسر سیکریٹری کے سامنے دو پیپر رکھتا ہے کہ ایک وارنٹ ہوتا ہے اور دوسرا متعلقہ وزیر کے خلاف مالی کھاتوں میں تصدیق کا پیپر ہوتا ہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کبھی بھی اقتدار میں موجود طاقتور طبقے کے خلاف کارروائی نہیں کرتا، 80 فیصد سے زیادہ سیاستدان قومی خزانے کی دولت میں براہ راست مداخلت نہیں کرتے، گورننس کی ناکامی کی بڑی وجہ نیب ہے۔ان کا کہنا تھا کہ نیب کے الزامات کے بعد متاثرہ شخص کی ساکھ خراب ہوجاتی ہے، وہ کاروبار نہیں کرپاتا اور وہ بینک سے لون نہیں لے سکتا، محض الزام کی بنیاد پر اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔انہوں نے وکلا کو مخاطب کرکے کہا کہ کیا آپ نواز شریف کے خلاف دائر مقدمات کے فیصلوں کو دنیا کی کسی عدالت میں دلائل کا حصہ بنا سکتے ہیں؟ان کا کہنا کہ لیکن یہ حقیقت بھی جان لیں کہ نیب نے 21 برس میں صرف ایک سیاستدان کے خلاف عدالتی فیصلہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوا، تو سوال ہوتا ہے کہ دیگر لوگ کہاں ہیں؟ قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے دیگر لوگ کدھر ہیں؟وہ ہر حکومت میں موجود ہوتے ہیں۔ان کہنا تھا کہ اتفاق رائے سے ہی نیب کے قوانین میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں