0

محکمہ تعلیم سوات کے تحت ڈرائیوروں اور کلاس فور کی بھرتیوں پر اعتراضات کا جائزہ

سوات (مانند نیوز ڈیسک) سال 2019 میں ضلعی محکمہ تعلیم سوات کے تحت ڈرائیوروں اور کلاس فور کی بھرتیوں پر اعتراضات کا جائزہ لینے کے لئے قائمہ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کے ذیلی کمیٹی کا اجلاس سیدو شریف میں منعقد ہوا۔ اجلاس دو دن تک جاری رہا۔ ذیلی کمیٹی کے چیئرپرسن و ممبر صوبائی اسمبلی فہیم احمد نے اجلاسوں کی صدارت کی۔ اجلاسوں میں ممبران صوبائی اسمبلی سردار خان اور وقار احمد خان نے شرکت کی۔ جبکہ اجلاسوں میں ڈائریکٹر محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم نیخات اللہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹرز محمد اعظم خان و حامد رسول، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل محمد ریاض، ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر فیمیل شمیم اختر، ڈی ای او میل کوہستان محمد آمین،ایکس ڈپٹی ڈی ای شیر محمد اور محکمہ قانون سے متعلقہ آفیسرز شریک ہوئے۔اجلاسوں میں سال 2019 میں کئے گئے ڈرائیور اور کلاس فور کی بھرتیوں پر اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ چیئرپرسن و ممبران صوبائی اسمبلی نے اس سلسلے میں مختلف ڈاکومنٹس اور بھرتیوں کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار کا مفصل جائزہ لیا۔ ایجوکیشن آفیسر میل نے ڈرائیور کے لئے نشستوں پر بھرتی کئے گئے ڈرائیوروں کی تفصیل فرداً فرداً اجلاس کے سامنے رکھی اور بھرتی کے لئے اپنائے گئے طریقہ کار پر اجلاس کو بریفنگ دی۔ اسی طرح کلاس فور کی نشستوں پر کئے گئے بھرتیوں پر بھی ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل نے اجلاس کو تفصیل سے آگاہ کیا۔ اجلاسوں میں چئیرپرسن و ممبران صوبائی اسمبلی نے مختلف سوالات اٹھائے جس پر ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر میل و فیمیل نے اجلاس کو اعتماد میں لینے کے لئے مفصل بحث کی اور سوالات کے جوابات دئے۔ ضلعی محکمہ تعلیم کی جانب سے اجلاس کو بتایا گیا کہ سال 2019 میں ضلعی محکمہ تعلیم کے مختلف سکولوں و دفاتر میں ڈرائیوروں اور نائب قاصدوں کی خالی آسامیوں پر بھرتیاں کی گئیں۔ ضلعی محکمہ تعلیم نے اجلاس کو بتایا کہ خالی آسامیوں پر بھرتیاں ضلع سوات سے کی گئی ہیں۔ چیئرپرسن سب کمیٹی و ممبر صوبائی اسمبلی فہیم احمد کا احکامات دیتے ہوئے کہنا تھا کہ کلاس فور ملازمین کی بھرتیوں میں مقامی افراد کو ترجیح دی جائے اور تمام بھرتیاں قواعد و ضوابط کے تحت عمل میں لائی جائیں۔ یاد رہے کہ ذیلی کمیٹی چیئرپرسن ایم پی اے فہیم احمد کی سربراہی میں سوات کا دورہ کیا اور بھرتیوں کے معاملے کی مکمل چھان بین کی۔ چئیرپرسن نے اس سلسلے میں مفصل رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے ابتدائی و ثانوی تعلیم کو پیش کرنے کے احکامات جاری کئے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں