0

بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا، عمران خانٓ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا، کسی ملک پر کرپٹ لیڈر سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں ہوسکتا۔ ان خیالات کا اظہار وزیر اعظم عمران خان نے القادر یونیورسٹی  کے اکیڈمک بلاک کا افتتاح کرنے کے بعد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں سمجھتا کہ میں باقیوں سے دین بہتر سمجھتا ہوں لیکن میں تاریخ کا طالب علم ہوں اور میں نے تاریخ  کا بڑا مطالعہ کیا، میری عمر تقریباً پاکستان جتنی ہے اور میں نے پاکستان کو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے دیکھا، ایک وقت ایسا بھی تھا کہ پاکستان اس خطہ میں سب سے تیزی سے ترقی کررہا تھا اور پاکستانیوں کی دنیا میں عزت تھی، ہمارے صدر جب 60کی دہائی میں امریکہ گئے تو امریکی صدر خود ان کا ایئرپورٹ  پر استقبال کرنے آئے،روسی صدر جب برطانیہ گیا تو اس کا جس طرح استقبال کیا گیا کیونکہ ایک ملک کی حیثیت تھی اور لوگ یہ دیکھ رہے تھے کہ ملک بڑی تیزی سے اوپر جارہا تھا اوراس حوالے سے پیشگوئیاں بھی تھیں، ایک کتاب میں اس بات کاذکر کیا گیا کہ پاکستان ایشیاء کا کیلیفورنیا بننے جارہاہے اور پھر ہم نے اس کا زوال بھی دیکھا، نیچے بھی آتے دیکھا اوراسی لئے میری طرح کا آدمی جس کو اللہ تعالیٰ نے  سب کچھ دیا، جس کا بڑا نام تھا، اس لئے وہ سیاست میں آیاکیونکہ سیاست میں جتنے لوگ آئے ہیں ان کو تو کوئی پہلے نہیں جانتا تھا، ان کی کوئی حیثیت نہیں تھی، بعد میں سیاست میں ان کا نام آیا لیکن مجھے تو سارے جانتے تھے اور اللہ تعالیٰ مجھے دے چکا  تھا۔اللہ تعالیٰ جو سب سے بڑا تحفہ دیتا ہے وہ ایمان کاتحفہ ہے، قرآن میں یہ بھی آیت ہے کہ ایمان والے انسان ایمان والے انسان کو پہچان جائیں گے کیونکہ جو ایمان والا انسان ہوتا ہے وہ کئی چیزوں سے آزاد ہوجاتا ہے،جو زمین میں زنجیریں انسان کو اس کا پوٹینشل حاصل کرنے کے لئے روک کررکھتی ہیں، ایمان وہ زنجیریں توڑ دیتا ہے۔ علامہ اقبال اُس کو اقبال کا شاہین کہتے ہیں، وہ زنجیریں توڑ کر اوپرجاتا ہے، اوروہ زنجیریں پیسے کی، پاور، شہرت اور ذات کی ہیں۔ جب اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میں نے اسے اپنی سے عظیم مخلوق بنایا، فرشتوں سے بھی اوپر تواس کا مطلب ہے کہ انسان میں وہ پوٹینشل ہے جو کسی میں بھی نہیں لیکن اس پوٹینشل کو حاصل کرنے کے لئے وہ زنجیریں توڑنی پڑتی ہیں، ایمان وہ زنجیریں توڑ دیتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا اس کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک اسلام کے نام پر نہیں بنا۔ جتنا میں پڑھتا گیا اور جتنا اللہ تعالیٰ میرا ایمان مضبوط کرتا گیا میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ جب تک ہم سیرت النبیﷺ پر نہیں چلیں گے تب تک ہم وہ مقام حاصل نہیں کرسکتے جو علامہ اقبال کا خواب تھا۔ بدقسمتی سے کلونیل ازم کی وجہ سے مسلمان دنیا میں ذہنی غلام ہیں جو اپنی غلامی کی زنجیریں نہیں توڑ سکتے وہ  جسمانی غلامی سے زیادہ خوفنا ک ہیں۔ علامہ اقبال نے اس وقت اوریجنل سوچ دی جب وہ اس بات کا موازنہ کربیٹھے تھے کہ مغربی تہذیب کیوں اوپر گئی اور ہمارازوال کیوں آیا۔ علامہ اقبال نے شکوہ اور جواب شکوہ میں جواب بھی دیئے کہ ہم ایک وقت میں یہاں تھے اوراب ہم یہاں ہیں، کیوں ہیں۔ میں آہستہ، آہستہ اس نتیجہ پر پہنچ گیا کہ ہمارا جو تعلیم کا نظام بن گیا ہے، وہی ہمارے لئے سب سے بڑی رکاوٹ بن گیا،ایک طرف انگلش میڈیم سسٹم بن گیا جو کہ کلونیل ایجوکیشن سسٹم تھا، وہ ہمارا نہیں تھا، دوسری طرف ہم نے اُردو میڈیم کردیا جو نہ تیتر نہ بٹیر رہ گیا، تیسری طرف دینی مدرسے چلے گئے، تین متواتر تعلیم کے نظام بن گئے۔ اب تین متوازی تعلیمی نظاموں سے تین قومیں نکلنا شروع ہو گئیں،ان کا ایک دوسرے سے رابطہ ہی نہیں تھا، ہم نے فیصلہ کیا کہ یکساں تعلیمی نصاب لے کر آئیں تا کہ ان قوموں کو تو پہلے ایک طرف لے کر آئیں۔ جب بھی میں مکہ یا مدینہ گیا وہاں سب سے زیادہ پاکستانی نظرآتے ہیں، کچھ بھی اسلام کے خلاف ہو تو سب سے پہلا پاکستان میں اس پر ردعمل آتا ہے، میرا دعویٰ ہے کہ سب سے زیادہ روزے بھی یہ رکھتے ہیں، حج بھی پاکستانی کرتے ہیں، پیسہ بھی اللہ کے نام پر سب سے زیادہ پاکستانی دیتے ہیں، میں سب سے زیادہ پیسہ پاکستانیوں سے اکٹھا کرتا ہوں، اللہ کے نام پر سب سے زیادہ پیسہ بھی دیتے ہیں،لیکن مسئلہ یہ ہے ہم سیکولربن گئے ہیں، سیکولر کا غلط مطلب ہے ایک طرف ہم عاشق رسولﷺ بھی ہیں، سب سے زیادہ ہمارا دین کے اوپر زور ہے لیکن دوسری طرف جو نبیﷺ کی سیرت ہے اس کی اور ہماری زندگی میں تعلق ہی کچھ نہیں، اس کے بیچ میں اتنا بڑا فاصلہ ہے۔ میں نے بار، بار ایک واقعہ لوگوں کو بتاتا ہوں ڈاکٹر اشفاق احمد خان پاکستان کے بہت بڑے سکالر تھے، ان کو میں ملتا رہتا تھا، ایک دفعہ انہوں نے اپنی بات بتائی کہ جب وہ چیئرمین ماؤ کو ملنے چین گئے، چیئرمین ماؤ ایک حقیقی طور پر انقلابی تھے کیوں کہ سب انقلابی ان کی طرف دیکھتے تھے، وہ کہتے جب میں ان کے پاس گیا تو ان کا ایک گریت باتھ کا دن ہوتا ہے وہ ینگ سی دریامیں تیر کر دوسری طرف جاتے ہیں اورواپس آتے ہیں توان سے ہاتھ ملانے کے لئے لوگوں کی لائنیں لگی ہوتی ہیں تو میں بھی کھڑا ہوگیا اور جب میری باری آئی تو انہوں نے کہا کہ کدھر سے ہوتو میں نے کہا کہ پاکستان سے ہوں تواس نے کہا دی گریٹ نیشن، پاکستان بڑی عظیم قوم ہے، اس پر ڈاکٹر اشفاق بڑا حیران ہوا۔ لوگوں کی لائن لگی ہوئی تھی توادھر کھڑے ہو کر چیئرمین ماؤ نے مجھے ایک واقعہ بتایا، ان دنوں پاکستان کا دارلخلافہ کراچی تھا جو پاکستان میں چینی سفیر تھا اس کا چیس پلیئر پاکستانی پارٹنر تھا، پاکستان میں بہت گرمی تھی اور پاکستانی پلیئر ہر دو منٹ بعد جائے اور سر پر پانی ڈال کر واپس آکر چیس کھیلے،اس نے کہا کیا مسئلہ ہے اس نے کہا کہ میں نے روزہ رکھا ہوا ہے،اس پر چینی بڑا حیران ہوا اور کہا کہ پانی پی لو کسی کو کیا پتہ چلے گا۔چینی سفیر نے چیئرمین ماؤ کو یہ بات بتائی تو چیئرمین ماؤنے کہا کہ جو قوم گرمی میں اللہ تعالیٰ کے خوف سے پانی نہیں پی سکتی تو سوچ لیں وہ اللہ کے خوف سے سچ بھی بول سکتی ہے، وہ رشوت بھی نہیں لے گی، ٹیکس بھی اپنے پورے دے گی، اس قوم کو تو کوئی روک نہیں سکتا، یہی مدینہ کی ریاست تھی۔ میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ہمارا عظیم قوم کا کردار نہیں ہے، عظیم قوم بننے کے لیے بہترین کردار کا ہونا ضروری ہے، انسان میں سوچنے کی صلاحیت ہے وہ اچھے اوربرے کی تمیز کرتا ہے،گذشتہ دنوں سپریم کورٹ کے ججز سے متعلق ایک  سیمینار لاہور میں ہوا، اس سیمینار میں چیف گیسٹ اسے بلایا گیا جسے اسی سپریم کورٹ نے سزا دی،جبکہ اسی تقریب میں اعلی عدلیہ کے ججز بھی موجود تھے۔کرپشن کو برا نہیں سمجھیں گے تو معاشرے میں محنت کون کرے گا، معاشرہ اس طرح کبھی بہتر نہیں ہوگا، بدقسمتی سے پاکستان میں چوروں کو برا نہیں سمجھا جاتا۔جب لیڈر ملک کا پیسہ چوری کرتا ہے تو اس پر اللہ کا عذاب آتا ہے،کسی ملک پر کرپٹ لیڈر سے بڑا اور کوئی عذاب نہیں ہوسکتا، خود غرض اور بزدل آدمی کبھی لیڈر نہیں بن سکتا۔ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں اچھی لیڈرشپ نہیں ملی، حکمران ایسے ہوں کہ جسے اقتدار ملے تو وہ قوم کا سوچے،اپنے اور اپنے رشتے داروں کے فائدے کا نہیں۔ اس سے قبل یو نیورسٹی کے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ دنیا کے عظیم لیڈ ر تھے، بحیثیت تاریخ کا طالب علم میں اس نتیجے پر پہنچا کہ رسول اللہ ﷺکی سیرت پر چلنے میں کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ  مدینہ کی ریاست جن اصولوں پر کھڑی ہوئی تھی یہ یاد رکھیں کہ یہ دنیا کی تاریخ میں سب سے بڑا انقلاب تھا۔ جو اللہ تعالیٰ ہمیں بار، بار کہتا ہے کہ اپنے نبی ﷺ کی سنت پر چلو، ہماری بہتری کے لئے کہتا ہے۔ جو قوم ان کی سنت پر جوکہ مدینہ کی ریاست کے اس کے اصولوں پر چلتی ہے وہ وقوم اٹھ جاتی ہے۔ جو انسان ان کی سنت پر چلتا ہے وہ بڑا انسان بن جاتا ہے اور جتنادور، دور چلے جاتے ہیں جس طرح علامہ اقبال نے کہا مسلمانوں کازوال ہمیشہ ہوا جب وہ ان اُصولوں سے دور چلے گئے اورمسلمانوں کا معاشرہ تب کھڑا ہوا جب ان اصولوں کے قریب چلے گئے۔ یہ ہمارا بہت بڑا مقصد ہے اس یونیورسٹی سے گریجوایٹس ہی نہیں نکلیں گے بلکہ گریجوایٹس کے ساتھ، ساتھ ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ کنیکشن ہوگا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں