0

ثاقب نثار آڈیو ٹیپ، تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل کیلئے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) اسلام آباد ہائیکورٹ نے  ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل کی تشکیل کے لئے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو معاونت فراہم کرنے کیلئے نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔پیر کو چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف آف پاکستان جسٹس  (ر)میاں ثاقب نثار کی مبینہ آڈیو ٹیپ کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل کی تشکیل کے لئے سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر صلاح الدین احمد اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت  کی۔درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ میاں ثاقب نثار کے آڈیو کلپ  نے عدلیہ کے وقار کو نقصان پہنچایا، اس بات کا تعین کرنا ضروری ہے کہ میاں ثاقب نثار کی آڈیو جعلی ہے یااصلی ہے۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سب سے پہلے تو یہ بتایا جائے کہ سابق چیف جسٹس کی ریکارڈنگ کی کس نے ہے اور ریلیز کس نے کی ہے، کیا یہ کسی ایسے شخص نے کی ہے جو بیرون ملک بیٹھا ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ کیا یہ درخواست قابل سماعت بھی ہے یانہیں، کیونکہ فی الحال اس آڈیو ٹیپ کے مصدقہ ہونے یادرست ہونے کا بظاہر امکان نظر نہیں آتا،لہذا  ایسے حالات میں اگر ہم ہر چیز پر انکوائری یا تحقیقات شروع کردیں تو اس سے ایسا فلڈ گیٹ کھلے گا جس سے نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوجائے گا۔ جسٹس اطہر من اللہ نے کہا ہے کہ عدالت نے صرف قانون کے مطابق حقائق کو دیکھنا ہے، جوڈیشل ایکٹوزم میں نہیں جانا۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ایسے معاملہ میں نہیں پڑنا چاہئے جو فلڈ گیٹ کھول دے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اگر یہ آڈیو کلپ درست بھی ہے تو اصل کلپ کہاں اور کس کے پاس ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ایسی تحقیقات کے نتیجہ میں کل کوئی بھی کلپ لا کرکہے گا کہ تحقیقات کریں۔ آڈیو ٹیپ کس نے ریلیز کی اور کسے ریلیز کی۔چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ سیاسی جماعتیں مختلف بیانیے بناتی ہیں مگر عدالت نہیں آتیں، جب وہ عدالت نہیں آتے تو عدالت کو بھی دیکھنا ہے کہ نیت کیا ہے، کیا ہم ان کے ہاتھ میں کھیلیں جنہوں نے یہ کیا ہے۔ اس پر وکیل صلاح الدین احمد نے کہا کہ اصل متاثرہ فریق سامنے نہیں آتے یہی مسئلہ ہے۔ چیف جسٹس اطہر من للہ کا کہنا تھا کہ میرے متعلق کہا جاتا ہے کہ کوئی فلیٹ لے لیا، کیا اس کی انکوائری کرنے بیٹھ جائیں گے، یہ بتادیں درخواست قابل سماعت کیسے ہے، کس کے خلاف یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سوال کیا کہ کیا درخواست حاضر سروس چیف جسٹس کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے؟اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ درخواست سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے آڈیو کلپ سے متعلق ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ جس آڈیو کلپ کی بات کی جارہی ہے یہ اس وقت کی ہے جب وہ چیف جسٹس تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدلیہ کو چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا، عدلیہ کی آزادی کے لئے بارز نے کردار ادا کیا۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ ہم ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں سوشل میڈیا کسی ریگولیشن کے بغیر ہے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہی بات تکلیف دہ ہے کہ یہ چیز وائرل ہوئی اوراس پر بحث بھی ہورہی ہے۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ روز کچھ نہ کچھ چل رہاہوتا ہے، کس، کس بات کی انکوائر کروائیں گے۔جسٹس اطہر من اللہ نے کہاکہ پہلے اٹارنی جنرل کر پری ایڈمشن نوٹس جاری کریں گے اور درخواست کے قابل سماعت ہونے پر بات کریں گے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان بار کونسل نے بھی قرارداد منظور کی، عدالت مناسب سمجھے تو انہیں بھی نوٹس جاری کردے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے درخواست گزارکے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت آئین اور قانون کی حکمرانی کے لئے آپ کا احترام کرتی ہے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو معاونت کے لئے طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت آٹھ دسمبر تک ملتوی کردی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں