0

ایبٹ آباد میں عمائدین کا حکومت کے خلاف شدید احتجاج و تحریک چلانے کا اعلان

ایبٹ آباد (مانند نیوز ڈیسک) عمائدین کولائی پالس کوہستان کا ویلی چوڑ کو ضلع آلائی میں شامل کرنے کے خلاف صوبائی حکومت ایم این اے پرنس نواز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ وپریس کانفرنس،حکومت کے خلاف شدید احتجاج وتحریک چلانے کا اعلان کیا ہے۔چوڑ ویلی کو مجوزہ ضلع آلائی میں شامل کیا گیا تو اس کے خلاف شدید ردعمل کا مظاہرہ کریں گے داسو و بھاشا دیامر ڈیم سمیت دیگر پن بجلی کے منصوبوں کا کام احتجاجآ روک دیں گے،چوڑ ویلی ہمیشہ سے پالس کا حصہ رہی ہے اسے ایم این اے پرنس نواز وزیر اعلی کے پی کے زریعے زبردستی کولائی پالس میں شامل کرنا چاہتا ہے جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ جس کی زمہ داری صوبائی حکومت کے سر ہوگی۔7 دن کے اندر اندر صوبائی حکومت اس فیصلہ کو واپس لے۔ضلع بٹگرام کی انتظامیہ اور پولیس ریاست کی نہیں خوانین کی غلام ہے۔ان خیالات کا اظہار سابق صوبائی وزیر عصمت اللہ خان سمیت دیگر عمائدین کوہستان نے پریس کانفرنس کے بعد احتجاجی مظاہرے۔ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔جس میں سینکڑوں کی تعداد میں ضلع کولائی پالس کوہستان کے افراد نے شرکت کی۔اس موقع پر انہوں نے صوبائی حکومت کو خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ اگر سات روز کے اندر اس فیصلہ کو واپس نہ لیا تو شاہراہ ریشم پر دھرنا دیں گے اور احتجاجآ اسے بلاک کر دیں گے۔اس کے نتیجہ میں جاری کوہستان کھربوں روپے کے پن بجلی کے منصوبے متاثر ہوں گے۔جس کی زمہ داری وزیر اعلی کے پی اور آلائی کے خوانین پر ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر ضلع کولائی پالس کے کسی بھی حصہ کو ضلع آلائی میں شامل کیا گیا تو اس کے خلاف بھرپور احتجاج کریں گے۔اور کسی بھی صورت میں چوڑ ویلی کو ضلع آلائی میں شامل نہیں ہونے دیں گے۔اگر صوبائی حکومت نے زبردستی کی تو امن امان کا مسائل پیدا ہوں گے اور کوہستان میں جاری کھربوں روپے کے ملکی سطح کے منصوبے متاثر ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ ریونیو ریکارڈ، مردم شماری،قومی وصوبائی اور بلدیاتی انتخابات کے ریکارڈ کے مطابق چوڑ ویلی ہمیشہ کوہستان پالس کا حصہ رہی ہے۔1976 کے ریونیو ایکٹ 1993/1995/2014/2017کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق چوڑ ویلی پالس کی یونین کونسل پیج بیلہ کا حصہ رہی ہے۔اسی طرح 1998/2017کی مردم شماری میں بھی یہ علاقہ پیج بیلہ یونین کونسل کا حصہ ہے۔بلدیاتی ایکٹ 2013/2019میں بھی یہ علاقہ پیج بیلہ کا حصہ تھا۔اسی طرح فارسٹ کے ریکارڈ کے ساتھ 1996 میں ہائیڈرو پاور پراجیکٹ چوڑ ویلی معاہدے میں اور 1980میں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے شرعی فیصلہ کے مطابق بھی چوڑ ویلی اور اس کے مضافات پالس کوہستان کا حصہ ہیں۔اگر ان تمام معاہدات ریونیو ریکارڈ کو چھیڑا گیا اور مذکورہ علاقہ کو ضلع آلائی میں شامل کیا گیا تو اس کے انتہائی خطرناک اور سنگین نتائج برآمد ہوں گیاس لئے صوبائی حکومت اس فیصلے کو فی الفور واپس لے آلائی کے خوانین کے من پسند کے فیصلوں کو زبر دستی ہم پر مسلط نہ کرے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں