0

سینئر سول جج پر خاتون سے ریپ ،کہانی کچھ اور نکلی

پشاور(مانند نیوز)ڈی پی او لوئر دیر عرفان اللہ پشاور ہائیکورٹ طلب

پولیس کی طرف سے ایف آئی ار کے اندراج میں جلدی، ناقص تفتیش اور جج کے گرفتاری کے دوران پولیس کی طرف سے کوتاہیاں ہیں یامنصوبے کا حصہ، نئے سوالات نے جنم لے لیا

سینئر سول جج پر خاتون سے ریپ کا الزام۔کہانی کچھ اور نکلی۔حقائق سامنے آنے پر دعا شاہ کے بجائے لڑکی عمر شہزادی نکلی کیس کے متعلق ڈی پی او کی طرف سے تگ و دو شروع ہو چکا ہے۔پولیس کی تفتیش کے دوران بڑی کوتاہیاں سامنے آگئی۔سول جج پر الزام لگانے والی لڑکی کی ساری کہانی جھوٹی نکلی۔لڑکی کا تعلق نہ تو چترال سے ہے اور نہ پشاور سے نہ خیر پور سے بلکہ الزام لگانے والی خاتون کے علاقہ بلیک میلنگ میں ملوث رحیم یار سے ہے اس نے پولیس کو پوری طرح سے گمراہ کیا تھا یا پولیس اس منصوبے میں شامل تھی سب کچھ پشاور ہائیکورٹ میں سامنے آئے گا۔ اس حوالے سے ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ اس منظم گروہ کے خلاف درجنوں ایف آئی آر بھی موجود ہیں جو اسی طرح اعلی افسران کو اعلی افسران کے کہنے پر اپنے جال میں پھساتے ہیں اور بعد ازاں بلیک میل کرکے بدنامی کے ساتھ ساتھ بھاری رقوم ہتھیائے جاتے ہیں۔ابتدائی طور پر اس بلیک میلنگ کرنے والی گروہ میں تین لڑکیوں کا انکشاف کیا گیا تھا جسمیں جج پر الزام لگانے والی طالبہ ، اسکی ایک بہن اور ایک کزن شامل تھی لیکن حقیقت میں نہ طالبہ ہے نہ اسکی کوئی بہن ہے نہ کوئی کزن بلکہ عظمہ شہزادی اس سے پہلے آمنہ کا نام استعمال کرتے ہوئے ضلع کرک میں ایک اسسٹنٹ کمشنر کو لوٹا ہے اس کے علاوہ پشاور میں ایک اسسٹنٹ کمشنر، پنجاب اور سندھ میں اعلی عہدوں پر کام کرنے والے افسران اپنے جال میں پھنسا کر کروڑوں روپے لوٹ چکی ہیں ضلع کرک میں بدنامی سے بچنے کے لئے اسسٹنٹ کمشنر سے پانچ لاکھ روپیہ ہڑپ کرنے کے بعد اسی لڑکی نے پولیس کو اپنا بیان درج کرایا تھا کہ وہ اس پر لگائے گئے الزامات پر دستبردار ہوتی ہیں جس کی ویڈیو ں اور ایف آئی آر موجود ہے۔ (ویڈیوں ملاحظہ ہو)
اس گینگ کے سی ڈی آر سے پتہ چلا کہ یہ بڑو کے ساتھ رابطے میں رہ کر منظم طریقے سے بلیک میلنگ ریکیٹ چلاتے ہیں۔ اس کیس نے پولیس کی ناقص ترین تفتیش یا منصوبے کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔پولیس نے نہ انکوائری کی نہ معلومات، جھوٹے ایڈریس بغیر شناختی کارڈ اور موبائل نمبر کے فوری ایف ائی آر درج کرا لی۔واقع کی جانچ پڑتال کرنے کی زحمت تک نہیں کی شاید کہ اسی جج کو پھنسانے کے انتظار میں جلدی تھی۔پولیس نے میڈیکلی بھی پوری جانچ پڑتال نہیں کی اور نہ پورا رزلٹ آنے کا انتظار کیا نہ تو چترال کا ایڈرس معلوم کیا نہ پشاور نہ خیر پور اور نہ رحیم یار اور نہ اس میں کوئی تحقیق گوارا کیا۔لڑکی نے ڈینٹل کالج کی طالبہ ہونے کا بتایا مگر پولیس نے یہ بھی گوارا نہیں کیا کہ اس کی تصدیق کریں۔جج کی زندگی کی بربادی میں اس لڑکی ک ساتھ ساتھ پولیس برابر کا ذمہ دار ہیں مزید یہ کہ لڑکی کے فرنٹ مین عقیل نامی بندہ وکیل کے آڑ میں آکر لڑکی سے ملا اور دارالامان سے بھگانے کی کوشش بھی کی لیکن ناکام رہا پولیس نے یہاں بھی انتہائی کوتاہی برتی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں