0

خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی عمل ميں لائی جاۓ گی

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) منڈی بہاؤالدین۔ڈی سی اور اے سی منڈی بہاوالدین کو سزا سنانے والے کنزیومر کورٹ کے جج پر وکلاء کا مبینہ تشدد۔منڈی بہاؤالدین میں وکلاء کا ڈسٹرکٹ سیشن جج کنزیومر کورٹ راؤ عبدلجبار پر مبینہ تشدد۔گھسیٹے ہوئے گاڑی میں بٹھا کر رہائش گاہ بھیجنے کی کوشش ۔ عدالت کو تالا لگا دیا۔
اسلام آباد(کرائم رپورٹر)وفاقی ترقیاتی ادارے میں سینئر افسران کی ملی بھگت سے کروڑوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے ذرائع کے مطابق جعلی فائلیں تیار کر کے سرکاری زمین میں کروڑوں روپے کی خرد برد کا سلسلہ جاری ہے سی ڈی اے افسران اور نجی ڈیلر واجد مغل کی مبینہ ملی بھگت کو سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کے نقصان کا انکشاف ہوا ہے۔تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے لینڈ ڈیپارٹمنٹ میں میں نور پور شاہاں اور ماڈل ٹاون ہمک کی جعلی فائلین تیار کر کے کروڑوں روپے میں فروخت کی جا رہی ہیں نجی ڈیلر واجد مغل اور سی ڈی اے افسران 1980 کا ریکارڈ ٹمپرڈ کر کے مبینہ طور پر جعل سازی پلاٹ فروخت کرنے میں ملوث اس حوالے سے موصول تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے شعبہ اکاونٹس اور لینڈ کے افسران کا آشرباد سے گھناونا دھندہ عروج پر ہے افسران اور نجی ایجنٹ اب تک نور پور شاہاں اور ماڈل ٹاون ہمک درجنوں جعلی فائلیں تیار کر کے فروخت کر چکے ہیں اس حوالے سے جب موقف جاننے کے لئے ڈیلر واجد مغل سے رابطہ کیا گیا تو موصوف موقف دینے کی بجائےسفارشیں کرواتے رہے دوسری جانب چیئرمین سی ڈی اے واقع پر نوٹس لے کر تحقیقات کرنے کی یقین دہانی کروا دی ہے۔
اسلام آباد(کرائم رپورٹر)چئیرمین نیب نے 7 ڈائریکٹرز کو ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی
ڈائریکٹر مرزا عرفان بیگ کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر میجر ریٹائرڈ شہزاد سلیم کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر مسعود عالم خان کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر فیاض قریشی کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر مرزا عرفان بیگ کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر فرمان اللہ کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا
ڈائریکٹر عرفان نعیم منگی کو گریڈ 21 میں ترقی دے کر ڈائریکٹر جنرل بنادیا گیا۔
اسلام آباد(کرائم رپورٹر)وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی سیون ٹو میں قائم سی ڈی اے شعبہ اسٹیٹ منیجمنٹ ون،ٹو اورون ونڈو آپریشن کے نئے دفاتر کی وجہ سے قبضہ مافیا۔تجاوزات مافیا بے نقاب۔اربوں روپے مالیت کی سرکاری اراضی کاروباری و تجارتی سرگرمیاں ۔ریت بجری ڈپو۔کارواشنگ سنٹر۔کھوکھا پر بھی بے نقاب۔۔۔برساتی نالے کے قریب اور نئے دفاتر عمارت کے پیچھے بننے والی کچی آبادی بھی بے نقاب۔گرین بیلٹ پر قائم چھپڑ ہوٹل کے بارے میں بتایا گیاہے کہ وہ انفورسمنٹ انسپکٹر شاہد خان کا ہے اس لئے عوامی سہولت ۔کارپارکنگ۔فٹ پاتھ۔روڈ مینٹی نیبس سمیت دیگر تعمیراتی کاموں کے دوران بھی مافیا کو ہر طرح تخفظ دینے کی کوشش بھی بے نقاب۔۔۔سی ڈی اے انتظامیہ کی جانب سے ممکنہ جانبداری سوالیہ نشان۔۔۔۔انفورسمنٹ کی جانب سے ماضی میں ہونے والے نام نہاد اپریشنز کی حقیقت بھی بے نقاب ہوگئی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں