0

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ء پر دستخط

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021ءپر دستخط کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے اس ایکٹ کو صحافیوں کے تحفظ اور فلاح و بہبود کیلئے ایک اچھے جذبے کے تحت صحافیوں کی مشاورت سے تیار کرکے پارلیمنٹ سے منظور کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو یہاں ایوان صدر میں پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ پر دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات فرخ حبیب، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل، پی ایف یو جے سمیت صحافتی تنظیمیوں کے رہنماﺅں، ملک بھر کے مختلف پریس کلبز کے عہدیداران اور صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ صدر مملکت نے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ2021ءپر دستخط کو ایک تاریخی دن قرار دیا اور کہا کہ صحافی ہمیشہ دباﺅ کا شکار رہے ہیں اور اب اتفاق رائے سے پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ منظور کرکے اس پر دستخط کئے گئے ہیں۔ ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ صحافی غیر جانبدار ہوتے ہیں اور وہ ہر وقت خطرہ میں رہتے ہیں، صحافی طویل عرصہ سے اپنے تحفظ اور حقوق کیلئے آواز بلند کرتے رہے ہیں، صحافیوں کو ماضی میں مافیاز کے ہاتھوں قتل اور زخمی ہونے کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا ہے اور انہیں ہراساں بھی کیا جاتا رہا ہے، اس ایکٹ کے ذریعہ صحافیوں کو اس بات کا تحفظ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے ذرائع کو ڈسکلوز نہیں کرسکتے۔ صدر نے امید ظاہر کی کہ صحافی بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں گے، اس ایکٹ کے ذریعہ صحافیوں کیلئے ویلفیئر سکیم کا اجراءبھی کیا گیا ہے ۔ صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان سمیت دنیا کو فیک نیوز کا سامنا ہے، قرآن پاک میں حکم ہے کہ کوئی فاسق اگر چھوٹی خبر لائے تو اس کی تصدیق کرو۔ انہوں نے کہا کہ ایکٹ کے تحت میڈیا کمیشن بھی قائم کیا جائے گا۔ صدر نے ذمہ دارانہ صحافت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صحافیوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کوئی بھی خبر حقیقی تناظر میں دی جائے۔ صدر مملکت نے ایکٹ پر دستخط کو ملک اور صحافیوں کیلئے بڑا دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ایک اچھے جذبہ کے تحت ایکٹ کو منظور کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صحافی بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور معاشرے کے حقوق کو مدنظر رکھیں، ایکٹ کی منظوری کے بعد حکومت اور صحافتی اداروں کے مالکان کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے تقریب میں شرکت پر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین، وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری اور دیگر شرکاءکا شکریہ ادا کیا۔ اس سے قبل وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 کے تحت پہلی مرتبہ پاکستان میں ورکنگ جرنلسٹس کو وہ حقوق فراہم کئے گئے ہیں جو فرسٹ ورلڈ کے صحافیوں کو دستیاب ہیں، حکومت اور وزارت اطلاعات کا فرض ہے کہ وہ ورکنگ جرنلسٹس کے پیچھے کھڑی ہوں، ہم اپنے میڈیا کی آزادی کا موازنہ تھرڈ ورلڈ اور مسلم ورلڈ سے نہیں بلکہ فرسٹ ورلڈ سے کرتے ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ میڈیا پروفیشنلز ایکٹ 2021 کا کریڈٹ وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ 2018ءمیں وزیر اطلاعات بنے تو اس کا آئیڈیا ان کے ذہن میں آیا، انہوں نے یہ کام وفاقی وزیر انسانی حقوق کے سپرد کیا جنہوں نے اس ایکٹ کی تیاری میں انتھک کوشش کی جس پر ان کے مشکور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزارت اطلاعات کا فرض ہے کہ وہ ورکنگ جرنلسٹس کے پیچھے کھڑی ہوں۔ اس ایکٹ کی تیاری میں صحافی تنظیموں سمیت صحافیوں کے تمام گروپوں کے ساتھ مشاورت کی گئی۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ پاکستان میں ایک طبقہ یہ تاثر دینے کی کوشش کرتا ہے کہ یہاں پریس کو آزادی حاصل نہیں، اگر پاکستان میں پریس فری نہیں تو دنیا میں کہیں بھی پریس فری نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جب پریس کی آزادی کی بات آتی ہے تو ہم اپنا موازنہ تھرڈ ورلڈ اور مسلم ورلڈ سے نہیں بلکہ فرسٹ ورلڈ سے کرتے ہیں۔ چوہدری فواد حسین نے کہا کہ وزیراعظم نے جہاں بھی ذمہ داری لگائی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں