0

امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے، عمران خان

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ امریکا اور چین کے درمیان سرد جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے بلکہ اسے روکنے کی کوشش کریں گے، دنیا کی صورتحال سرد جنگ کی جانب جاتی دکھائی دے رہی ہے اور بلاکس بن رہے ہیں جسے روکنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اسلام آباد میں ایک پرامن اور خوشحال جنوبی ایشیا کے موضوع پر کانفرنس سے عمران خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی سرد جنگ سے دنیا کو بہت بڑا نقصان ہوا اس لیے پاکستان پھنسنا نہیں چاہتا، بلکہ چاہتا ہے کہ لوگوں کو قریب لایا جائے جیسے ہم نے ایران اور سعودی عرب تنازع میں کیا۔ا نہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان نے جس طرح 70 کی دہائی میں امریکا اور چین کے تعلقات استوار کرائے اسی طرح ہم کسی طرح ان کے بڑھتے ہوئے فاصلوں کو روکیں کیوں تجارت میں مسابقت ہمیشہ رہی ہے لیکن کہیں اس سے آگے نہ چلے جائیں جیسا سویت یونین، امریکا اور مغربی ممالک کے درمیان معاملات تھے، پاکستان امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کم کرنا چاہتاہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سامنے دوسرا بڑا مسئلہ افغانستان ہے جہاں اس سے برے حالات ہوسکتے تھے اور ہمیں خانہ جنگی شروع ہونے کا خدشہ تھا جو ہمارے لیے سب سے خوفزدہ صورتحال تھی۔ خانہ جنگی شروع ہوجاتی تو یہاں مہاجرین آتے اور افغانستان کی تباہی ہوتی لیکن اگر دیکھا جائے تو اس اعتبار سے افغان عوام اور ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہاں اس طرح کی تباہی نہیں ہوئی لیکن جس تباہی سے افغانستان کو بچانا ہے وہ انسانی بحران ہے کیوں کہ اثاثے منجمد ہونے کے اثرات عوام پر پڑیں گے اس لیے ہم پوری کوشش کررہے ہیں کہ دنیا کو آگاہ کریں گے کہ آپ بھلے طالبان کو پسند کریں یا نہ کریں اصل مسئلہ 4 کروڑ افغانوں کے لیے ہے، اگر یہی حالات چلتے رہے تو ان انسانوں پر کیا گزرے گی۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان اپنی پوری کوشش کرے گا لیکن جب تک امریکا اس بات کا احساس نہیں کرے گا کہ فنڈز منجمد کرنے، معیشت کو سکیڑ دینے کے نتیجے میں اگر انسانی بحران سنگین ہوگیا تو اس کا نقصان سب کو ہوگا لیکن پاکستان کو سب سے زیادہ ہوگا جبکہ 40 سال سے مشکلات کا سامنا کرنے والے افغانوں کے لیے بھی بہت مشکل وقت ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنا بھرپور کردار ادا کرے گا کیوں کہ ہمارے مستقبل کے لیے افغانستان میں امن ہونا بہت ضروری ہے، ہمارے علاوہ وسطی ایشیا کے ممالک بھی ہمارے ساتھ کونیکٹ ہونا چاہتے ہیں لیکن اس کے لیے افغانستان میں امن کی شدید ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت پہلی حکومت ہے جس نے موسمیاتی تبدیلیوں کو فلیگ کیا، جب بلین ٹری سونامی منصوبہ شروع کیا اسی وقت اندازہ ہوگیا تھا کہ گلوبل وارمنگ سے ہمالیہ کے گلیشیئرز پگھلنا شروع ہوگئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں یکساں اور اصل سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے تھنک ٹینکس کی بہت ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے پاکستان کے ساتھ بڑے ہوتے ہوئے دیکھا کہ 60 کی دہائی میں ہمارا معیاری پلاننگ کمیشن تھا جس سے ملک کی سب سے زیادہ معاشی ترقی ہوئی بلکہ ملائیشیا، جنوبی کوریا جیسے ممالک یہاں آئے اور پاکستان کو بطور ماڈل دیکھا۔انہوں نے کہا کہ تھنک ٹینکس جہاں دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف پیش کریں گے وہیں مقامی میڈیا کو بھی آگاہی دیں کیوں کہ پروگرامز میں لوگوں کو معلومات نہیں ہوتی اور وہ بات کرتے رہتے ہیں جس سے لوگ بھی گمراہ ہوتے ہیں جس سے ملک میں یکجہتی نہیں آتی اور لوگوں کو قومی مفاد کا علم نہیں ہوپاتا۔عمران خان نے کہا کہ بجائے یہ کہ دنیا ہماری تشریح کرے ہم خود اپنی تشریح کریں، مجھے یہ دیکھ کر بہت تکلیف ہوتی تھی 11/9 کے بعد امریکا میں بیٹھے لوگ پاکستان پر بات کرتے تھے جنہیں یہاں کی سمجھ ہے، نہ عوام کو جانتے ہیں اور نہ ہی کلچر سے واقف ہیں اور وہاں بیٹھ کر انتہا پسندی، اسلامی بم جیسی باتیں کرتے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے خلاف یہ سارا پروپیگنڈا باہر سے آتا تھا اور مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا کہ ہماری جانب سے اس پر غور و فکر کیا گیا جواب نہیں دیا جاتا تھا،مختلف قسم ردِ عمل آتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ مغربیت کو جدت سمجھتے ہیں کہ مغربی سے جو کچھ آئے وہ درست ہے، ان کی اصل سوچ نہیں، دوسری جانب کچھ ایسے ردِعمل عناصر ہیں کہ وہ مغرب کی ہر چیز مسترد کردیتے ہیں کیوں کہ ہماری اصل سوچ تیار ہی نہیں کی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ رحمتہ اللعالمین سوسائٹی بنانے کا بھی یہی مقصد ہے کہ وہاں باہر لوگ بیٹھ کر پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیتے ہیں اور ایک شدت پسند طبقے پر فوکس کر کے پورے معاشرے کو شدت پسند قرار دے دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرا خیال یہ ہے کہ جب بھی جنگوں سے مسئلے حل کیے گئے اس کا نتیجہ ہمیشہ غلط نکلا، جو جنگ سے فیصلے کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے دنیا کی تاریخ سے کچھ نہیں سیکھا ہوتا اور ہتھیاروں پر تکبر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آغاز میں ہمیشہ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ چند ہفتے کی جنگ ہے لیکن وہ طویل ہوجاتی ہے، یہی افغانستان میں اور خود ہمارے ملک میں ہوا جب فوجی آپریشن کیے گئے۔انہوں نے کہا کہ میرا یہ ٹھوس خیال ہے کہ جنگوں سے جو بھی مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ انسانیت کا نہیں سوچتا، افغانستان کی مشکلات ہی دیکھ لیں، اس لیے ہمیں آخری لمحے تک مذاکرات سے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا تنازع ہے اور ہم نے حکومت میں آتے ساتھ ہی بھارت سے بات چیت کی کوشش کی، نریندر مودی کو کال بھی کی لیکن مجھے احساس ہوا کہ وہ امن کی کوشش کو کمزوری سمجھ رہا تھا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے دوسری چیز یہ ہے کہ ہمارا رابطہ ایک نارمل بھارتی حکومت سے نہیں ہورہا تھا بلکہ ایک نظریے سے ہمارا مقابلہ تھا جو آر ایس ایس ہے، جس کے ساتھ بہت مشکل ہے کہ وہ ہم سے بات چیت کرتے۔انہوں نے کہا کہ بھارت میں جو کچھ ہورہا ہے وہ ہماری یا کشمیر کے عوام کی بدقسمتی نہیں بلکہ بھارت کے عوام کی بدقسمتی ہے کہ اتنا بڑا ملک جس میں 50 سے 60 کروڑ اقلیتیں ہیں جنہیں برہمن اکثریت الگ کررہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ ایسا انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا کہ آبادی کے اتنے بڑے حصے کو دوسرے درجے کا شہری قرار دے دیا جائے، اس کے ہمارے اور کشمیر کے لیے ہی نہیں بلکہ بھارتی معاشرے کے لیے بھی سخت اثرات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب لوگوں کو سائیڈ پر لگایا جاتا ہے تو انہیں انتہا پسند بنا دیا جاتا ہے تو اگر اتنی بڑی اقلیت میں سے تھوڑے افراد بھی انتہا پسندی کا شکار ہوجائیں تو بھارت کو کسی بیرونی دشمن کی ضرورت نہیں پڑے گی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کسی نے موسمیاتی تبدیلی کو خطرہ نہیں سمجھا، بھارت میں بھی گلیشیئرز پگھل رہے ہیں، ہم دونوں کو مل کر موسمیاتی تبدیلیوں پر پورا زور دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لیکن مجھے دنیا کے رہنماؤں میں اس حوالے سے مطلوبہ سنجیدگی نہیں دکھائی دے رہی کیوں کہ کمرشل مفادات موسمیاتی تبدیلیوں کو روکنے کے اقدامات سے متصادم ہیں اور یہ بہت بڑا مسئلہ بنا ہوا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی کوشش کررہا ہے جسے دنیا میں سراہا گیا ہے، لیکن یہ خطہ جڑا ہوا ہے کوئی ایک ملک نہیں بلکہ خطے ترقی کرتے ہیں، اس خطے میں سیاسی اختلاف اور تنازع کی وجہ سے تجارت کم ہے دوسرا موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی سب متاثر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ بھارت میں ایسی حکومت آئے جس کے ساتھ سمجھداری سے بات کی جاسکے اور مسائل حل کیے جائیں، ہمارا مسئلہ صرف کشمیر کا ہے، جو بندوقوں اور بم سے حل نہیں ہوگا صرف بات چیت سے ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بھارت جو اسلحے کا استعمال اور مظالم ڈھا کر کشمیریوں کو دبا رہا ہے یہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگا، آپ آبادی کے خلاف نہیں جیت سکے اگر ایسا ہوتا تو امریکا جس کی سب سے طاقتور فوج ہے وہ افغانستان میں کامیاب ہوچکا ہوتا۔انہوں نے مزید کہا کہ امید کرتے ہیں کہ بھارت میں ایسی حکومت آئے جس کے ساتھ میز پر بیٹھ کر مسئلہ کشمیر حل کیا جائے اور پھر مشترکہ طور پر مختلف چیزوں سے لڑا جائے۔عمران خان نے لاہور میں سموگ کی صورتحال کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہم جو کچھ بھی کرلیں یہ صرف آدھا ہی حل ہوگا کیوں کہ یہ دہلی سے لے کر یہاں تک آلودگی کا ایک کور آگیا ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں