0

بدعنوانی ایک معاشرتی بیماری ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی و بربادی کے لئے تنہا ہی کافی ہے، وزیراعلیٰ کے پی

پشاور (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ بدعنوانی ایک معاشرتی بیماری ہے جو کسی بھی معاشرے کی تباہی و بربادی کے لئے تنہا ہی کافی ہے، یہ قومی ترقی و خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو عوام کو ان کے وسائل سے محروم کردیتی ہے اور معاشرتی ڈھانچے کی بنیادوں کو کمزور کرتی ہے۔ بدعنوانی کا تدارک سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے لئے اجتماعی اور انفرادی سطح پر مربوط کوششوں کی ضرورت ہے۔ گزشتہ روز انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے ایک بیان میں وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ ملک سے بدعنوانی کے موثر تدارک کے لئے بلاتفریق احتساب کی اشد ضرورت ہے اور یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت شروع دن ہی سے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بلا تفریق احتساب اور خود احتسابی کی پالیسی پر گامزن ہے۔ بدعنوانی کا خاتمہ پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا اہم حصہ اور موجودہ حکومت کی سب سے اہم ترجیح ہے، وزیراعظم عمران خان کا بیانیہ ہی بدعنوانی کے خاتمے اور بے لاگ احتساب پر مبنی ہے۔ محمود خان نے کہا ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت اپنی قیادت کے وژن اور پارٹی منشور کے مطابق ہر سطح پر کرپشن کے خلاف سرگرم عمل ہے اوراس مقصد کے لئے متعدد قانونی، اصلاحاتی اور انتظامی اقدامات اٹھارہی ہے، میرٹ کی بالادستی، قانون کی عملدرآمد، شفافیت اور بہتر طرز حکمرانی سرکاری سطح پر بدعنوانی کے خاتمے کے لئے بنیادی اہمت کے حامل ہیں، صوبائی حکومت اپنے گڈ گورننس اسٹریٹیجی کے تحت دیگر اقدامات کے علاوہ بدعنوانی کے خاتمے کے لئے مختلف قوانین بھی متعارف کرائے ہیں۔ اس سلسلے میں رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ اور رائٹ ٹو سروسز ایکٹ پی ٹی آئی حکومت کے لینڈ مارک قوانین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بدعنوانی کے خاتمے کے لئے متعلقہ ادارے اپنی کوششیں کر رہی ہیں تاہم ہر سطح پر بدعنوانی کے تدارک کے لئے تمام متعلقہ اداروں، محکموں، سول سوسائٹی اور دیگر تمام شراکت داروں کو مشترکہ جدوجہد کرنی ہوگی تاکہ ہم اپنے ملک کو بدعنوانی سے مکمل طور پر پاک کرنے کا خواب پورا کر سکیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں