0

شانگلہ یونیورسٹی کیلئے زمین کی خریداری اولین ترجیح ہے، شوکت یوسف زئی

الپوری (مانند نیوز ڈیسک) صوبائی وزیرمحنت،انسانی حقوق و پالیمانی امورشوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ شانگلہ یونیورسٹی کیلئے زمین کی خریداری اولین ترجیح ہے،اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ تکنیکی تعلیم بھی وقت کی ضرورت ہے۔شانگلہ یونیورسٹی کیلئے صوبائی حکومت کوشاں ہیں اور وزیراعلیٰ کیجانب سے کیا گیا اعلان ہرصورت پوراکیا جائے گا۔شانگلہ یونیورسٹی کے قیام سے دیگراضلاع کے طلباء و طلبات بھی مستفید ہوسکیں گے اور ہماری حکومت کی کوشش ہے کہ اعلیٰ تعلیم سمیت ہرشعبے پر توجہ دی جائے تاکہ طلباء و طالبات کو آسانی سے اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم فراہم کی جاسکیں۔موجودہ حالات میں شانگلہ کیمپس میں دی جانے والی تعلیم پر مطمئن ہیں یہاں سمرکیمپکا انعقاد بہتر اقدام ہے،ایسے اقدامات سے یونیورسٹی آف سوات شانگلہ کیمپس کی بہتر اقدامات ہیں۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کے روز شانگلہ کیمپس میں انھیں بریفنگ کے دوران کہی،اس سے پہلے شوکت یوسف زئی نے نئے اکیڈمک بلاک کا افتتاح کیا۔اس موقع پر وائس چانسلر سوات یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد جمال،رجسٹرار محبوب الرحمان،ڈائیریکٹر شانگلہ کیمپس فضل قدس نے انھیں شانگلہ کیمپس پر تفصیلی بریفنگ دی اور شانگلہ یونیورسٹی میں درپیش مشکلات،جاری تعلیمی سرگرمیوں پر تفصیلی بحث ہوئی۔میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ زون سیکس کا قیام عمل میں آچکا ہے جس سے کوہستان کے تین اضلاع بٹگرام،تورغر اور شانگلہ جیسے پسماندہ علاقوں کے تعلیم یافتہ نوجوان مستفید ہونگے اور وہ بھی صوبے اور ملک کا خدمت کرینگے۔اباسین ڈویژن کے قیام کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اسمیں شامل کیا جائے یا نہیں یہ فیصلہ عوام نے کرنا ہے ہم اپنی جگہ ٹھیک ہے تاہم فیصلہ قریبی اضلاع کے مشاورت سے کیا جائے گا۔ڈھیرئی اور دیگر علاقوں میں شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے شوکت یوسف زئی نے کہا کہ کسی نے مقابلہ کرنا ہے تو وہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی ترقی پر کریں ماضی میں شانگلہ کوایک منظم سازش کے تحت پسماندہ رکھا گیا اب صورتحال ہم نے تبدیل کردی اب پلاسٹک پائب کی گنجیوں کے بجائے حقیقی کاموں اور بھرپور عوامی خدمت پر بات ہوگی،مختلف بالائی علاقوں کو 220سے زائدپختہ سڑکوں کی تعمیر،900سے زائد واٹر سپلائی سکیم کی تکمیل اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے حلقے کی عوام کی مشکلات کم ہوگی۔شوکت یوسف زئی نے سیاحت کے حوالے سے واضح کیا کہ شانگلہ میں بے پناہ سیاحتی مقامات موجود ہے اور جن میں بیشتر مقامات تک پختہ سڑکوں کی تعمیر ہوچکی ہے اور بہت جلد شانگلہ سیاحت کا مرکز ہوگا جس سے یہاں روزگار اور ترقی کا نیا سفر شروع ہوگا اور لوگوں کی معاشی صورتحال بھی بدل جائے گی۔یہ صرف تین ساڑے تین سال کا کام ہے اور اب وقت باقی ہے شانگلہ کی قسمت بدل جائے گی۔۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں