0

حکومت وقت کی طرف سے حاجیوں کیلئے مشکلات میں دن بہ دن اضافہ

سوات (مانند نیوز ڈیسک) حکومت وقت کی طرف سے حاجیوں کیلئے مشکلات میں دن بہ دن اضافہ۔ حاجیوں کو مکمل طور پر حالات کے رحم و کرم پر چھوڑا گیاہے۔ چند سال پہلے حاجیوں کو فراہم زیادہ تر سہولیات کو ختم کردیا گیا ہے۔ساڑھے 8لاکھ کی خطیر رقم کا داخلہ لینے کے بعد باوجود بنیادی سہولیات کو نکالا گیاہے۔حاجیوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شیڈیول نام کی کوئی چیز حاجیوں کو نہیں دی گئی۔پشاور سے اسلام آباد خرچہ جو پہلے داخلہ میں شامل تھا اب حاجیوں کے سر ڈالا گیا ہے۔PCRٹیسٹ بھی داخلہ فیس سے نکالا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سوات سمیت صوبہ کے مختلف علاقہ جات سے حج پر جانے والے حاجیوں نے شکایات کے انبار لگادئے۔حکومتی انتظامات اور ظالمانہ فیصلوں کے خلاف پھٹ پڑے۔انہوں نے کہا کہ چند سال پہلے جب حج کیلئے داخلہ لیا جاتا تو سب سے پہلے حاجی کو ایک لفافہ خط کے ذریعے اس کا شیڈیول بھیجاجاتا۔ اس شیڈیول میں حاجی کو تمام تر معلومات فراہم کی جاتیں کہ کب حاجی کیمپ پہنچنا ہے، کب پی سی آر ٹیسٹ کروانا ہے، کب اسلام آباد روانگی ہوگی، کب فلائٹ ہوگی حتیٰ کہ واپسی تک کا سارا شیڈیول درج ہوچکا ہوتا۔ لیکن بدقسمتی سے ابھی کوئی شیڈیول نہیں بھیجا جاتا جس کی وجہ سے حاجیوں کو اپنے اوقات کار، روانگی و واپسی سمیت تمام معاملات میں مکمل اندھیرا ہے جس سے وہ شدید ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔انہوں نے کہاکہ پہلے جبکہ 72گھنٹے پہلے پی سی آر ٹیسٹ کرانا ہوتا تھا اب شیڈیول نہ ملنے کی صورت میں وہ کروانا بھی ایک مسئلہ بن گیا ہے جبکہ اس ٹیسٹ کی رقم پہلے داخلہ رقم میں لی جاتی تھی لیکن بدقسمتی سے اب حاجیوں کو اس کی الگ ادائیگی کرکے کرانا پڑرہاہے۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پشاور حاجی کیمپ سے اسلام آباد فلائٹ کیلئے بھی راستہ کا کرایہ اسی داخلہ میں شامل ہوتا تھا لیکن اب وہ بھی حاجیوں سے الگ سے وصول کئے جاتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں جبکہ حج پر جانا ہر مسلمان کی دلی خواہش ہوتی ہے اور خوشی کا ایک بڑا موقع ہوتاہے، حکومت کے ناقص انتظامات کی وجہ سے حاجیوں کیلئے تکلیف کو پریشانی کا سبب بنایا جارہاہے۔چند سال پہلے جب سارے انتظامات مکمل کرکے حاجیوں کیلئے آسانیاں پیدا کی جاتی تھیں اب آسانیوں کے بجائے الٹا مشکلات اور پریشانیاں پیدا کی جارہی ہیں۔حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے حجاج صاحبان نے کہا کہ اگر حکومتیں حج جیسے عظیم فریضہ کی ادائیگی میں مزید سہولیات دینے کے بجائے الٹا مشکلات پیدا کررہی ہیں تو ایسی حکومتوں کو رہنے کا کوئی حق نہیں۔ ایک طرف داخلہ رقم میں کئی کئی گنا اضافہ اور دوسری طرف سہولیات کا فقدان ان کی خراب کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہاکہ مقامی نمائندگان نے بھی مکمل چپ کا روزہ رکھا ہوا ہے کیونکہ ان کوصرف اپنی سیاست کی فکر ہے ان کو عوام کی تکلیف کی کوئی پرواہ نہیں۔انہوں نے حکومت وقت اور متعلقہ اداروں سے پر زور مطالبہ کیا کہ دین کے اس بڑے فریضے کی ادائیگی میں عوام کیلئے زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کرکے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں