0

ووٹ کے اندراج اور درستی کیلئے ضلع مردان میں 232ڈسپلے سنٹرز بنائے گئے ہیں،ڈی ی سی

پشاور(مانند نیوز ڈیسک)ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرمردان ضیاالرحیم نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے جاری کردہ ٹائم لائن کے مطابق ضلع مردان میں 232 ڈسپلے سنٹرز بنائے گئے ہیں تاکہ ووٹر انتخابی فہرستوں کا معائنہ کیا جاسکے  انتخابی فہرستیں  19 جون 2022 تک ڈسپلے سنٹرز پر آویزاں رہیں گی  عوام الناس کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ ڈسپلے سنٹرز پر جا کر اپنے ووٹ کا اندراج چیک کریں اگر اندراج نہ ہے تو اندراج کروائیں جس کے لئے فارم 15 استعمال کیا جائے گا کسی ووٹر کے ووٹ پر اعتراض کے لیے فارم  16 استعمال کیا جائے گا  ووٹر اپنے کوائف کی درستگی کے لیے فارم 17 استعمال کریں یہ تمام فارم ڈسپلے سنٹرز پر دستیاب ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے غیرسرکاری تنظیم ساؤتھ ایشیا پارٹنرشب پاکستان کے پروگرام جذبہ  وومن ووٹرز نیٹ ورک کے زیر اہتمام مردان  میں خواتین کونسلرز اور ویمن لیڈرزکے اجلاس سے خطاب کرتے ہو ئے کیا،اجلاس سے  ساؤتھ ایشیا پارٹنرشب پاکستان کے پروگرام جذبہ کے  لوکل ریسورس پرسن  نصرت آرا نے جذبہ پروگرام کے اغراض و مقصد بیان کئے،نصرت آرا پاکستان میں 100فیصد خواتین میں سے 44فیصد خواتین نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہے لیکن ان میں سے 50فیصد خواتین اور بعض میں شرح 15فیصد کم ہے جو اپنا حق رائے دہی استعمال کر پائی ہیں اور 85فیصد خواتین ووٹ کا حق ادا نہیں کر سکی ہیں انتخابی عمل میں خواتین کیلئے مختص پولنگ اسٹیشنوں کی کمی خواتین ان سب مسائل کی وجہ سے ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکیں ہیں قومی دھارے میں خواتین ووٹ کا ہونا بے حد ضروری ہے۔نصرت آرا نے  ووٹ کی اہمیت کے حوالے سے کہا کہ خواتین کو سیاست میں اپنا کردار ادا کرنا پڑیگا اور اگر خواتین اپنا کردار ادا نہیں کریں گی تو ان کے ساتھ ظلم و زیادتی ہوتی رہے گی، خواتین کی تقدید صرف ووٹ کے زریعے ہی تبدیل ہو سکتی ہے،  وومن ووٹرز نیٹ ورک  کی صدر سدرہ نے کہا کہ خواتین کیلئے لڑکیوں کے سکولز میں ڈسپلے سنٹرز قائم کئے جائیں تاکہ خواتین بلاجھجک  وہاں جا کر ووٹر لسٹ میں اپنا ووٹ چیک اور اس میں تبدیلی کرا سکتے ہیں.حلقہ بندیوں کے بارے میں بات کرتے ہوے الیکشن کمشنر نے کہا کہ ضلع مردان میں 3ایم این ایاور 8 ایم پی ایز منتخب ہو گے اسکی بنیاد پر خواتین ریزرو سیٹ پر آئیں گی۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنر نے کہا کہ  ابتدائی حلقہ بندیوں پر متعلقہ حلقے کا ووٹر 30 جون تک اعتراض دائر کرسکتا ہے، جس کے بعد الیکشن کمیشن یکم جولائی سے 30 جولائی تک اعتراضات پر فیصلے کرے گا۔ ڈسٹرکٹ الیکشن کمشنرمردان نے کہا کہ  کہ اگر کسی فرد کا ووٹ درج نہیں ہے تو وہ شناختی کارڈ کے مستقل یا عارضی پتہ کے مطابق اپنا ووٹ درج کروا سکتا ہے۔ کسی غیر متعلقہ /فوت شدہ ووٹر کے ووٹ کا اخراج اور شناختی کارڈ کے مطابق اپنے کوائف کی درستگی بھی کروائی جا سکتی ہے۔انہوں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھر کے نزدیک ڈسپلے سنٹر سے اپنے اور اپنے اہل خانہ کے ووٹ کے کوائف کا معائنہ کریں اور کسی تبدیلی یا غلطی کی صورت میں متعلقہ فارمز کے ذریعے اپنے ووٹ کے درست اندراج کو یقینی بنائیں تاکہ وہ اپنے جمہوری اور قانونی حق کو آئندہ ہونے والے انتخابات میں احسن طریقے سے استعمال کر سکیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں