0

سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی تکمیل مقررہ وقت پر کی جائے،شہباز شریف

نوشہرہ (مانند نیوز ڈیسک) وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہمارا عزم ہے کہ سی پیک کے تحت خصوصی اقتصادی زونز کی تکمیل مقررہ وقت پر کی جائے۔ میں پورے ملک کے سامنے اس عزم کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ جس قسم کے بھی حالات ہوں ہم سب مل کر مشترکہ طورپرصنعتی سرمایہ کاری کو پروان چڑھانے، ملازمتیں پیدا کرنے، پیدوار بڑھانے اور ریونیو بڑھانے کے لیے کام کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ آنے والے وقت میں پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال ملک بنایا جاسکے۔چینی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے خطہ میں ترقی کے نئے باب کھلیں گے۔ پاکستان اور چین نے ماضی میں بھی ایک دوسرے کا ساتھ نبھایا۔ دونوں ممالک کی کمپنیاں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر سکتی ہے۔ چینی کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دیتے ہیں۔ ان خیالات کااظہار وزیر اعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں سی پیک منصوبے کے تحت قائم پہلے خصوصی اقتصادی زون رشکئی کا دورہ کرنے کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ میرا سپیشل اکنامک زون کا پہلا د ورہ ہے۔ میرا دورہ، پاکستان، خاص طور پر چھوٹے صوبوں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں خصوصی اقتصادی زونز کی پروموشن کے حوالے سے میری ذاتی دلچسپی اور عزم کا اظہار ہے۔ا نہوں نے کہا کہ 2016-17میں ان خصوصی اقتصادی زونز کی تعمیر زیر غور تھی تو بیجنگ میں جوائنٹ کمیشن میٹنگ میں نو خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کی منظوری دی گئی اور پھر چیزیں تبدیل ہو گئیں اورجو کچھ ہو وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ شہباز شریف نے کہا کہ چین میں مزدوری بہت مہنگی ہے اور دیگر فیکٹرز بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی اسکلڈ اورسیمی سکلڈ لیبر اب بھی چین کے مقابلہ میں سستی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم توقع کررہے ہیں کہ ان اقتصادی زونز میں چینی کمپنیاں مشینری لگائیں گی اور دونوں ملک سرمایاکاری کریں گے تو یہ سب کے لئے ون، ون صورتحال ہو گی، چیزوں کو ایکسپورٹ کریں اور منافع کمائیں اورپاکستان کو معاشی طور پر فائدہ پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ رشکئی اور دیگر خصوصی اقتصادی زونز سے وفود چین بھیج سکتے ہیں تاکہ وہ وہاں پر روڈ شوز منعقد کریں اور چینی سرمایہ کاروں ان جگہوں پر سرمایاکاری کے لئے ترغیب دیں۔ ہمیں ان لائنز پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یہاں آکر بڑی خوشی ہوئی، مقصد یہ تھا کہ آپ کی حوصلہ افزائی کی جائے اور اگر کوئی مسائل ہیں تو ان کو سمجھا جائے اوران کو حل کیا جائے۔ آج کی بات چیت بڑی مفید ہے، جو بھی ایشوز اٹھائے گئے ہیں ان پر بات کریں گے اور ان کو حل کریں گے۔ یہاں کی مینجمنٹ کی میں حوصلہ افزائی کرتا ہوں اوران کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور گزارش کرتا ہوں کہ جو بھی ٹائم لائنز طے کی گئی ہیں اور منصوبہ بندی کی گئی اس کو حاصل کرنے کے لئے پوری کوشش کریں اور ہم ایک ورچوئل میٹنگ رکھیں گے تاکہ اگر وفاقی حکومت کی جانب سے کوئی مشکلات ہیں توان کو دور کیا جائے اور جہاں پر آپ کی طرف سے مسائل ہیں ان کو آپ حل کریں تاکہ یہ انڈسٹریل سٹیٹ اور خصوصی اقتصادی زون ایک رول ماڈل بنے اوربیرون ملک سرمایہ کار چاہے وہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہیں، ترک، چینی، مشرق وسطیٰ اور عرب ممالک کے سرمایہ کاروں کو کشش ہو کہ ہم یہاں پر جائیں گے تو ہمیں زبردست پذیرائی ملے گی،اس کو ہمیں ان خطوط پر استوارکرنا چاہئے اس کے لئے میں بطور وزیر اعظم نہیں بلکہ پاکستان کے سی ای او کے طور پر آپ کی تمام اچھی کاوشوں کو سپورٹ کرنے کے لئے حاضر ہوں۔ اس موقع پر وقاقی وزیر برائے مواصلات مولانا اسعد محمود، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی وخصوصی اقدامات احسن اقبال، وفاقی وزیربرائے اوورسیزپاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی ساجد حسین طوری، پاکستانی وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام خان اور اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں