0

مونس الٰہی کیخلاف مقدمہ چوہدری صاحبان کو عمران خان کا تحفہ ہے،رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان نے کہا ہے کہ منی لانڈرنگ کیس میں چوہدری مونس الٰہی کی گرفتاری کے لئے کوئی ریڈ نہیں ہو گا، چوہدری مونس الٰہی آئیں انہیں باعزت طریقہ سے بٹھایا جائے گا، ساری دستاویزات ان کے سامنے رکھی جائیں گی اورانہیں پورا موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنا جواب جمع کرائیں۔ اگر مونس الٰہی کو نوٹس موصول نہیں ہوا تو نوٹس ان کو آجائے گا، انہیں نوٹس جاری کیا گیا۔سابق وزیر اعظم عمران خان کے دورمیں شروع کی گئی رحیم یارخان شوگر ملز کے حوالے سے انکوائری تکمیل کے قریب تھی اور اسے ہم نے مکمل کیا ہے اوردوبارہ سے اس پر غور کیا ہے اور یہ بات ثابت ہے کہ یہ پیسے نواز بھٹی اور مظہر حسین کے نہیں تھے اوریہ پیسے چوہدری صاحبان کے ہی تھے۔دیگر شوگر ملز کے حوالے سے انکوائری ابتدائی مرحلہ میں ہے جبکہ عمران خان کو چوہدری پرویزالٰہی سے بڑی محبت اور بڑا پیار تھا اور مونس الٰہی سے بڑا پیار تھا توان کے خلاف انکوائری کو تیزی سے مکمل کرادیا، عمران خان مونس الٰہی کو گرفتار بھی کروانا چاہتے تھے اور یہ خود ان کے عمل میں تھا اور انہوں نے اس حوالے سے خود مجھے بھی بتایا۔ یہ چوہدری صاحبان کو عمران خان کی طرف سے گفٹ ہے۔ ان خیالات کااظہار رانا ثناء اللہ خان نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ رانا ثناء اللہ خان نے کہا کہ چوہدری مونس الٰہی خاطر جمع رکھیں کیونکہ جو مقدمہ ان پر ہوا ہے یہ عمران خان کاہی تحفہ ہے کیونکہ یہ بات شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں سامنے آئی تھی، یہ انکوائری عمران خان کے دورحکومت میں ہی مکمل ہوئی اوراس وقت مونس الٰہی کی گرفتاری کا بھی فیصلہ ہوا تھا اوراس بات کااظہار خود مونس الٰہی نے میرے ساتھ کیا جب وزارت اعلیٰ کے حوالے سے ان کے ساتھ مذاکرات ہورہے تھے اور چوہدری پرویز الٰہی بھی موجود تھے اور انہوں نے خود بتایا کہ مونس الٰہی کو گرفتار کرنے کے لئے حکومت نے کوشش کی۔ یہ انکوائری اس وقت کی مکمل ہوئی، ہوئی ہے۔ معاملہ یہ ہے کہ رحیم یارخان شوگر ملز دو لوگوں کے نام پر خریدی گئی، ایک اس میں نواز بھٹی ہیں جو نائب قاصد ہیں اور یہ مشہور زمانہ محمد خان بھٹی جو پرویز الٰہی کے پاس کلاس فور میں آئے تھے اوراس وقت ماشاء اللہ وہ گریڈ21میں ہیں،گریڈ فور میں آکر کر گریڈ21میں ہیں، نواز بھٹی ان کے کزن ہیں اور نائب قاصد ہیں اور دوسرے مظہر حسین اس وقت طالب علم تھے اور بعد میں اسے لینڈ ریکارڈ میں ملازم رکھا گیا۔ ا ن لوگوں نے 72کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی اور رحیم یارخان شوگر ملز خریدی۔ اگر یہ پیسے چوہدری پرویز الٰہی اور مونس الٰہی کے نہیں تھے اوران لوگوں کے تھے تو یہ ثابت کردیں۔ ہم نے ابھی صرف ان دونوں کو گرفتار کیا ہے اور ابھی ہم چوہدری مونس الٰہی کو نوٹس کریں گے اور ان سے کہیں گے کہ آئیں کہ اگر یہ پیسے ان کے ہیں تو یہ ثابت کردیں، نواز بھٹی جوکہ نائب قاصد ہیں وہ ثابت کریں کہ یہ72کروڑ روپیہ اس کا تھایا مظہر حسین ثابت کریں، اگر یہ ثابت نہیں ہوتا توپھر بعد میں 2011سے لے کر2013میں ایک پرائیویٹ کمپنی بنائی گئی جس کو مونس الٰہی کنٹرول کررہے ہیں، یہ مونس الٰہی کی کمپنی ہے اور پھر یہ سارے شیئراس کمپنی نے خرید لئے۔ یہ دو جمع دو، چار غیر قانونی طریقہ سے حاصل شدہ رقم ہے، یہ کرپٹ منی ہے، یہ منی لانڈرنگ ہے، اگر یہ ثابت کردیں کہ یہ ان دونوں کی ساری سرمایہ کاری تھی تو یہ ٹھیک ہے ہمیں کوئی اعتراض نہیں اور اگر یہ ان دونوں کی نہیں تھی اور یہ ثابت ہوتا ہے کہ پیچھے چوہدری صاحبان تھے تو پھر چوہدری مونس الٰہی کو گلہ نہیں کرنا چاہئے کہ انہیں نوٹس کیوں دیا گیا یا ان سے بازپرس کیوں کی گئی اور اگر یہ ثابت ہوتا ہے تو انہیں گرفتار کیا جائے گا۔اس میں واجد علی بھٹی بھی ہیں، محمد خان بھٹی بھی ہیں، چوہدری پرویز الٰہی کا بطور وزیر اعلیٰ بھی ایک کردار ہے، یہ ساری انکوائری عمران خان نے ان کے خلاف مکمل کروا کر فائل رکھی ہوئی تھی ہم نے تو اسی فائل کو شروع کیا ہے، یہ چوہدری صاحبان کو عمران خان کی طرف سے گفٹ ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں