0

کولمبیا کے سابق باغی رہنماگسٹاو پیٹرو ملک کے پہلے بائیں بازو کے صدر منتخب

بگوٹا (مانند نیوز ڈیسک) کولمبیا کے سابق باغی رہنماگسٹاو پیٹرو نے صدارتی انتخابات کے سخت مقابلے میں ا پنے مخالف کروڑ پتی امیدوارروڈلفو ہرنینڈیز کوشکست دے کر کامیابی حاصل کی، باغی رہنماگسٹاو پیٹرو ملک کے پہلے بائیں بازو کے صدر بن کر کولمبیا کے لیے سیاست کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔انتخابی حکام کی جانب سے جاری کردہ نتائج کے مطابق صدارتی انتخابات جیتنے کی اپنی تیسری کوشش میں سینیٹر پیٹرو نے 50.48% ووٹ حاصل کیے، جبکہ روڈلفو ہرنینڈیز کو 47.26% ووٹ ملے۔پیٹرو کی جیت ملک کے لیے صدارتی سیاست میں زبردست تبدیلی کی نشاندہی کی جس نے مسلح تصادم کے ساتھ اپنی سمجھی جانے والی وابستگی کی وجہ سے بائیں بازو کو طویل عرصے سے پسماندہ کر رکھا ہے۔ پیٹرو خود بھی کسی دور میں ناکارہ باغی تحریکM-19 کے ساتھ منسلک رہا اور اس گروپ میں شمولیت کی وجہ سے جیل جانے کے بعد اسے معافی دی گئی تھی۔پیٹرو نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج کا دن لوگوں کے لیے جشن کا دن ہے۔ انہیں پہلی مقبول فتح کا جشن منانے دیں۔ اس خوشی میں بہت سے مصائب سمیٹے جائیں جو آج وطنِ عزیز کے دل میں ڈوب جاتی ہے۔ پیٹرو نے اپنی جیت کے بعد تقریر کے دوران اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے اپنے کچھ سخت ترین ناقدین سے کہا کہ کولمبیا کے مسائل پر بات کرنے کے لیے حزب اختلاف کے تمام اراکین کا صدارتی محل میں خیرمقدم کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اس حکومت سے جو شروع ہو رہی ہے، کبھی سیاسی ظلم و ستم یا قانونی ظلم نہیں ہوگا، صرف احترام اور بات چیت ہوگی، انہوں نے مزید کہا کہ وہ نہ صرف ہتھیار اٹھانے والوں کی بات سنیں گے بلکہ اس خاموش اکثریت کسانوں، مقامی لوگوں، خواتین، نوجوانوں کی بھی سنیں گے۔ سبکدوش ہونے والے قدامت پسند صدر ایوان ڈیوک نے نتائج کے اعلان کے فورا بعد پیٹرو کو مبارکباد دی اور ہرنینڈیز نے اپنی شکست تسلیم کر لی۔ ہرنینڈیز نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں کہا کہ میں نتیجہ کو قبول کرتا ہوں، جیسا کہ یہ ہونا چاہیے، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ادارے مضبوط ہوں۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ فیصلہ سب کے لیے فائدہ مند ہے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں