0

تاریخ گواہی دے گی شہباز شریف حکومت نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا، مفتاح اسماعیل

اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک) وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل احمد نے کہا ہے کہ ملکی موجودہ حالات کی وجہ عمران خان کی نااہلی، ہماری حکومت کو ناکام کرنے کے چکر میں عمران خان کا جان بوجھ کر پاکستان کی معیشت کو مشکل میں ڈالنااور بارودی سرنگیں بچھانا اوربین الاقوا می سطح پر چیلنجنگ ماحول شامل ہے، ان چیزوں کی وجہ سے ہمیں بڑے مشکل فیصلے کرنے پڑ رہے ہیں۔ تاریخ اس بات کی گواہی دے گی کہ شہباز شریف کی حکومت جس کا میں بھی ایک ادنیٰ سا حصہ ہوں نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے۔ ہماری حکومت آنے کے پہلے دن سے میں کہہ رہا تھا کہ مشکل فیصلے کر لو تو دیوالیہ ہونے سے بچو گے آج پاکستان دیوالیہ ہونے سے بچ گیا ہے۔ یہ فیصلے سیاسی طور پر مشکل تھے لیکن کرنے ناگزیر تھے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو دو،چار ماہ میں ہم مشکلات پر قابو پالیں گے اور آگے بڑھ جائیں گے۔آئی ایم ایف سے معاہدہ رواں ہفتے یا آئندہ ہفتے ہو جائے گا۔آئی این ایف سے تین سال کا چھ ارب ڈالرز کا جو پروگرام تھااس کو چار سال کردیا گیا ہے اور رقم بھی چھ ارب ڈالرز سے بڑھا دی گئی ہے۔ ان خیالات کااظہار مفتاح اسماعیل نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے اس وقت مشکلات سے دوچار ہونے کی تین وجوہات ہیں، ایک وجہ تویہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نااہل حکومت تھی جس نے چار سال وہ فیصلے نہیں کئے جوانہیں کرنے چاہیں تھے، وہ فیصلے ٹالتے رہے یا ان کو سمجھ نہیں آئی۔ چار میں سے تین سال پی ٹی آئی حکومت ایل این جی منگوانا بھول گئی،جب تاریخی طور پرایل این جی سستی ہوئی تو سودے نہیں کئے، تیل کے طویل المدتی سودے نہیں کئے، کوئلے کے طویل المدتی سودے نہیں کئے، آج ہم سپاٹ مارکیٹ سے لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کوئی بجلی کی ٹرانسمشن لائن نہیں بنائی۔دوسرا یہ کہ پی ٹی آئی نے فروری کے بعد معیشت کے اندر بارودی سرنگیں لگائیں،ڈیزل کے اوپر ایک ہوشربا سبسڈی دے دی جس کی وجہ سے حکومت ایکدم دیوالیہ ہونے کی طرف چلی گئی، حکومت چلانے کا مہینے کا خرچہ40ارب روپے ہے اورعمران خان ایک مہینے کی 120ارب روپے سبسڈی دے رہے تھے، تو حکومت تو دیوالیہ ہو جاتی۔ تیسرا بین الاقوامی سطح پر چیلنجگ ماحوال ہے، عمران خان90یا95بیرل پر تیل چھوڑ کر گئے تھے، اب یہ 124سے واپس114ڈالر فی بیرل پر آگیا ہے۔ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام یہ بات سمجھتے ہیں کہ اس وقت اگر ہم پیٹرول مہنگا کررہے ہیں تو ہم نقصان میں نہیں بیچ سکتے، یہ ناگزیز تھا، عمران خان نے آئی ایم ایف سے جو معاہدے کئے ہوئے تھے اس کے تحت تواورمزید مہنگا ہونا تھا توہم نے پھر بھی مہنگائی سے بچایا ہے اور پاکستان کو واپس ڈگر پر چلایا ہے۔ سابق وزیرخزانہ محمداسحق ڈار واپس پاکستان آئیں گے یا نہیں اس کا جواب وہی دے سکتے ہیں میں نہیں بتاسکتا۔ مجھے میاں محمد نواز شریف اور وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف نے عہدہ دیا ہے، مجھے عزت دی ہے اوراس قابل سمجھا ہے اس پر میں ان کاشکر گزارہوں۔ یہ وزیر اعظم شہبازشریف کی صوابدید ہے کہ وہ مجھے برقراررکھنا چاہتے ہیں یا اسحق ڈار کو وزیر خزانہ لگانا چاہتے ہیں۔ میں اس بات کا بالکل برا نہیں مناؤں گا کہ اگر وزیر اعظم شہباز شریف مجھے ہٹا کر اسحاق ڈار کو وزیر خزانہ لگائیں۔ مجھے عہدے سے ہٹانے کے حوالہ سے کوئی سگنل نہیں ملا۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی ہے اور ہم اسی لئے آئے ہیں کہ آلو، پیاز اور ٹماٹر کی قیمت دیکھیں، ہم اسی لئے آئے ہیں کہ ہم معیشت کو بہتر کریں۔ گزشتہ حکومت میں وزیر اعظم 12لاکھ روپے دے کر اپنا گھر ریگولرائز کرواتا تھا اور ہم امیروں کو سپر ٹیکس میں لائے ہیں جس میں موجودہ وزیر اعظم، سابق وزیر اعظم اور میں خود بھی شامل ہوں۔ آئی ایم ایف نے نیب قوانین میں ترمیم کے حوالہ سے ہمیں کچھ نہیں کہا اور کوئی رپورٹ نہیں مانگی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں