0

جمرود میں ماں کے دودھ کی افادیت کے حوالے سے اگاہی واک و سمینار کا انعقاد

جمرود (مانند نیوز ڈیسک) اس سلسلے میں ضلع خیبر جمرود ٹائپ ڈی ہسپتال میں ماں بچے کے دودھ کی افادیت کے حوالے سے تقریب اور آگاہی واک کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں نے شرکت کی۔اگاہی واک میں شرکاء نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جس پر ماں بچوں کے صحت اور دودھ کے حوالے سے آگاہی نعرے درج تھے۔تقریب میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ افیسر ڈاکٹر ظفر علی خان، منیجر نیوٹریشن خیبر آنم افریدی، ڈسٹرکٹ انفارمیشن آفیسر حیات احمد آفریدی،ڈاکٹر عثمان خان،ڈاکٹر بخت تیلا،ڈاکٹر نیلم شیر،ڈاکٹر سیدرہ،ایم ایس ڈاکٹر احتشام خان کے علاؤہ ڈاکٹروں اور عام لوگوں نے شرکت کی۔تقریب و اگاہی واک شرکاء سے ڈاکٹر ظفر علی و دیگر نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ اور یونیسیف کے اشتراک سے ہر سال دُنیا بَھر میں اگست کا پہلا ہفتہ ماں کی دودھ کی افادیت کے طور پر منایا جاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ قدرتی طور پر ماں کا دودھ بچّے کے لیے ایک مکمل اور بہترین غذا ہے ماں کے دودھ بنیادی اجزا میں پانی، چربی،مختلف وٹامنز، معدنیات، خوراک ہضم کرنے والے اینزائم اور ہارمونز شامل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ماں کے دودھ میں بیماریوں سے بچاو? کے لیے قدرتی طور پر اینٹی باڈیز موجود ہوتی ییجو کسی بھی قسم کے ڈبے والے دودھ میں نہیں ہوتی ماں کا دودھ نہ صرف بیماریوں سے تحفّظ فراہم کرتا ہے بلکہ رات میں پینے سے بچّے کو کوئی طبّی تکلیف بھی نہیں ہوتی ان کی عمومی صحت، بڑھوتری اور نشوونما مناسب رہتی ہے۔ مقررین کا  کہنا تھا کہ دودھ پلانے والی مائیں کئی طبّی مسائل سے محفوظ رہتی ہیں اگر کوئی ماں کم علمی یا مصروفیات کے سبب بچّے کو اپنا دودھ نہیں پلاتی تو یہ عمل خود اس کی اپنی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہے۔انہوں نے کہا کہ دراصل دودھ پلانے والی ماؤں میں بریسٹ کینسر کی شرح کم ہوجاتی ہے ماں کا دودھ غذائیت سے بھرپور ہے اس میں تمام خوراکی اجزاء موجود ہیں جو بچے کی نشوونما کے لیے ضروری ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں