0

سوات مٹہ،مسلح افراد اور مقامی جرگہ مزاکرات کامیاب مغوی ڈی ایس پی پیرسید خان کو رہاکردیا

سوات (مانند نیوز ڈیسک) سوات تحصیل مٹہ کے علاقے چپریال میں پولیس چوکی پر درجنوں نقاب پوش مسلح افراد کا حملہ جوابی کاروائی سے مسلح افراد فرار۔ پولیس کا سرچ آپریشن جاری لوگوں میں خوف و ہراس قائم تفصیلات کے مطابق سوات میں امن قائم ہونے کے تقریباً 14 سال بعد پولیس پر ایک بار پھر نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کیا گزشتہ رات سوات کی تحصیل مٹہ کے علاقہ چپریال میں پولیس چوکی پر درجنوں نقاب پوش مسلح افراد نے فائرنگ کر تے ہوئے حملہ کردیا پولیس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے فائرنگ کی جس کی وجہ سے مسلح حملہ اور فرار ہو گئے۔اس واقع کے پولیس نے سرچ انیڈ سٹراہیک آپریشن شروع کر دیا جو کہ تاحال جاری ہے جبکہ کوئی گرفتاری عمل میں نہیں ائی اس واقع سے علاقہ بھر میں شدید خوف و ہراس کی فضاء قائم واضح رہے کہ گزشتہ کئی روز سے تحصیل مٹہ کے بالائی علاقوں میں بڑے تعداد میں نامعلوم مسلح افراد کے آمد کا سلسلہ جاری ہے اور ان کی تعداد میں مسلسل اضا فہ ہورہا ہے تحصیل مٹہ میں مسلح افراد کی آمد سے انتہائی خوف وہراس پھیل رہا ہے واضح رہے کہ سوات کے پہاڑی علاقے کوزشور،برشور،گٹ پیوچار اور نمل سمبٹ ارد گرد نواح میں مسلح افراد نے باقاعدہ موجود ہونے کی اطلاعات ہیں واضح رے کہ سوات کےمخدوش حالات کے کئ سالوں بعد مٹہ چپریال کا یہ واقع اپنی نوعیت کا پہلا واقع ہے اسی طرح کا ایک اور واقع تحصیل مٹہ کے بالائی علاقے بالا سور میں پش آیا نامعلوم افراد اور پولیس کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوافائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی مٹہ سمیت چار پولیس اہلکار زخمی زخمیوں کو فوری طور پر سیدو شریف ہسپتال منتقل کیا گیا۔مبینہ دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس سرچ آپریشن کررہی تھی پولیس کی بھاری نفری جائے وقوعہ پہنچ گئی ۔سیکورٹی فورسز کے جوان مٹہ پہنچ گئے ایک ذرائع کے مطابق نامعلوم مسلح افراد اور مقامی جرگہ کے مابین مزاکرات کامیاب مسلح افراد نے یرغمال ڈی ایس پی پیرسید خان سمیت تمام مغوی اہلکاروں کو رہا کردیا، ڈی ایس پی زخمی حالت میں سیدو ہسپتال منتقل، واضح رہے مٹہ کے بالائی پہاڑی علاقے میں کل جھڑپ کے دوران نامعلوم افراد نے پولیس کو یرغمال کیا مسلح افراد نے تمام یرغمال اہلکاروں کو مقامی جرگہ کے حوالے کردئے۔جرگہ ذرائع

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں