0

سوات میں طالبان کی موجودگی اور جھڑپ کے حوالے سے ذمہ داروں کی خاموشی،عوام میں تشویش

سوات (مانند نیوزڈیسک) سوات میں طالبان کی موجودگی اور جھڑپ کے حوالے سے ذمہ داروں کی خاموشی،عوام میں تشویش، مٹہ کے واقعے پر حکومت، انتظامیہ اور پولیس کی طرف سے کسی قسم کی وضاحت نہ آنا عوام کو اندھیرے میں رکھنے کے مترادف قرار، زخمی پولیس ڈی ایس پی اور سیکورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل، عوام تذبذب کا شکار، عوام حکومت اور پولیس کی طرف سے وضاحت کے منتظرہیں جبکہ طالبان کمانڈر کی جانب سے واضح کیا گیا ہے ہمارے قائدین کا افغانستان میں مذاکرات جاری ہے جس کے تحت انہوں نے پرامن طریقے سے آپنے علاقوں میں واپس جانے کی ہدایت کی ہے اور سیز فائر کا اعلان کیا ہے اس کی ہم پاسداری کر رہے ہیں لیکن پولیس اور فورسز اس کی سیز فائر کی پاسداری نہیں کر رہی،طالبان کی جانب سے جرگہ مذاکرات کے بعد ڈی ایس پی اور دیگر فورسز اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا ڈی ایس پی پیر سید کو زخمی حالت میں سیدو ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جارہی ہے

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں