0

وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی کی زیر صدارت 122ویں سنڈیکیٹ میٹنگ کا انعقاد

ڈیرہ اسماعیل خان(مانند نیوز)وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر کی زیر صدارت سنڈیکیٹ میٹنگ کا انعقاد پشاور میں ہوا۔ میٹنگ میں سابق وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاورپروفیسر ڈاکٹر خان بہادر نمائندہ چیئرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد،جسٹس (ر)محمد دائود خان نمائندہ چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ، رجسٹرارپروفیسر ڈاکٹر نعمت اللہ بابر، ڈین فیکلٹی آف ویٹرنری اینڈ اینمل سائنسز، پروفیسر ڈاکٹر شکیب اللہ ،پروفیسر ڈاکٹر محمد سلیم جیلانی، ایسوسی ایٹ پروفیسر ، ڈاکٹر محمد صفدر بلوچ،نمائندہ سیکرٹری ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ،پشاورجاوید اقبال،نمائندہ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ،پشاور ،محمد ایاز، نمائندہ سیکرٹری فنانس پشاور،کامران خان، اسسٹنٹ پروفیسر آئی سی ایس ،ڈاکٹر محمد عدیل ،ڈپٹی رجسٹرار ،حفیظ اللہ ، لیکچرارڈاکٹر امداد اللہ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر آئی ٹی،ڈاکٹر محمد جنید سراجی نے شرکت کی جبکہ اقبال اعوان، ڈائریکٹر فنانس ،شکیل ملک، پرنسپل ڈگری کالج درابن ،شہلا امبرین، پرنسپل گرلز ڈگری کالج نمبر3آن لائن میٹنگ میں شریک تھے۔ میٹنگ میں تمام ممبران نے16مارچ2021کو ہونیوالی صوبائی کابینہ کی52ویں میٹنگ میں گومل یونیورسٹی اور زرعی یونیورسٹی کے فیصلوں کو منظورکرکے باقاعدہ طور پر لاگو کر دیا گیا۔میٹنگ میں فیصلہ کیا گیا کہ گومل یونیورسٹی کے وہ ملازمین جو اب زرعی یونیورسٹی کا حصہ ہیں اور گزشتہ ایک سال میں ان کی ترقیاںہو گئیں ہیں اب انکو اپنے نئے گریڈ میں زرعی یونیورسٹی میں لیا جائے گا اور اسی دوران وہ ملازمین جو ریٹائرڈ ہو گئے ہیں وہ زرعی یونیورسٹی کا حصہ نہیں ہونگے بلکہ گومل یونیورسٹی کے ہی ملازم تصور ہونگے۔ میٹنگ کے دوران وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر کی جانب سے گومل یونیورسٹی کی بسیں نہ لینے کی سفارشات کو بھی تمام ممبران نے باقاعدہ طور پرمنظور کر لیا جبکہ ایک معزز ممبر جسٹس(ر) دائود نے تمام فیصلوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ گومل یونیورسٹی کے وہ تمام ملازمین جو زرعی یونیورسٹی میں جا رہے ہیں وہ سال پہلے جس گریڈ میں تھے اسی طرح زرعی یونیورسٹی کا حصہ بنیں گے اور 16مارچ2021کو ہونیوالی صوبائی کابینہ کی52ویں میٹنگ کے تمام تر فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا جائے۔  اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس چانسلر گومل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر مسرور الٰہی نے کہا کہ گومل یونیورسٹی ایک قدیم مادر علمی ہے جس کا اپنا ایک وقار ہے اور کسی کو بھی کسی کو اس تقدس پامال نہیں کرنے دونگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک گومل یونیورسٹی میں ہوں اس کی ترقی ،خوشحالی ،بہتری اور مالی خسارے کو دورکرنے کیلئے ہر فورم پر نہ صرف آواز اٹھائوں گا اور آج کی اس میٹنگ کے توسط سے اعلیٰ حکام کو گزارش کرتا ہوں کہ گومل یونیورسٹی کیلئے ایک بڑی گرانٹ فوری طور پر دیں تاکہ گومل یونیورسٹی کو مالی مشکلات سے فور ی طور پر نکالا جائے۔ ڈاکٹر مسرور الٰہی بابر نے مزید کہا کہ قانون کے خلاف کوئی چیز نہیں ہونے دیںگے اور تمام تر قانونی تقانونی تقاضوں کو بہترطریقے سے سمجھ کراس کو حل کرنے کیلئے چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ کے منتخب نمائندہ ریٹائرڈ جسٹس دائود خان ہمارے درمیان موجود ہیں جو ہماری رہنمائی کریں گے تاکہ گومل یونیورسٹی سنڈیکیٹ معزز عدلیہ کے فیصلوں کو ملحوظ خاطر رکھ کر ہی اپنی کاررائی کرتی رہے۔اس موقع پر سیکرٹری ایچ ای ڈی جاوید اقبال نے کہا کہ حکومت کبھی بھی نہیں چاہتی کہ ایک نئی یونیورسٹی کو بنائیں اور دوسری پرانی یونیورسٹی کو ختم کر دیں ‘گومل اور زرعی یونیورسٹیاں دونوں حکومت کا حصہ ہیں۔ نئی یونیورسٹی کے قیام میں مسائل آتے ہیں اوران کو افہام و تفہیم سے حل کیا جا سکتا ہے جیسا کہ آج کی میٹنگ میں ہوا ۔ میٹنگ میں تمام ممبران نے چیئر مین ہائیر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد ،چانسلر گومل یونیورسٹی اور صوبائی حکومت سے فوری طورپر گومل یونیورسٹی کیلئے ایک بڑی خصوصی گرانٹ دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں