0

حکومت تحصیل کلکوٹ میں سیلاب زدگان پر زیادہ توجہ دے ورنہ یہاں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے، صدر دیر ویلفئیر آرگنائزیشن

شرینگل (نمائندہ مانند)حکومت تحصیل کلکوٹ میں سیلاب زدگان پر زیادہ توجہ دے ورنہ یہاں انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔سلطان یوسف صدر دیر ویلفئیر آرگنائزیشن۔تفصیلات کے مطابق دیر ویلفئیر آرگنائزیشن کے صدر حاجی سلطان یوسف المعروف دیر لالا جی نے کہا ہے کہ حالیہ طوفانی بارشوں اور سیلاب سے دیر بالا کے دیگر علاقوں کی نسبت تحصیل کلکوٹ کوہستان میں سب سے زیادہ تباہی مچی ہے جہاں انفراسٹرکچر کے علاؤہ لوگوں کے گھر بار، مارکیٹیں، بازار اور کھڑی فصلیں حتیٰ کہ قبرستان بھی سیلاب میں بہہ گئے ہیں اور وہ کھلے آسمان تلے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اسلئے حکومت اور فلاحی تنظیموں کی وافر امداد اور غذائی پیکیج ان علاقوں اور لوگوں تک پہنچنی چاہئے ورنہ سردیوں میں یہاں انسانی المئے جنم لے سکتے ہیں۔ اس امر کا اظہار انہوں نے تحصیل کلکوٹ کوہستان کے دور افتادہ گاؤں بری کوٹ میں سیلاب زدگان میں غذائی اشیاء کے پیکیج تقسیم کرنے کے بعد جامعہ کمراٹ الاسلامیہ کمپلیکس میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر مہتمم جامعہ مولانا حنیف اللہ، مولانا شمس اور دیگر عمائدین علاقہ نے بھی خطاب کیا اور متاثرین کیلئے ملک بھر سے ریلیف فراہمی پر دیر ویلفئیر آرگنائزیشن اور دیگر فلاحی اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ مقررین نے بتایا کہ اس تباہ حال تحصیل کے علاقوں بری کوٹ، کلکوٹ اور تل کمراٹ میں گاؤں کے گاؤں سیلاب برد ہوگئے ہیں جبکہ کمراٹ شاہراہِ سمیت تمام رابطہ سڑکیں، پل، سکول و ہسپتال، مساجد اور ابنوشی سکیمیں صفحہ ہستی سے مٹ گئی ہیں اسلئے وفاقی و صوبائی حکومتیں، کمشنر ملاکنڈ، ڈی سی دیر بالا، پاک فوج، نیشنل و خیبرپختونخوا ہائی وے اتھارٹیز، محکمہ جنگلات اور مواصلات یہاں انفراسٹرکچر کی بحالی پر زیادہ توجہ دیں۔ مقررین کا کہنا تھا کہ سیلاب زدگان کی مستقل بحالی کیلئے حکومت، پاک فوج اور فلاحی تنظیموں کے اقدامات قابل فخر ہیں تاہم مزید مربوط کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور کوئی بھی امداد سے محروم نہ رہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اکتوبر کی آمد کے ساتھ ہی ان بالائی علاقوں میں سردی بڑھ گئی ہے جبکہ نومبر میں برفباری کا بھی امکان ہے اسلئے خیموں میں پناہ گزین ان ٹھٹھرتے سیلاب زدگان کی مستقل بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر مکمل ہونا چاہئے ورنہ ان یخ بستہ کوہستانی دیہات میں انسانی المئے جنم لے سکتے ہیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں