0

ریاست اور عوام کے مابین حقوق کے ساتھ ساتھ کئی باہمی ذمہ داریاں بھی معین ہوتی ہیں، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن

ملاکنڈ (مانند نیوز) کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی یوسفزئی نے کہاہے کہ ریاست اور عوام کے مابین حقوق کے ساتھ ساتھ کئی باہمی ذمہ داریاں بھی معین ہوتی ہیں اور جمہوری معاشروں میں نظام حکومت کا یہ حسن ہوتا ہے کہ اس  میں حکومت،منتخب نمائندے اور سرکاری مشینری عوام کے سامنے جوابدہ ہوتے ہیں اور عوام کو مکمل آزادی حاصل ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ  کھلی کچہریوں کے ذریعے عوامی مسائل سے آگاہی حاصل کرنے اور اس کے ممکنہ حل کے لیے موثر کوششیں کرنے کی غرض سے انتطامیہ اور سرکاری محکمے عام کی عدالت میں حاضر ہوئے ہیں۔ کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ اور دیگر سرکاری مشینری کے تمام محکمے عوام کی ہمہ وقت خدمت کیلئے قائم ہیں اور وہ اپنی اولین فرض کے طور پر عوامی خدمت اپنا شعار بنائے۔انھوں نے انکشاف کیا کہ ضلع ملاکنڈ میں بڑ ھتی ہوئی آبادی کے تناظر میں لیویز فورس کی 500 نئی آسامیوں کا کیس محکمہ فنانس کو ارسال کیا گیا ہے  جبکہ خالی آسامیوں کو میرٹ پر پر کیا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کے روز رنگ محلہ ضلع ملاکنڈ کے مقام پر منعقدہ کھلی کچہری سے اپنے خطاب میں کیا۔کھلی کچہری میں ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد عارف خان یوسفزئی،ایڈ یشنل ڈپٹی کمشنر زمین خان کے علاوہ انتظامی ولائن ڈیپارٹمنٹس کے افسران،معززین علاقہ وعوام،سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے حضرات،ٹریڈ یونین اور ذراع ابلاغ کے نمائندوں،علمائے کرام اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔کھلی کچہری میں علاقہ عوام نے ضلعی انتظامیہ اور دیگر سرکاری محکمہ جات کے حوالے سے اپنے حل طلب عوارض اور گزارشات پیش کئے اور ان کے حل کے سلسلے میں کمشنر ملاکنڈ سے مدد چاہی۔اس موقع پر کمشنر ملاکنڈ شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ملاکنڈ لیویزفورس میں خالی پڑی 92 آسامیوں کو ایٹا کے ذریعے پر کیا جائے گا جس میں کسی بھی قسم کی ناانصافی نہیں کی جائے گی اور ان آسامیوں پر اہل امیدواروں کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع میں برھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے لیویز فورس کیلئے مزید 500 نئی آسامیوں کی تخلیق کا کیس بھی محکمہ داخلہ کے ذریعے محکمہ فناس کو ارسال کیا گیاہے۔کمشنر ملاکنڈ نے کھلی کچہری میں جرائم اور منشیات کے حوالے سے عوامی شکایت پر ڈپٹی کمشنر سے کہا کی کہ جن تھانوں کے حدود میں جرائم کے شکایات سامنے آجائیں تو وہاں کے ایس ایچ او کو معطل کیا جائے۔انھوں نے کہا کہ لیویز فورس کا لاء اینڈ آرڈر میں اہم کردار ہے اور اس فورس کی فراہمی کی استعداد  کے حامل افراد کو ملازمت کرنی ہوگی۔انھوں نے ڈپٹی کمشنرکو ہدایت کی کہ وہ حالیہ سیلاب کے نتیجے میں متاثر ہونے والے دوکانداروں کے بارے میں نقصانات کی تفصیلات کا کیس انھیں ارسال کرے جسے محکمہ بحالی و آباد کاری کو ممکنہ معاوضہ کے لیے ارسال کیا جائے گا۔کمشنر نے ضلعی انتظامیہ پر واضح کیا کہ ضلع کے حدود میں داخل ہونے والے منشیات خواہ وہ جہاں سے بھی آتے ہیں کہ روک تھام اور ذمہ داران کے خلاف سخت ذمہ داری ان کی ہے لہذٰا یسے عناصر کے خلاف 3MPO کے تحت کاروائی عمل میں لاکر انہیں کیفرکردار تک پہنچایاجائے۔انھوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس سلسلے میں میں انتظامیہ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے کیونکہ ان کے ارد گرد ایسے سماج دشمن عناصر کی نشاندہی میں انتظامیہ کو عوام کی مددو حمایت درکار ہے۔کمشنر نے کھلی کچہری کے دوران درگئی کے رہائشی بزرگ کی فریاد پر ان کے بیٹے کے قتل میں ملوث مبینہ ملزم کو  شام تک گرفتار کرے اور اس ضمن میں کمشنر کو رپورٹ کرنے کے لیے انتظامیہ کو احکامات جاری کئے۔کمشنر نے عوامی شکایت پر انتظامیہ کو ہدایت کی کہ مارکیٹ میں فصلات کی غیر معیاری تخم اور فرٹیلائزر کے فروخت کے سلسلے ڈسٹرک ڈائریکٹر زراعت کے ہمراہ میں چھاپے مارے جائے اور اس فعل میں ملوث ڈیلروں کو 3MPO کے تحت گرفتار  کیا جائے۔انھوں نے اس موقع پر کیمیل ملاوٹ شدہ دودھ کے فروخت کی شکایت پر بھی ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے متعقلہ اسسٹنٹ کمشنر ز کو احکامات جاری کئے۔کمشنر نے کھلی کچہری کے دوران انتظامیہ کو ہدایت کی کہ پولی تھین بیگز ماحولیاتی تباہی کا بنیادی وجہ ہے اس لیے اس کے خلاف بازاروں میں ٹھوس ایکشن لیا جائے اور اس کے فروخت میں ملوث دکانیں سیل کئے جائیں۔کمشنر نے حکومت کی جانب سے سبزڈائزڈ آٹے کی فراہمی شفاف انداز میں کرانے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ اس میں کسی بھی مداخلت کو برداشت نہ کرتے ہوئے اسے غریب عوام میں شفاف انداز میں تقسیم کیا جائے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر ملاکنڈ محمد عارف خان نے جرائم اور منشیات کے روک تھام کے حوالے سے انتظامیہ کے گزشتہ 11  مہینوں کی کارکردگی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ 11 مہینوں کے دوران ضلع میں سپیشل ٹیم کی تشکیل کے نتیجے میں تقریباََ 155984 گرام چرس،461 لیٹر شراب،7977 گرام افیون،9257 گرام ہیروئن۔4148 گرام آئس،  29 عدد غیر قانونی کلاشنکوف،249 پستول اور 152 منشایت میں ملوث عناصر کو پکڑا گیا ہے جبکہ ملزمان کو 3MPO کے زریعے مختلف جیلوں میں بھیجا گیا ہے۔اس موقع پر بہترین کارکردگی پر کمشنر نے ڈپٹی کمشنر اور ان کی ٹیم کی کارکردگی کو سراہا۔قبل ازیں رنگ محلہ ملاکنڈ پہنچنے پر ملاکنڈ لیویز کے چاق و چوبند دستے نے کمشنر ملاکنڈ کو گارڈ آف انر پیش کیا اور نہیں سلامی پیش کی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں