0

وزیرستان وانا میں امن امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے اہم میٹنگ

وانا (مانند نیوز) اسسٹنٹ کمشنر وانا سلمان خان کے ساتھ مقامی سیاسی قائدین عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ ، پی ٹی ایم، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے رہنماؤں نے ساؤتھ وزیرستان وانا میں امن امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے حوالے سے اہم میٹنگ ہوئی۔ سیاسی قائدین میں آیاز وزیر ، تاج محمد وزیر ، امان اللہ وزیر ، عمران مخلص وزیر ، ندیم خان ، طارق جمیل وزیر ، ملک خیال محمد وزیر ، شہزاد وزیر ، لقمان وزیر ، علی محمد وزیر ، اسداللہ بھیر اور سراج وزیر شامل تھے۔ اس موقع پر تمام جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر کہا کہ جنوبی وزیرستان وانا سے پولیس مکمل طور پر غائب ہوگئ اور پولیس وانا سمیت دوسرے علاقوں میں آپنی ڈیوٹیاں نہیں کررہی۔ اور اب یہ بات بھی عام ہورہی ہے کہ حکومت وانا میں دوبارہ 2007 امن معاہدہ بحال کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانا کے علاقے اعظم ورسک اور سپین میں حالات دن بدن خراب ہوتے جا رہے ہیں اور ساتھ ہی حکومت کی پالیسی اس سلسلے میں واضح نہیں کہ وہ ان علاقوں میں امن قائم کرنے کےلئے کیا اقدامات اٹھانا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وانا میں پولیس بڑی تعداد میں موجود ہے انہیں امن قائم کرنے کےلئے زیادہ متحرک کرنا وقت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئین کے مطابق امن کے قیام کے سلسلے میں اگر کوئی کوشش کو آگے بڑھانا ہوگی تو یہ ذمہ داری سول انتظامیہ کی بنتی ہے کہ وہ قیام امن کےلئے اقدام اٹھائے۔ انھوں نے یہ بھی اے سی وانا پر واضح کردیا۔ کہ علاقہ میں 20 سالوں تک جنگ کی فضاء رہی ہے لیکن جنگ سے ہمیں صرف بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ہم اپنے علاقوں میں دوبارہ جنگ اور دہشتگردی برداشت نہیں کر سکتے۔  اسسٹنٹ کمشنر وانا نے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے تمام مقامی سیاسی قائدین کا ایک بڑا جرگہ ڈی سی ساؤتھ وزیرستان کے ساتھ منعقد کیا جائے گا تاک علاقہ میں دیرپا امن کے قیام پر بحث کی جائے اور ایک مفید راستہ بھی تلاش کیاجائے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں