0

کمشنر ملاکنڈ ڈویژن کی بٹ خیلہ میں کھلی کچہری

بٹ خیلہ (مانند نیوز) کمشنر ملاکنڈڈویژن شوکت علی خان نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین عوام کی ٹیکسوں سے تنخواہیں وصول کرتی ہیں اس لئے وہ عوام کے خادم ہیں اور عوام کو جواب دہ ہیں، ملاکنڈ میں سیاسی بنیادوں پر آٹا کی تقسیم کر بند کرکے کسی نے اگر پوچھ لیا تو میرا نام لیا جائے، کہ ان کے حکم پر ایسا کردیا گیا ہے، ڈی سی ملاکنڈ کو ہدایت کرتا ہوں کہ جس تھانہ کے حدود میں جرائم کنٹرول سے باہر ہو اس کے ایس ایچ او کو فوری طور پر گھر اور جعلی  کھاد فروخت کرنے والوں کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کیا جائے، عوامی مسائل کے حل میں ٹال مٹول برداشت نہیں کرسکتے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے رنگ محلہ ضلع ملاکنڈ میں منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا، کھلی کچہری کا انعقاد ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کیا گیا تھا جس میں ڈی سی ملاکنڈ عارف خان یوسفزئی، اے ڈی سی زمین خان، اے سی اور ایڈیشنل اے سیز درگئی اور بٹ خیلہ سمیت مختلف سرکاری اداروں کے سربران، سیاسی و سماجی حلقوں کے نمائندوں اور بلدیاتی نمائندگان نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور عوامی مسائل بیان کردئے،شکایت کنندگان میں رشید خان، امجد علی شاہ، زوار خان، پیر عظمت شاہ، علیم اللہ، مولانا جاوید، قاضی رشید، اعظم خان، ایصال خان، سلطان یوسف، اعجاز خان، سبحانی گل، فضل قادر، شاکراللہ،ملک ریاض، ابرار وغیرہ شامل تھے انہوں نے مسائل و مشکلات کے انبار لگادئے، جس میں زیادہ تر سرکاری آٹا کی منصفانہ تقسیم، تعلیم، صحت، پانی، بجلی، مواصلات، لیوی بھرتی، ریسک الاؤنس، سیلاب سے متاثرہ مقامات کی بحالی، منشیات کی فروخت، زراعت، ایریگیشن اور سرکاری اراضی پر قابضین کے حوالے سے تھے، ڈپٹی کمشنر عارف خان نے کہا کہ منشیات کے خلاف انہوں نے ترجیحی بنیادوں پر کام کرکے گزشتہ گیار ہ ماہ کے دوران ایک لاکھ 55 ہزار 984 گرام چراس، اس طرح بھاری مقدار میں ہیروئن، آئس، افیون، اسلحہ اور کارتوس برامد کرلی ہے جبکہ منشیات فروشی کے الزام میں اب تک 152 افراد کو تین ایم پی او کے تحت گرفتار کرکے منشیات فروشی کا نٹ ورک تھوڑ دیا ہے، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن شوکت علی خان نے بعض مسایل کے موقع پر حل کرانے کے احکامات جاری کئے جبکہ بعض مسائل حکام بالا تک پہنچا کر اسے حل کرانے کی یقین دہانی کرائی، انہوں نے کہا کہ عوام  اور خصوصاً سیاسی جماعتوں کے قائدین انگریزکے غلامی دور کے روایات اور حرکات سے باز آجائیں، جمہوریت میں ہر کسی کو بولنے اور اواز اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے، اس لئے کوئی بھی ان کی زبان کو حقیقت بتانے سے بند نہیں کرسکتا، انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کے سربراہان عوامی مسایل پر توجہ دیں ورنہ وہ لوگ باقی رہ جائیں گے جو کارکردگی دکھائیں گے۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں