0

آرمی چیف کی تقرری میرٹ پرہونی چاہیے،سراج الحق

اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کو ایک انقلابی نظام کی ضرور ت ہے، وہ ایک انقلابی، فلاحی اور کامیابی کا نظام، اللہ کا دین ہے، ہم چاہتے ہیں کہ پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لئے یہاں اسلامی نظام ہو۔ ہمارا مؤقف ہے کہ آرمی چیف کی تقرری میرٹ کی بنیاد پر ہو، سنیارٹی کی بنیاد پر ہو،اُس طریقہ کار کے مطابق ہو، وہ کسی فرد کی مرضی کی مرہون منت نہ ہو، جس طرح سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کی تقرری کسی صدر یا وزیر اعظم کی مرہون منت نہیں ہوتی۔ پاک فوج کو بھی سپریم کورٹ کی طرح ایک قاعدے اور ضابطے کے تحت ڈالا جائے، وگرنہ ماضی تویہی ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو نے جونیئر ضیاء الحق کو ایک سینئر کے اوپر لایا تھا، ہوا یہی کہ انہیں کے ہاتھوں ان کی حکومت ختم ہوئی، ہر ایک کے ساتھ یہی ہوا ہے،اس لئے میں چاہتا ہوں کہ توبہ کرلیں اور یہ صوابدیدی اختیارات کاخاتمہ ہو جائے اوراس کے لئے ایک نظام بنایا جائے، 22کروڑ عوام یہی چاہتے ہیں کہ حکومتیں، ادارے یہ ایک فرد کی بنیاد پر نہ چلیں بلکہ ایک نظام اور اصول کی بنیاد پر چلیں۔ عمران خان کے گرد بھی مافیاز کے لوگ موجود ہیں جو سرمایہ کاری کرتے ہیں اور فائدے اٹھاتے ہیں، ماضی میں ہم نے پونے چارسالوں میں ہم نے یہی دیکھا کہ لوگوں نے سرمایہ کاری کی، پیسہ خرچ کیا، جب موقع ملا، جس چیز پران کا بس اور ہاتھ چلا توفائدہ بھی اٹھایا۔ان خیالات کااظہار سراج الحق نے ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)اور پاکستان تحریک انصاف کی سیاست میں جولوگ فرق کرتے ہیں وہ سیاسی طور پر شاید نابالغ ہی ہوسکتے ہیں۔ یہ ایک ہی طرح کے لو گ ہیں بس اتنا ہے، چچا اُس طرف بیٹھاہے،بھتیجا اِس طرف آیا ہے، ماموں اُدھر بیٹھا ہے، بھانجا اِدھر آیاہے، بڑا بھائی اُدھر ہے، چھوٹا بھائی اِدھر ہے،اسد عمر اُدھر ہے، زبیر عمر اِدھر ہے،اتنا ہی فرق ہے، میں اس لئے کہنا چاہتا ہوں یہ مافیا ہیں جنہوں نے پارٹیوں پر قبضہ کیا ہے، پھر یہ لوگ پارٹیوں کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور واحد مقصد یہی ہے کہ پیسہ بنانا ہے۔ سراج الحق نے کہا کہ پاکستان اس وقت لاوارث ہے او ریہ آج سے نہیں ایک عرصہ سے ہے، یہ الگ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ کب پردہ اٹھاتا ہے اور کب تک پردہ رکھتا ہے۔ ہم پہلے دن سے یہی کہہ رہے ہیں یہ سب غیر سنجیدہ لوگ ہیں، 75سالوں سے انہوں نے ملک کو یرغمال بنایا ہے، جب بھی قوم کو ان کی راتوں کے بارے میں، ان کی نشست اور برخاستاً کے بارے میں، ان کی انفرادی گفتگو کے بارے میں پتا چلتا ہے توپوری قوم حیران ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ جب کوئی چیز باہر آجاتی ہے تو یہ اس پر حیران ہوتے ہیں کہ چیز باہر کیوں گئی لیکن سچی بات ہے کہ ان بند کمروں میں ساری سیاست ان کے اپنے مفادا ت کے لئے ہے، بند کمروں میں کبھی عوام کے فائدے کے لئے بات نہیں ہوتی اور عام آدمی کے فائدے کی کوئی بات نہیں ہوتی۔ اول سے لے کر آخرتک ان کا ایک ہی مسئلہ ہے کہ اپنی ذات اور اپنے مفادات کو کیسے محفوظ بنایا جائے اوران کو تسلسل دیا جائے۔ سراج الحق  نے کہا کہ آڈیو لیکس کے معاملے پر سرکار کی سطح پر کوئی انکوائری کر کے یا مجلس بنانے سے قوم مطمئن نہیں ہو گئی بلکہ اس مقصد کے لئے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ قوم کے سامنے پوری بات آجائے اور حقائق سامنے آجائیں۔عمران خان کی گفتگو بھی سامنے آئی ہے، یہ سار ے ایک ہی مزاج، کلچر اورکلب کے لوگ ہیں، ہمیں تو پہلے دن سے یقین ہے کہ یہ لوگ اندر ہوں یا باہر ہوں ان سے عوام یا پاکستان کو کوئی فائدہ نہیں ہے، ان کی سیاست اول تاآخر اپنی ذات کے لئے، اپنے خاندانوں کے لئے، اپنے مفادات کے لئے اوراپنی جائید ادوں کے لئے ہے۔امیرجماعت اسلامی نے کہا کہ میں عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ نے مسلم لیگ، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کو ایک بار نہیں بلکہ بار، بار دیکھا، اب 10سالوں سے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،14سالوں سے سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،میڈیا جاکردیکھ لے کہ ان دونوں حکومتوں میں کیا فرق ہے۔ پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے نام کے فرق کے علاوہ کردار میں کوئی فرق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسحاق ڈار بھی کوئی نیا آدمی نہیں ہے، یہ بھی سودی نظام کا سہولت کار اور محافظ ہے جو سودی نظام، قرضوں کا نظام، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی کا پروگرام پی ٹی آئی نے چلایا تھا، پی ڈی ایم والے چلا رہے تھے اب اسحاق ڈار آگئے یہ بھی اس چیز کو آگے کی طرف لے جائیں گے، پیچھے کی طرف آنے کے لئے تیار نہیں، یہ تو انقلابی لوگ ہے ہی نہیں، اِس کے ساتھ کوئی نیا وژن ہے ہی نہیں، یہ اتنا کرسکتا ہے کہ سعودی عرب نے اگر پی ٹی آئی کے دور میں امانتاً تین ارب ڈالر رکھے تھے تو یہ اس میں ایک ارب کا اضافہ کرلے۔ جو لوگ اسحاق ڈار، مفتاح اسماعیل، شوکت ترین اور اسد عمر میں فرق کرتے ہیں شاید وہ سمجھتے نہیں ہیں، یہ ایک ہی کلب کے لوگ ہیں اور ایک ہی دائر ے میں گھومنے والے لوگ ہیں اور ایک ہی آقا کی غلامی پر راضی لوگ ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں۔ سراج الحق نے کہا کہ عمران خان نے اقتدار میں آنے سے قبل اعلان کیا تھا کہ میں ایک کروڑ لوگوں کو نوکریاں دوں گا،50لاکھ گھر بناکردوں گا، میں پٹوار سسٹم کو بدلوں گا، میں تعلیمی اور صحت کے نظام بدلوں گا، لیکن وہ پونے چار سال میں اس جانب ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکے۔ابھی سیلاب سے تین کروڑ لوگ متاثر ہوئے ہیں، 10لاکھ مکانات بہہ گئے ہیں، اگر عمران خان ایک لاکھ مکانات بھی بناتے تو اب ہم سیلاب متاثرین کو آسانی کے ساتھ وہاں منتقل کرتے، لیکن ایک ٹینٹ بھی نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصان کو کم کیا جاسکتا تھا اگر2010کے فلڈ کمیشن کی رپورٹ پر کوئی حکومت عمل کرتی۔ سیلاب کے پورے ڈیزاسٹر کے دوران ہنوز حکومت نظر نہیں آرہی، نہ سندھ میں نظر آتی ہے، نہ بلوچستان میں نظر آتی ہے اور نہ گلگت بلتستان میں نظرآتی ہے اور اتنی افراتفری ہے کہ جب وزیر اعظم شہباز شریف گلگت بلتستان گئے تو وزیر اعلیٰ جی بی نے ان کا استقبال بھی نہیں کیا، وہ اکیلے گئے اور لوگوں سے مل کر واپس آگئے۔اس مصیبت کے لمحہ میں بھی آج تک شہباز شریف کی وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی، اگر وفاقی اور صوبائی حکومت مصیبت کے اس لمحہ میں بھی ایک پیج پر نہیں آتے تو تین کروڑ30 لاکھ سیلاب متاثرین کی خدمت اور دوبارہ بحالی کا کام کیسے ہو گا۔ میں پاکستان کے عوام کو100بار سلام پیش کرتا ہوں جس طرح انہوں نے الخدمت فاؤنڈیشن پاکستان اوردیگر رفاہی اداروں پر اعتماد کااظہار کیا، لیکن جب تک حکومت اپنی ذمہ داری پوری نہ کرے یہ کام مشکل ہوگا۔ حکومت کی جانب سے جو امدادسیلاب متاثرین میں تقسیم بھی کی گئی ہے وہ پسند اور ناپسند کی بنیاد پر تقسیم کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ کم ازکم سیلاب کے دورانیے میں سیاست نہ کی جائے اوربغیر کسی تعصب اور بغیر کسی سیاسی نفرت کے سب کو یکساں طور پر ڈیل کیا جائے اوراس کے لئے مرکزی حکومت اور صوبائی حکومت کا ایک پیچ پر آنا بہت ضروری ہے۔ وفاقی اور صوبائی ڈیزاسٹر کے محکمے بھی بری طرح ناکام ہو گئے ہیں۔ تین کروڑ30لاکھ سیلاب زدگان ہماری توجہ کے مستحق ہیں لیکن مجھے افسوس ہے کہ قومی سطح پر عوام تو کچھ کررہے ہیں لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں