0

مفتی عظمت اللہ کا ہنگو پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس

ہنگو(مانند نیوز) ہنگو کے علاقے بلیامینہ میں خاندانی تنازعے میں سیاسی اثر و رسوخ استعمال کرنے والوں کو روکا جائے، خاندانی دشمنی میں مفتی محب اللہ قتل ہوئے، میرے سمیت پانچ بھائیوں پر ایف ائی ار درج کی گئی، عدالتوں سے رہا ہو کر مجرم کو ہنگو پولیس کے حوالے کیا، ہنگو پولیس ہمیں تحفظ فراہم کرئے اور ہماری جائیداد ہمارے حوالے کرئے۔ان خیالات کا اظہار علاقہ بلیا مینہ سے تعلق رکھنے والے مفتی عظمت اللہ نے ہنگو پریس کلب میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے والد مولانا محمد عمر وفات پا گئے ہیں اور ان کے مدرسے  سمیت دیگر جائیداد میں بھائیوں میں کشیدگی کے باعث ہمارے بھائی مفتی محب اللہ قتل ہوئے جس کے بعد میرے سمیت ہم پانچ بھائیوں کے خلاف ایف ائی ار درج کی گئی۔اور ہم نے عدالتوں سے انصاف حاصل کیا۔اس دوران ہنگو کے ڈی پی او نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ اصل مجرم کو قانون کے حوالے کر دیں۔اپ کو اپنی جائیداد اور املاک واپس کر دی جائیں گئیں۔اس یقین دہا نی پر ہم نے اپنے بھائی ولی اللہ کو قانون کے حوالے کیا۔اس کے بعد سے تا حال ہمارا مدرسہ، ہمارے گھر بار اور سب جائیداد مخالفین کے قبضے میں ہے اور ہم در بدر ہیں۔ایسے میں ہمارے قریبی عزیز مفتی عبید اللہ سیاسی اثر و رسوخ استعمال کر رہے ہیں۔اور یوں ہنگو انتظامیہ ہماری فریاد سننے کو تیار نہیں۔مفتی  عظمت اللہ نے کہا کہ کئی دنوں سے ہنگو پولیس افسران کے دفاتر کے چکر کاٹ رہا ہوں۔مگر کوئی شینوائی نہیں ہو رہی اور ہماری مایوسی میں اضافہ ہو رہا ہے۔مفتی عظمت اللہ نے ائی جی خیبر پختون خواہ، ار پی او کوہاٹ اور ڈی پی او ہنگو سے مطالبہ کیا ہے کہ میری فریاد سنی جائے، ہمیں انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے۔اور ہمارے مدرسے اور املاک کو ہمارے حوالے کیا جائے۔تاکہ ہم اپنے خاندان کو چھت فراہم کر کے محنت مزدوری اور معمولات زندگی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

خبر پر آپ کی رائے

اپنا تبصرہ بھیجیں